جواب:
سورۃ لقمان مکی سورت ہے۔ اس میں چونتیس (34) آیات ہیں۔
جواب:
اس سورت میں حضرت لقمان کا ذکر ہے اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ لقمان ہے۔
جواب:
سورۃ لقمان مکی دور میں اس وقت نازل ہوئی جب کفار مکہ کی مخالفت اپنے عروج پر تھی۔ وہ مختلف حیلوں، بہانوں اور پر تشدد کاروائیوں سے اسلام کی تبلیغ کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔
جواب:
اہل عرب حضرت لقمان کو ایک بہت بڑا دانش ور مانتے تھے اس لیے ان کی حکیمانہ باتوں کو بہت وزن دیتے تھے۔
جواب:
عرب شاعروں نے اپنے اشعار میں حضرت لقمان کا ایک حکیم یعنی دانا و عقل مند کی حیثیت سے تذکرہ کیا ہے۔
جواب:
قرآن مجید نے واضح فرمایا ہے کہ حضرت لقمان جیسے حکیم اور دانش ور جن کی عقل و حکمت کا تم بھی لوہا مانتے ہو، توحید کے قائل تھے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ماننے کو بہت بڑا ظلم قرار دیا تھا اور اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی کہ تم کبھی شرک مت کرنا۔
جواب:
سورۃ لقمان کا خلاصہ "توحید کے دلائل، کردار سازی اور آخرت کی یاد دہانی" ہے۔
جواب:
سورۃ لقمان کے بنیادی موضوعات توحید کے دلائل، کردار سازی اور آخرت کی یقین دہانی ہیں۔
جواب:
سورۃ لقمان کے آغاز میں قرآن مجید سے فائدہ اٹھانے والوں کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔
جواب:
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا "اے میرے بیٹے! کبھی شرک مت کرنا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔"
جواب:
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ خود عمل کرتے ہوئے دوسروں کو بھی اچھے کام کا حکم دینا اور برے کام سے منع کرنا۔
جواب:
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ زمین پر اکڑ اکڑ کر مت چلنا بلکہ زندگی کے دوسرے معاملات کی طرح چلتے ہوئے بھی میانہ روی اختیار کرنا۔ چال ڈھال اور بولنے میں بھی میانہ روی اختیار کرنا اور اپنی آواز کو دھیما رکھنا۔
جواب:
1- کبھی شرک مت کرنا، نماز قائم کرتے رہنا۔
2- اگر کوئی مصیبت آجائے تو اس پر صبر کرنا۔
جواب:
سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ کی توحید، قدرت اور صفات کو دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔
جواب:
1- شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔
2- ہمیں اپنی زندگی کے تمام معاملات میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔
جواب:
حکمت و دانائی کا تقاضا ہے کہ سب سے بڑے محسن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔
جواب:
ہمیں اپنے باپ دادا کی اندھی پیروی کی بجائے اس شخص کی پیروی کرنی چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔
جواب:
ہمیں عاجزی و انکساری اختیار کرنی چاہیے کیوں کہ تکبر اور شیخی بگھارنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
جواب:
(1) حکمت و دانائی کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کیا جائے
(2) بھلائی کا حکم دیا جائے برائی سے منع کیا جائے
(3) جو مصائب آئیں ان پر صبر کیا جائے۔
جواب:
سورۃ لقمان مکی سورت ہے اس میں چونتیس (34) آیات ہیں سورۃ لقمان مکی دور میں اس وقت نازل ہوئی جب کفار مکہ کی مخالفت اپنے عروج پر تھی۔ اور اہل مکہ پر تشدد کارروائیوں سے اسلام کی نشر و اشاعت کا راستہ روکے رہے تھے۔ اس سورت کا خلاصہ توحید کے دلائل، کردار سازی اور آخرت کی یاد دہانی ہے۔
جواب:
مشکل کے وقت میں اگر مصیبت یا پریشانی آجائے تو اس پر صبر کیا جائے۔
جواب:
حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو کی گئی نصیحتوں پر اگر عمل کیا جائے تو ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
جواب:
ایک اچھا مسلمان بننے کے لیے میں حضرت لقمان کی ان تمام نصیحتوں پر عمل کروں گا جو نصیحتیں انہوں نے اپنے بیٹے کو کہیں۔
جواب:
سورۃ لقمان میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور اولاد کی تعلیم و تربیت کی فکر کرنے کی ترغیب ہے۔ اس سورۃ کے مطالعے سے ہمارا ہمارے والدین کے ساتھ تعلق مضبوط ہوگا، ہم اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں گے اور والدین اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کی بھرپور کوشش کریں گے۔
جواب:
شخصی زندگی کو بہتر بنانے کے دو اصول:
i- خود عمل کرتے ہوئے دوسروں کو بھی اچھے کام کا حکم دینا اور برے کام سے منع کرنا۔
ii- زندگی کے دوسرے معاملات کی طرح چلتے ہوئے بھی میانہ روی اختیار کرنا۔
iii- لوگوں سے اچھے طریقے سے پیش آنا۔
iv- اگر مصیبت آجائے تو اس پر صبر کرنا۔
جواب:
اس سورت میں چوں کہ حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحتوں کا تذکرہ ہے اس لیے اس سورت کا نام سورۃ لقمان رکھا گیا ہے۔
جواب:
حضرت لقمان عرب میں ایک بڑے عقلمند اور دانش ور کی حیثیت سے مشہور تھے۔ ان کی حکیمانہ باتوں کو اہل عرب بہت وزن دیتے تھے یہاں تک کہ شاعروں نے اپنے اشعار میں ان کا ایک حکیم یعنی دانا کی حیثیت سے تذکرہ کیا ہے۔
جواب:
سورۃ لقمان کا خلاصہ "توحید کے دلائل، کردار سازی اور آخرت کی یاد دہانی" ہے۔
جواب:
1- حکمت و دانائی کا تقاضا یہ ہے کہ سب سے بڑے محسن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔
2- شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔
3- ہمیں اپنی زندگی کے تمام معاملات میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔