جواب:
سورۃ سبا کا خلاصہ "اسلام کے بنیادی عقائد کا بیان اور آخرت کے بارے میں مشرکین کے اعتراضات کا جواب" ہے۔
جواب:
اس سورۃ میں قومِ سبا کا ذکر ہے اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ سبا رکھا گیا ہے۔
جواب:
1- محنت میں عظمت ہے۔ حضرت داؤد علیہ السّلام اپنے ہاتھوں سے لوہے کی زرہیں اور زنجیریں بناتے تھے۔
2- مال و اولاد اللہ تعالیٰ کی رضا کی نشانی نہیں بلکہ دنیا کی زندگی کا امتحان ہیں۔
جواب:
قومِ سبا یمن میں آباد تھی۔ اللہ نے انھیں ہر طرح کی خوش حالی سے نوازا تھا لیکن انھوں نے ناشکری کی روش اختیار کی اور کفر و شرک کو فروغ دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کا عذاب آیا اور ان کی خوش حالی ایک قصۂ پارینہ بن کر رہ گئی۔
جواب:
سورۃ سبا مکی سورت ہے اور اس میں چون (54) آیات ہیں۔
جواب:
یمن کے علاقے میں ایک خوش حال مگر کفر و شرک میں گھری ہوئی قوم تھی جس کا نام قوم سبا تھا۔ اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا، اس سورت میں قوم سبا کا ذکر ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ سبا رکھا گیا ہے۔
جواب:
قوم سبا کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی خوش حالی سے نوازا تھا لیکن انھوں نے ناشکری کی روش اختیار کی اور کفر و شرک کو فروغ دیا اس لیے ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔
جواب:
سورۃ سبا کا خلاصہ "اسلام کے بنیادی عقائد کا بیان اور آخرت کے بارے میں مشرکین کے اعتراضات کا جواب" ہے۔
جواب:
سورۃ سبا میں اسلام کے بنیادی عقائد کا بیان اور آخرت کے بارے میں مشرکین کے اعتراضات کا جواب مرکزی موضوعات ہیں۔
جواب:
سورۃ سبا کے آغاز میں عظمتِ باری تعالیٰ کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے بارے میں مشرکین کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ سبا میں حضرت داؤد علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری اور اس کی فرماں برداری کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں عظیم الشان سلطنت، بے شمار نعمتیں اور بہت سے معجزے عطا فرمائے تھے۔
جواب:
سورۃ سبا میں قوم سبا کا ذکر ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے نعمتیں عطا کیں لیکن انھوں نے ناشکری کی روش اختیار کی۔ جس کی وجہ سے وہ دنیا میں بھی سخت عذاب کا شکار ہوئے اور آخرت کی سزا کے بھی حق دار ٹھہرے۔
جواب:
قوم سبا کے واقعے سے دنیا میں ملنے والے اقتدار یا خوش حالی میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ کو بھول جانا تباہی کو دعوت دیتا ہے۔ سورۃ سبا میں مال و اولاد کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی نشانی نہیں بلکہ دنیا کی زندگی میں امتحان کہا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ سبا کے آخر میں رسالت کا ذکر اور آخرت پر ایمان لانے کا بیان ہے۔ نیز آخرت میں نافرمانوں کے برے انجام سے بھی ڈرایا گیا ہے۔
جواب:
1- اللہ تعالیٰ کی ناشکری پر نعمت چھین لی جاتی ہے۔
2- جھوٹے معبود نہ کسی کو پہلی بار پیدا کر سکتے ہیں اور نہ دوسری بار پیدا کریں گے۔
جواب:
اللہ تعالیٰ کائنات کے ایک ایک ذرہ، اس سے بڑی یا اس سے چھوٹی ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
جواب:
سورۃ سبا میں بتایا گیا ہے کہ محنت میں عظمت ہے۔ اس حوالے سے حضرت داؤد علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے لوہے کی زرہیں اور زنجیریں بناتے تھے۔
جواب:
سورۃ سبا میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری پر نعمت چھین لی جاتی ہے۔
جواب:
سورۃ سبا میں مال و اولاد کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی نشانی نہیں بلکہ دنیا کی زندگی کا امتحان کہا گیا ہے۔
جواب:
قرآن مجید کی واضح آیات انسان کو شرک سے روکتی ہیں۔ اور دین کا صحیح تصور عطا کرتی ہیں۔
جواب:
ہمیں اخلاص کے ساتھ بغیر کسی دنیاوی لالچ کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلانا چاہیے۔
جواب:
سورۃ سبا میں بتایا گیا ہے کہ جھوٹے معبود نہ کسی کو پہلی بار پیدا کر سکتے ہیں اور نہ دوسری بار پیدا کریں گے۔