جواب:
سورۃ یٰس کا آغاز حروف مقطعات میں سے **یٰس** سے ہوتا ہے اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ یٰس ہے۔
جواب:
سورۃ یٰس کا خلاصہ **جامع اور بلیغ انداز میں توحید، رسالت اور آخرت کا بیان** ہے۔
جواب:
سورۃ یٰس کے مطالعہ سے معلوم ہونے والے دو علمی و عملی نکات یہ ہیں:
1. قرآن مجید شاعری نہیں بلکہ ایک **واضح نصیحت** ہے تاکہ حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ اس کے ذریعے لوگوں کو **خبردار** کریں۔
2. **مویشی** اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہیں جن پر ہم سواری کرتے ہیں۔ ان کا گوشت کھاتے اور دودھ پیتے ہیں۔ ان کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔
جواب:
سورۃ یٰس بہت فضیلت والی سورت ہے اسے **قرآن مجید کا دل** قرار دیا گیا ہے۔ حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ نے **مرنے والوں کے پاس** سورۃ یٰس پڑھنے کی ترغیب فرمائی ہے۔
جواب:
سورۃ یٰس **مکی سورت** ہے۔ اس میں **تراسی (83) آیات** ہیں۔
جواب:
اس سورت کا آغاز **حروف مقطعات** میں سے **یٰس** سے ہوتا ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ یٰس ہے۔
جواب:
ایک روایت کے مطابق جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے سورۃ یٰس پڑھتا ہے اس کے **سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں**۔
جواب:
جامع ترمذی کی ایک روایت کے مطابق ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن مجید کا دل **سورۃ یٰس** ہے۔ جس نے سورۃ یٰس کو پڑھا اللہ تعالیٰ اسے **دس مرتبہ قرآن مجید پڑھنے کا اجر** عطا فرمائے گا۔
جواب:
سورۃ یٰس کی تلاوت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ **دس مرتبہ قرآن مجید پڑھنے کا اجر** عطا فرمائے گا۔
جواب:
ایک روایت کے مطابق جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے **سورۃ یٰس** پڑھتا ہے اس کے **سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں**۔
جواب:
سورۃ یٰس کا خلاصہ **جامع اور بلیغ انداز میں توحید، رسالت اور آخرت کا بیان** ہے۔
جواب:
سورۃ یٰس کے مرکزی موضوعات **جامع اور بلیغ انداز میں توحید، رسالت اور آخرت کا بیان** ہیں۔
جواب:
سورۃ یٰس میں **ایمان کا بیان** ہے۔ اس وجہ سے اسے مرنے والوں کے پاس پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے تا کہ ان کے سامنے **ایمان کا بیان تازہ** ہو جائے اور ان کا **خاتمہ ایمان پر ہو سکے**۔
جواب:
سورۃ یٰس میں رسالت کے سلسلے میں ایک ایسی قوم کا واقعہ ذکر ہوا ہے جس نے **حق کی دعوت قبول نہ کی** بلکہ حق کے داعیوں کے ساتھ ظلم و بربریت کا معاملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں حق کے داعی کا انجام تو بہترین ہوا لیکن **حق کا انکار کرنے والے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی پکڑ میں آگئے**۔
جواب:
سورۃ یٰس میں مذکور قوم نے **حق کی دعوت قبول نہ کی** اور **حق کے داعیوں کے ساتھ ظلم و بربریت** کا معاملہ کیا اس لیے اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔
جواب:
سورۃ یٰس کے دوسرے حصے میں اللہ تعالیٰ کی **وحدانیت، نعمتوں اور اس کی قدرتوں کا بیان** ہے، **سورج، چاند، ستاروں اور کائنات کے اس شاندار نظام** کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ یٰس کے آخری حصے میں **قیامت کے حالات، نافرمانوں اور فرماں برداروں کے انجام** اور **قیامت کے واقع ہونے پر دلائل** دیے گئے ہیں۔
جواب:
سورۃ یٰس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید حضرت محمد رسول اللہ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ پر اس لیے نازل فرمایا تاکہ آپ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ **غفلت میں پڑے لوگوں کو خبردار کر سکیں**۔
جواب:
سورۃ یٰس کے مطابق **سورج کا مقررہ راستے پر چلنا** اور **چاند کا منزلیں طے کرنا** بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ انہی کے ذریعے ہم **تاریخ اور دنوں کا اندازہ** لگاتے ہیں۔
جواب:
آخرت میں کامیاب ہونے والے **جنت کی گھنی چھاؤں میں تختوں پر آرام** کریں گے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے **سلام** کہا جائے گا۔
جواب:
سورۃ یٰس میں بتایا گیا ہے کہ قرآن مجید **شاعری نہیں** ہے۔ بلکہ ایک **واضح نصیحت** ہے تاکہ حضرت محمد ﷺ اس کے ذریعے لوگوں کو خبردار کریں۔
جواب:
سورۃ یٰس کے مطابق مویشی اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہیں جن پر ہم **سواری** کرتے ہیں، ان کا **گوشت کھاتے** اور **دودھ پیتے** ہیں۔ ان کے اور بھی بہت سے فائدے ہیں۔
جواب:
سورۃ یٰس کے مطابق اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں ہے، وہ جیسے ہی کسی کام کا حکم فرماتا ہے تو وہ **فوراً ہو جاتا ہے**۔
جواب:
نزول قرآن پاک کے دو مقاصد درج ذیل ہیں:
1. قرآن مجید ایک **واضح نصیحت** ہے۔
2. قرآن پاک کے نزول کا مقصد **حصول ہدایت** ہے۔
جواب:
قرآن مجید کے نزول کے دو مقاصد یہ ہیں:
1. قرآن مجید اس لیے نازل کیا گیا تاکہ لوگ اس کے ذریعے **اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈریں**۔
2. لوگ اس قرآن مجید میں **غور و فکر** کر کے **نصیحت حاصل** کریں۔
جواب:
سورۃ یٰس کے دو فضائل درج ذیل ہیں:
1. جس نے سورۃ یٰس کو پڑھا اللہ تعالیٰ اسے **دس مرتبہ قرآن مجید پڑھنے کا اجر** عطا فرمائے گا۔
2. نبی کریم ﷺ نے **مرنے والوں کے پاس** سورۃ یٰس پڑھنے کی **ترغیب** فرمائی ہے۔
جواب:
سورۃ یٰس میں **سورج، چاند، ستاروں اور کائنات کے اس شاندار نظام** کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔