جواب:
سورۃ الروم مکی سورت ہے اس کی ساٹھ (60) آیات ہیں۔
جواب:
سورۃ الروم کی دوسری آیت میں روم کے مغلوب ہونے اور تیسری آیت میں اسی کے پھر سے غالب آنے کی خبر ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ الروم رکھا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ الروم کی دوسری آیت میں روم کے مغلوب ہونے اور تیسری آیت میں اس کے پھر سے غالب آنے کی پیشین گوئی ہے۔
جواب:
سورۃ الروم کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے دو پیشین گوئیاں فرمائی ہیں جو چند ہی سال میں پوری ہو گئیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مجید اللہ کا سچا کلام ہے۔
جواب:
سورۃ روم میں پہلی پیشین گوئی رومیوں کے دوبارہ غالب آنے کی تھی جنھیں ایرانیوں نے ایک بڑی شکست دی تھی۔
جواب:
سورۃ الروم کی دوسری پیشین گوئی یہ تھی کہ رومیوں کی فتح کا دن مسلمانوں کے لیے بھی خوشی کا دن ہو گا۔
جواب:
دوسری پیشین گوئی غزوہ بدر کی فتح کے دن پوری ہوئی۔ یعنی جس دن رومیوں کو فتح نصیب ہوئی۔
جواب:
رومیوں کی فتح کا دن مسلمانوں کے لیے خوشی کا دن اس طرح ثابت ہوا کہ اسی دن مسلمانوں کو میدان بدر میں عظیم فتح حاصل ہوئی تھی۔ اس طرح رومیوں کی فتح کا دن مسلمانوں کے لیے بھی خوشی کا دن تھا۔
جواب:
سورۃ الروم کا خلاصہ "اسلام کی صداقت کا بیان اور انسانوں کی کردار سازی" ہے۔
جواب:
سورۃ الروم کا مرکزی مضمون اسلام کی صداقت کا بیان اور انسانوں کی کردار سازی ہے۔
جواب:
سورۃ الروم کا آغاز روم کی فتح کی پیشین گوئی سے ہوتا ہے جو پوری ہوئی اور ایک معجزہ ثابت ہوئی اور قرآن مجید کی صداقت کی دلیل بنی۔
جواب:
روم کی فتح ایک قرآنی پیشین گوئی تھی۔ اس پیشین گوئی کا پورا ہونا قرآن کی صداقت کی دلیل تھی۔ اس لیے روم کی فتح مسلمانوں کے لیے بہت خوشی اور حوصلہ افزائی کی بات تھی۔
جواب:
سورۃ الروم کے آخر میں نافرمانوں کی ہٹ دھرمی اور ان کے برے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔
جواب:
1- اللہ تعالیٰ کے نزدیک سود سے مال گھٹتا ہے اور زکوٰۃ سے مال بڑھتا ہے۔
2- خشکی اور تری میں فساد برپا ہونا انسانوں کے برے اعمال کا نتیجہ ہے۔
جواب:
قرآن مجید میں پچھلی نافرمان قوموں کا ذکر ہمیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ الروم کے مطابق میاں بیوی کا رشتہ باہمی محبت اور ایک دوسرے سے راحت پانے کا ذریعہ ہے۔
جواب:
رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا ذریعہ ہے۔
جواب:
سورۃ الروم کے مطابق رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا ذریعہ ہے۔
جواب:
اللہ تعالیٰ کے نزدیک سود سے مال گھٹتا ہے اور زکوٰۃ سے مال بڑھتا ہے۔
جواب:
خشکی اور تری میں فساد برپا ہونا انسانوں کے برے اعمال کا نتیجہ ہے۔
جواب:
جس وقت آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت عطا ہوئی، اس وقت دنیا میں دو بڑی طاقتیں تھیں ایک ایران کی حکومت جو مشرق کے علاقے میں پھیلی ہوئی تھی اور دوسری بڑی طاقت روم کی تھی جو کہ مکہ مکرمہ کے شمال اور مغرب میں پھیلی ہوئی تھی۔ ایرانی آتش پرست تھے رومی اہل کتاب مسیحی تھے۔ ان دونوں طاقتوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔
جواب:
سورۃ الروم کی دوسری آیت میں روم کے مغلوب ہونے اور تیسری آیت میں ان کے پھر سے غالب آنے کی خبر ہے۔ اس مناسبت سے اس سورۃ کا نام سورۃ الروم رکھا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ الروم کا خلاصہ "اسلام کی صداقت کا بیان اور انسانوں کی کردار سازی" ہے۔
جواب:
سورۃ الروم کا مطالعہ کرنے سے جو علمی و عملی نکات معلوم ہوتے ہیں ان میں سے دو یہ ہیں:
1- اللہ تعالیٰ کے نزدیک سود سے مال گھٹتا ہے اور زکوٰۃ سے مال بڑھتا ہے۔
2- میاں بیوی کا رشتہ باہمی محبت اور ایک دوسرے سے راحت پانے کا ذریعہ ہے۔
جواب:
سورۃ الروم کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے دو پیشین گوئیاں فرمائی ہیں جو چند ہی سالوں میں پوری ہو گئیں۔ پہلی پیشین گوئی رومیوں کے دوبارہ غالب آنے کی تھی۔ اور دوسری پیشین گوئی اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی کہ رومیوں کی فتح کا دن مسلمانوں کے لیے بھی خوشی کا دن ہوگا۔