جواب:
عنکبوت کا معنی ہے: مکڑی۔ اس سورت کی آیت اکتالیس (41) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مشرکین کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے مکڑی کے جالے پر بھروسا کر رکھا ہو۔ اسی لیے اس سورت کا نام سورۃ العنکبوت ہے۔
جواب:
سورۃ العنکبوت کا خلاصہ "کافروں کا ظلم سہنے والے مظلوم مسلمانوں کو تسلی دینا" ہے۔
جواب:
سورۃ العنکبوت کا مطالعہ کرنے سے جو علمی و عملی باتیں معلوم ہوتی ہیں ان میں سے دو یہ ہیں:
1- شرک کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے مکڑی کے جالے کو اپنا سہارا بنایا ہو۔
2- اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے ہجرت کرنا ایک بڑی نیکی ہے۔
جواب:
سورۃ العنکبوت مکی سورت ہے اور اس میں انہتر (69) آیات ہیں۔
جواب:
عنکبوت کا معنی ہے مکڑی۔ اس سورت کی آیت (41) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مشرکین کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے مکڑی کے جالے پر بھروسا کر رکھا ہو اسی لیے اس سورت کا نام سورۃ العنکبوت ہے۔
جواب:
سورۃ العنکبوت کا خلاصہ "کافروں کا ظلم سہنے والے مظلوم مسلمانوں کو تسلی دینا" ہے۔
جواب:
سورۃ العنکبوت کا مرکزی مضمون "کافروں کا ظلم سہنے والے مظلوم مسلمانوں کو تسلی دینا" ہے۔
جواب:
سورۃ العنکبوت اس زمانے میں نازل ہوئی جب مشرکین مکہ حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی شدید مخالفت کر رہے تھے اور ان پر ظلم ڈھا رہے تھے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ اپنے اعلیٰ کردار و اخلاق کی وجہ سے اہل مکہ میں بہت مقبول تھے جب آپ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ نے لوگوں کو ایک اللہ کی طرف ایمان لانے کی دعوت دی تو وہ آپ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کے مخالف ہو گئے۔
جواب:
جب آپ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ نے ایک اللہ کی طرف ایمان لانے کی دعوت دی تو قوم آپ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کی مخالف ہو گئی۔ انھوں نے آپ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کے لیے طرح طرح کی باتیں گھڑنا شروع کر دیں۔ یہ باتیں سن کر آپ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کو بے حد رنج ہوتا تھا۔
جواب:
آپ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کو امید تھی کہ آپ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کی قوم راہ حق میں آپ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کا ساتھ دے گی۔
جواب:
نبی کریم ﷺ کو امید تھی کہ قوم راہِ حق میں آپ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کا ساتھ دے گی۔ لیکن انھوں نے آپ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں گھڑنا شروع کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو اپنی قوم کے اس رویے کا دکھ تھا۔
جواب:
سورۃ العنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو کفار کی زیادتیوں پر صبر کرنے کی تلقین فرمائی اور آپ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کو تسلی دی ہے۔
جواب:
مشرکین مکہ نے حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی زیادتیوں کا نشانہ بنایا۔
جواب:
کفار مکہ نے نبی ﷺ اور دوسرے اہل ایمان کو ظلم کا نشانہ بنا رکھا تھا۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ہدایت، ان کی تسلی اور حوصلہ افزائی کے لیے سورۃ العنکبوت نازل فرمائی۔ اس سورت میں مسلمانوں کو صبر کی تلقین کی گئی ہے۔
جواب:
اس سورت میں حضرت نوح علیہ السّلام، حضرت ابراہیم علیہ السّلام، حضرت لوط علیہ السّلام، حضرت شعیب علیہ السّلام اور حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی زندگی کی مثال دی گئی ہے۔
جواب:
اس سورت میں سابقہ انبیاء حضرت نوح علیہ السّلام، حضرت ابراہیم علیہ السّلام، حضرت لوط علیہ السّلام، حضرت شعیب علیہ السّلام اور حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے صبر و استقامت کے واقعات کا ذکر کر کے مسلمانوں کے حوصلے بلند کیے ہیں۔
جواب:
مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ظلم و ستم کے اس دور میں قرآن مجید کی تلاوت، نماز کا اہتمام اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائیں۔
جواب:
1- شرک کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے مکڑی کے جالے کو اپنا سہارا بنایا ہو۔
2- اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے ہجرت کرنا ایک بڑی نیکی ہے۔
جواب:
سورۃ العنکبوت کے مطابق ہمیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ صرف زبانی ایمان کا دعویٰ کرنے پر ہم چھوڑ دیے جائیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ ہمیں آزمائے گا اور سچے اور جھوٹے لوگوں کو الگ کر کے رہے گا۔
جواب:
ہمیں مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ کو ہی پکارنا چاہیے اور مشکل سے نکلنے پر اللہ تعالیٰ کا ہی شکر ادا کرنا چاہیے۔