جواب:
صافات کا معنی ہے: **صف باندھ کر کھڑے ہونے والے فرشتے**۔ سورۃ الصّفٰت کا آغاز اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے مختلف اوصاف بیان فرما کر کیا ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ الصّفٰت ہے۔
جواب:
سورۃ الصّٰفّٰت کا خلاصہ **توحید، رسالت اور آخرت کا بیان اور مشرکین کے غلط عقائد کا رَد** ہے۔
جواب:
سورۃ الصّٰفّٰت کے مطالعہ سے معلوم ہونے والے دو علمی و عملی نکات یہ ہیں:
1. **برے لوگوں سے دوستیاں تباہی اور ہلاکت کا ذریعہ ہیں**۔ اس لیے ہمیں برے لوگوں کی دوستی سے بچنا چاہیے۔
2. اللہ تعالیٰ کی **تسبیح اور اس کے ذکر سے انسان کی پریشانیاں دور اور مشکلات حل ہوتی ہیں**۔
جواب:
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو اپنے بیٹے **حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو ذبح کرنے کا جو حکم دیا تھا** اور انہوں نے قربانی کے جس جذبے سے اس حکم کی تعمیل کی تھی، اس کا ذکر تفصیل سے اس سورت میں کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے **حضرت اسحاق علیہ السّلام** کا بھی ذکر آیا ہے۔
جواب:
سورۃ الصّٰفّٰت **مکی سورت** ہے۔ اس میں **ایک سو بیاسی (182) آیات** ہیں۔
جواب:
اس سورت کی پہلی آیت ہی میں الصّٰفّٰت کا لفظ آیا ہے، جس کا معنی ہے: 'صف باندھ کر کھڑے ہونے والے فرشتے'۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ الصّٰفّٰت ہے۔
جواب:
سورۃ الصّٰفّٰت کا خلاصہ **توحید، رسالت اور آخرت کا بیان اور مشرکین کے غلط عقائد کا رَد** ہے۔
جواب:
**توحید، رسالت، آخرت کا بیان اور مشرکین کے غلط عقائد کا رَد** سورۃ الصّٰفّٰت کے بنیادی موضوعات ہیں۔
جواب:
سورۃ الصّٰفّٰت میں مشرکین کے اس عقیدے کو غلط قرار دیا گیا ہے جس کی رو سے وہ کہا کرتے تھے کہ فرشتے **اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں** ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت کا آغاز فرشتوں کے اوصاف سے کیا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ الصّٰفّٰت میں کفار کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ان کی تمام تر مخالفت کے باوجود اس دنیا میں **اسلام ہی غالب آ کر رہے گا**۔
جواب:
سورۃ الصّٰفّٰت میں **حضرت نوح علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت لوط علیہ السلام، حضرت الیاس علیہ السلام، حضرت یونس علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام** کا ذکر آیا ہے۔
جواب:
سورۃ الصّٰفّٰت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر قدرے تفصیل سے آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے **حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا جو حکم دیا تھا** اور انہوں نے قربانی کے جس جذبے سے اس حکم کی تعمیل کی تھی، اس کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت **اسحاق علیہ السلام** کا بھی ذکر آیا ہے۔
جواب:
1. فرشتے اللہ تعالیٰ کے لیے **عاجزی** کرتے ہیں اور ہمیشہ اس کے احکام پر **عمل پیرا** ہوتے ہیں۔
2. تمام انبیاء کرام پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے **سلامتی کا وعدہ** ہے۔
جواب:
سورۃ الصّٰفّٰت میں بتایا گیا ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے لیے **عاجزی** کرتے ہیں اور ہمیشہ اس کے **احکام پر عمل پیرا** ہوتے ہیں۔
جواب:
اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ کافر سردار اور ان کی پیروی کرنے والے قیامت کے دن **آپس میں جھگڑیں گے** اور اپنی گمراہی کا الزام ایک دوسرے پر ڈالیں گے۔
جواب:
برے لوگوں سے دوستیاں تباہی اور ہلاکت کا ذریعہ ہیں۔ اس لیے ہمیں برے لوگوں کی دوستی سے بچنے کے لیے کہا گیا ہے۔
جواب:
اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ **بت اور جھوٹے معبود اپنے آپ کو نقصان سے نہیں بچا سکتے** تو مشرکین کو کیا بچائیں گے۔
جواب:
ہمیں اپنی **محبوب ترین چیزوں** کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں نثار کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
جواب:
اللہ تعالیٰ کی **تسبیح اور اس کے ذکر** سے انسان کی **پریشانیاں دور اور مشکلات حل** ہوتی ہیں۔
جواب:
سورۃ الصّٰفّٰت کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے **رسولوں اور فرماں بردار بندوں** کو اکیلا نہیں چھوڑتا، ان کی ضرور مدد فرماتا ہے۔
جواب:
سورۃ الصّٰفّٰت میں **حضرت ابراہیم علیہ السلام** کے جذبہ قربانی کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا جو حکم دیا تھا اور انہوں نے قربانی کے جس جذبے سے اس حکم کی تعمیل کی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے سراہا ہے۔
جواب:
1. **حضرت اسماعیل علیہ السلام**
2. **حضرت اسحاق علیہ السلام**
جواب:
صافات کا معنی ہے **صف باندھ کر کھڑے ہونے والے فرشتے**۔ اس سورت کا آغاز اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے مختلف اوصاف بیان فرما کر کیا ہے۔ یہ **مکی سورت** ہے اور اس سورت کا خلاصہ **توحید، رسالت، آخرت کا بیان اور مشرکین کے غلط عقائد کا رَد** ہے۔
جواب:
سورۃ الصّٰفّٰت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر قدرے تفصیل سے **سنتِ قربانی** کے حوالے سے آیا ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا حکم دیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکمل اطاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ذبح کرنا چاہا، لیکن چھری نہ چلی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بدلے میں ایک **مینڈھا ذبح کرنے کے لیے بھیج دیا**۔
اسی عظیم جذبہ اطاعت کی یاد میں **عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کی سنت کو 'سنتِ ابراہیمی'** کہا جاتا ہے۔
جواب:
سورۃ الصّٰفّٰت کی تعلیمات کی رو سے ہمیں **بُرے لوگوں** کی دوستی سے اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بُرے لوگوں سے دوستیاں **تباہی اور ہلاکت کا ذریعہ** ہیں۔