جواب:
سورۃ فاطر کا نام 'فاطر' اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے 'پیدا کرنے والا' یا 'خالق'۔ اسی لفظ کی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ فاطر رکھا گیا۔
جواب:
سورۃ فاطر کا خلاصہ مشرکین کو توحید اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دینا ہے۔
جواب:
سورۃ فاطر کے دو علمی و عملی نکات یہ ہیں:
1. اللہ تعالیٰ جب کسی کو کچھ عطا فرمائے تو کوئی اسے روکنے والا نہیں اور جب اللہ تعالیٰ کسی سے کچھ روک لیتا ہے تو کوئی دوسرا اسے دے نہیں سکتا۔ (سورۃ فاطر 2)
2. اللہ تعالیٰ ہمارا رازق ہے، ہمیں اس کے احسانات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔
جواب:
اس کا دوسرا نام 'سورۃ الملائکہ' بھی ہے کیوں کہ اس کی پہلی آیت میں فرشتوں کا ذکر بھی آیا ہے۔
جواب:
سورۃ فاطر مکی سورت ہے۔ اس میں پینتالیس (45) آیات ہیں۔
جواب:
اس سورت کا نام 'فاطر' پہلی آیت سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے 'پیدا کرنے والا'۔ اسی لفظ کی وجہ سے اس سورت کا نام فاطر رکھا گیا ہے۔
جواب:
اس سورت کا دوسرا نام 'سورۃ الملائکہ' ہے۔ اس کی پہلی آیت میں فرشتوں کا ذکر آیا ہے، اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ الملائکہ بھی ہے۔
جواب:
سورۃ فاطر کا خلاصہ مشرکین کو توحید اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دینا ہے۔
جواب:
سورۃ فاطر کا مرکزی موضوع مشرکین کو توحید اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دینا ہے۔
جواب:
سورۃ فاطر میں کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں زندگی کے دھوکے اور شیطان کی دشمنی سے خبردار کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی شرک کی ہلاکت خیزی اور جھوٹے معبودوں کی بے بسی کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ فاطر میں شرک کی ہلاکت خیزی اور جھوٹے معبودوں کی بے بسی کا ذکر کیا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ فاطر میں پہاڑوں اور جانوروں کے مختلف رنگوں کی حکمت میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی ڈر انھیں حاصل ہوتا ہے جو علم و آگہی رکھتے ہیں۔
جواب:
سورۃ فاطر میں موجود اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں پر غور کرنے سے درج ذیل باتیں واضح ہوتی ہیں:
1. جس رب نے یہ کائنات بنائی ہے اسے اس کا نظام چلانے کے لیے کسی مددگار کی ضرورت نہیں۔
2. یہ کائنات بغیر مقصد کے پیدا نہیں کی گئی۔
3. جو ذات اس کائنات کو وجود میں لائی ہے اس کے لیے اسے ختم کرنا کچھ مشکل نہیں، اور اسے ختم کر کے نئے سرے سے آخرت کا عالم پیدا کرنا بھی مشکل نہیں۔
جواب:
سورۃ فاطر میں قرآن مجید کی عظمت و صداقت کا ذکر فرماتے ہوئے اس کی خدمت کرنے والوں کو بشارت دی گئی ہے۔
جواب:
سورۃ فاطر کے آخر میں مشرک اور اللہ تعالیٰ کی نافرمان قوموں کا عبرت ناک انجام بیان کیا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ فاطر کے دو علمی و عملی نکات یہ ہیں:
1. اللہ تعالیٰ ہمارا رازق ہے۔ ہمیں اس کے احسانات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔
2. تمام انسان اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔
جواب:
سورۃ فاطر میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو کچھ عطا فرمائے تو کوئی اسے روکنے والا نہیں اور جب اللہ تعالیٰ کسی سے کچھ روک لیتا ہے تو کوئی اسے دے نہیں سکتا ہے۔
جواب:
سورۃ فاطر کے مطابق اللہ تعالیٰ کلمہ توحید کو اختیار کرنے اور نیک اعمال کرنے والوں کو عزت عطا فرماتا ہے جب کہ شرک کرنے اور سازشیں کرنے والوں پر عذاب نازل کرتا ہے۔
جواب:
سورۃ فاطر کے مطابق قرآن مجید کی تلاوت کرنا، نماز قائم کرنا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ایک ایسی تجارت ہے جس میں نقصان کا اندیشہ نہیں۔
جواب:
سورۃ فاطر کا نام 'فاطر' پہلی آیت سے لیا گیا ہے۔ جس کا معنی 'پیدا کرنے والا' ہے۔ اس کا دوسرا نام 'سورۃ الملائکہ' بھی ہے کیوں کہ اس کی پہلی آیت میں فرشتوں کا ذکر بھی آیا ہے۔ سورۃ فاطر کا خلاصہ مشرکین کو توحید اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دینا ہے۔
جواب:
سورۃ فاطر میں پہاڑوں اور جانوروں کے مختلف رنگوں کی حکمت میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔
جواب:
سورۃ فاطر میں ہمیں قدرت کی نشانیوں پر غور کرنے کی ترغیب اس لیے دی گئی ہے کیوں کہ قدرت کی نشانیوں پر غور کرنے سے انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اور انسان خالق کائنات کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نافرمانی سے بچتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی ڈر انھیں ہی حاصل ہوتا ہے جو علم اور آگہی رکھتے ہیں۔