جواب:
سورۃ الاحقاف کی آیت اکیس (21) میں **'احقاف'** یعنی **ریت کے ٹیلوں والی جگہ** کا ذکر آیا ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ الاحقاف رکھا گیا ہے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں **قوم عاد** آباد تھی۔
جواب:
سورۃ الاحقاف کا خلاصہ **توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات** اور **حضرت محمد رسول اللہ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کو تسلی دینا** ہے۔
جواب:
سورۃ الاحقاف کے دو علمی و عملی نکات یہ ہیں:
1. قیامت کے دن **مشرکین کے بنائے ہوئے جھوٹے معبود ان کے دشمن** ہوں گے۔
2. اللہ تعالیٰ نے انسان کو **والدین کے ساتھ اچھا سلوک** کرنے کا حکم فرمایا ہے۔
جواب:
قومِ عاد جزیرہ عرب کے جنوبی علاقے **عمان کے قریب** رہتی تھی۔ انہیں اپنی **جسمانی طاقت پر بہت گھمنڈ** تھا۔ حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بننے کی دعوت دی لیکن انہوں نے انکار کیا۔ بالآخر یہ قوم اپنی جسمانی طاقت اور غرور کے ساتھ **ہلاکت کا شکار** ہو گئی۔
جواب:
سورۃ الاحقاف **مکی سورت** ہے۔ اس میں **پینتیس (35) آیات** ہیں۔
جواب:
احقاف کا معنی ہے **ریت کے ٹیلے**۔ جس جگہ قوم عاد آباد تھی اسے احقاف کہا جاتا تھا کیوں کہ وہاں ریت کے بہت سے ٹیلے تھے۔ سورۃ الاحقاف کی آیت اکیس (21) میں اس جگہ کا ذکر آیا ہے اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ الاحقاف رکھا گیا ہے۔
جواب:
احقاف کا معنی ہے: **ریت کے ٹیلے**۔ جس جگہ قوم عاد آباد تھی اسے احقاف کہا جاتا تھا کیوں کہ وہاں ریت کے بہت سے ٹیلے تھے۔
جواب:
یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب **جنات کی ایک جماعت** نے حضرت محمد ﷺ سے قرآن مجید سنا تھا۔ یہ واقعہ **ہجرت سے پہلے** اس وقت پیش آیا جب آپ ﷺ **طائف سے واپس تشریف لا رہے تھے**۔
جواب:
ہجرت سے پہلے ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ طائف سے مکہ تشریف لا رہے تھے۔ **نخلہ کے مقام پر** آپ ﷺ فجر کی نماز میں قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے جب جنات کی ایک جماعت نے قرآن مجید سنا۔
جواب:
سورۃ الاحقاف کا خلاصہ **توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات اور حضرت محمد ﷺ کو تسلی دینا** ہے۔
جواب:
سورۃ الاحقاف کے شروع میں **شرک کی مذمت** کی گئی ہے، پھر **قرآن مجید، رسالت اور آخرت پر مشرکین کے اعتراضات کے جواب** دیے گئے ہیں۔
جواب:
اس سورت میں **والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین** کی گئی ہے۔ ماں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اولاد کے لیے بہت سی **مشقتیں برداشت** کرتی ہے۔
جواب:
اس سورت میں اولاد کے **شکرگزار ہونے** اور **قناعت والی زندگی گزارنے** کو ان کی بہترین خوبی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
جواب:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی عبادت کے بعد اپنے **والدین سے حسن سلوک** کو سب سے اہم قرار دیا ہے۔ یعنی حقوق العباد میں سب سے اولین حق **والدین** کا ہے۔
جواب:
قرآن مجید میں قومِ عاد کا ذکر تاریخ کے ایک برے کردار کی مثال کے طور پر کیا گیا ہے۔ قومِ عاد جزیرۂ عرب کے جنوبی علاقے **عمان کے قریب** رہتی تھی۔ انہیں اپنی **جسمانی طاقت پر بہت گھمنڈ** تھا۔ حضرت ہود علیہ السلام نے اس قوم کو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بننے کی دعوت دی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر یہ قوم اپنی جسمانی طاقت اور غرور کے ساتھ **ہلاکت کا شکار** ہو گئی۔
جواب:
سورۃ الاحقاف کے آخر میں **جنات کا حضرت محمد خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ سے قرآن مجید سن کر ایمان لانے کا واقعہ** ہے اور **آخرت کا تذکرہ** کیا گیا ہے۔
جواب:
یہ سورت سفر طائف کے بعد نازل ہوئی تھی اس لیے اس میں حضرت محمد ﷺ کو **خصوصی تسلی** سے نوازا گیا ہے اور آپ ﷺ کو **ثابت قدم رہنے کا حکم** دیا گیا ہے۔ جنات کا اسلام قبول کرنا بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کی **حوصلہ افزائی** کی ہی ایک صورت تھی۔
جواب:
اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا لوگ جن معبودوں کو پکارتے اور پوجا کرتے ہیں وہ **نہ تو ان کی پکار سن سکتے ہیں اور نہ قیامت تک ان کی پکار کا کوئی جواب دے سکتے ہیں**۔
جواب:
قرآن مجید ظالموں کو **اللہ تعالیٰ کے عذاب سے خبردار** کرتا ہے اور نیک لوگوں کو **جنت اور اس کی نعمتوں کی خوش خبری** دیتا ہے۔
جواب:
اللہ تعالیٰ آخرت میں کافروں کی نیکیاں قبول نہیں فرمائے گا کیوں کہ ان کی نیکیوں کا بدلہ انہیں **دنیا میں ہی مل جاتا ہے**۔
جواب:
جب جنات نے حضرت محمد ﷺ سے قرآن مجید سنا تو نہ صرف وہ **ایمان لے آئے** بلکہ انہوں نے اپنی قوم کے پاس جا کر **انہیں بھی ایمان لانے کی دعوت دی**۔
جواب:
آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کی شدت دیکھ کر لوگوں کو ایسا محسوس ہوگا کہ وہ دنیا میں **ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے**۔
جواب:
یہ سورت **اُس وقت نازل ہوئی جب جنات کی ایک جماعت نے حضرت محمد سے قرآن مجید سنا**۔ یہ واقعہ **ہجرت سے پہلے** اُس وقت پیش آیا جب آپ طائف سے واپس تشریف لا رہے تھے۔ اس سورت میں **پینتیس (35) آیات** ہیں۔
جواب:
والدین کے ساتھ **اچھا سلوک کرنے والی اولاد** کو اللہ تعالیٰ بخشش اور جنت عطا فرمائے گا۔
جواب:
ترجمہ: **اور نیک لوگوں کو خوش خبری دے دیجیے۔**
جواب:
ترجمہ: **یہ (ان اعمال کا) بدلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔**
جواب:
ترجمہ: **(یہ) ایسی آندھی ہے جس میں درد ناک عذاب ہے۔**
جواب:
ترجمہ: **یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچ گیا۔**
جواب:
ترجمہ: **بے شک میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔**
جواب:
ترجمہ: **یہی لوگ جنت والے ہیں۔**
جواب:
ترجمہ: **بے شک جن لوگوں نے کہا۔**
جواب:
ترجمہ: **اور میرے لیے میری اولاد کو نیک بنا دے۔**
جواب:
سورۃ الاحقاف کی تعلیمات کی رو سے میں اپنے والدین کے ساتھ **بہترین حسن سلوک** کروں گا، کیونکہ اس سورت میں خصوصی طور پر والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔ اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والی اولاد کو اللہ تعالیٰ **بخش دے گا اور جنت عطا فرمائے گا**۔