جواب:
سورۃ ص کا آغاز حروف مقطعات میں سے حرف 'صاد' سے ہوتا ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ ص رکھا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ ص کا خلاصہ **عقیدہ رسالت کا بیان** ہے۔
جواب:
سورۃ ص کے دو علمی و عملی نکات یہ ہیں:
1. قرآن مجید کو سمجھنے کے دو درجے ہیں: ایک **تدبر** یعنی قرآن مجید کی آیات پر گہرا غور و فکر کرنا اور دوسرا **تذکر** یعنی قرآن مجید سے نصیحت حاصل کرنا۔
2. اصل اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں **جنت** میں ہوں گی۔
جواب:
ایک مرتبہ **قریش کے سردار** حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کے چچا حضرت ابوطالب کے پاس آئے اور مطالبہ کیا کہ حضرت محمد ﷺ ہمارے **بتوں کو برا کہنا چھوڑ دیں**۔ جب آنحضور ﷺ کو بلا کر یہ تجویز رکھی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: 'میں ان سے ایسا کلمہ کہلانا چاہتا ہوں جس کے ذریعے سارا عرب ان کے سامنے جھک جائے گا اور یہ پورے عجم کے مالک ہو جائیں گے۔' اس کے بعد آپ ﷺ نے **کلمہ توحید** پڑھا۔ یہ سن کر تمام لوگ کپڑے جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: 'کیا ہم سارے معبودوں کو چھوڑ کر ایک کو اختیار کریں؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے!'
جواب:
سورۃ ص **مکی سورت** ہے۔ اس میں **اٹھاسی (88) آیات** ہیں۔
جواب:
سورۃ ص کا آغاز **حروف مقطعات** میں سے حرف **'صاد'** سے ہوتا ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ ص رکھا گیا ہے۔
جواب:
سرداران قریش نے حضرت ابوطالب سے کہا کہ اگر حضرت محمد ﷺ **ہمارے بتوں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دیں** تو ہم انھیں ان کے دین پر عمل کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔
جواب:
قریش کے وفد کی تجویز کے جواب میں آنحضور ﷺ نے فرمایا: 'میں ان سے ایسا کلمہ کہلانا چاہتا ہوں جس کے ذریعے **سارا عرب ان کے سامنے جھک جائے گا اور یہ پورے عجم کے مالک ہو جائیں گے**۔' پھر آپ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ نے کلمہ توحید پڑھا۔
جواب:
آنحضور ﷺ کا جواب سن کر سردارانِ قریش اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: 'کیا ہم سارے معبودوں کو چھوڑ کر ایک کو اختیار کر لیں؟ **یہ تو بڑی عجیب بات ہے**۔'
جواب:
سورۃ ص کا خلاصہ **عقیدہ رسالت کا بیان** ہے۔
جواب:
سورۃ ص میں **حضرت محمد ﷺ اور آپ کی دعوت پر مشرکین مکہ کے اعتراضات کا جواب** دیا گیا ہے اور **سابقہ انبیاء کو جھٹلانے والی قوموں کا عبرت ناک انجام** بیان کیا گیا ہے۔
جواب:
سورت کے اختتام پر حضرت **داؤد علیہ السّلام** اور ان کے فرزند حضرت **سلیمان علیہ السّلام** کے واقعات بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
جواب:
سورۃ ص میں حضرت **ایوب علیہ السّلام** کے پاؤں مارنے سے **چشمہ شفا جاری کرنے** کا معجزہ ذکر ہوا ہے۔
جواب:
سورۃ ص کے آخر میں حضرت **آدم علیہ السّلام** کا ذکر آیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کی **بے ادبی کرنے کی وجہ سے شیطان لعنت کا حق دار بنا**۔
جواب:
1. انبیاء کرام کی دعوت کو جھٹلانے والوں کا **دنیا اور آخرت میں برا انجام** ہوتا ہے۔
2. اصل اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں **جنت** میں ہوں گی۔
جواب:
اللہ تعالیٰ کی راہ میں انبیاء کرام کو بھی ستایا گیا ہے۔ ہمیں بھی دین کی راہ میں آنے والی **تکالیف برداشت کرنے کے لیے تیار** رہنا چاہیے۔
جواب:
سورۃ ص کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کسی چیز کو **بے مقصد پیدا نہیں کیا**۔ ہمیں بھی اپنے مقصد زندگی یعنی **اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کوتاہی نہیں** کرنی چاہیے۔
جواب:
قرآن مجید کو سمجھنے کے دو درجے ہیں: ایک **تدبر** یعنی قرآن مجید کی آیات پر **گہرا غور و فکر** کرنا اور دوسرا **تذکر** یعنی قرآن مجید سے **نصیحت حاصل** کرنا۔
جواب:
ہمیں مشکلات اور بیماریوں میں **اللہ تعالیٰ ہی کو پکارنا چاہیے**، وہی مشکلات کو دور فرمانے والا اور شفا عطا فرمانے والا ہے۔
جواب:
قیامت کے دن دین سے غافل رہنے والے اور ان کے پیروکار جہنم میں **ایک دوسرے سے جھگڑیں گے** اور ایک دوسرے کے لیے **زیادہ عذاب کی بد دعا** کریں گے۔
جواب:
سورۃ ص کے دو مضامین یہ ہیں:
1. مشرکین مکہ کے **اعتراضات کا جواب** دیا گیا ہے۔
2. مختلف **انبیاء کا تذکرہ** کیا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ ص میں سابقہ انبیاء خصوصاً حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعے سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے کے دو فوائد درج ذیل ہیں:
1. بیماری کی صورت میں **شفا حاصل** ہوتی ہے۔
2. **مشکلات کا خاتمہ** ہوتا ہے۔