جواب:
اسی سورت کی آیت پچیس (25) میں "القصص" کا لفظ آیا ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام "سورۃ القصص" رکھا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ القصص کا خلاصہ "حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرکے حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کی رسالت اور آپ کی دعوت کی سچائی کو ثابت کرنا ہے"۔
جواب:
سورۃ القصص کے مطالعے سے جو اہم علمی و عملی نکات معلوم ہوتے ہیں ان میں سے دو یہ ہیں:
1- حکمت و دانائی اور علم اللہ تعالیٰ کی خاص نعمتیں ہیں جو خاص بندوں کو عطا ہوتی ہیں۔
2- ہمیں اپنے علم اور صلاحیتوں پر اترانا نہیں چاہیے کیوں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔
جواب:
سورۃ القصص میں ایک شخص قارون کا عبرت ناک واقعہ بیان کیا گیا ہے، جس نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دی اور اپنی قوم کی بجائے فرعون کی خدمت کی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے درست راستے پر آنے کی دعوت دی لیکن وہ نہ مانا۔ یہ شخص اپنے پاس موجود مال و دولت کو اپنی ذاتی محنت اور اپنے علم کا نتیجہ قرار دیتا تھا اور اللہ تعالیٰ کے احسان اور نعمت کا انکار کرتا تھا۔ نتیجتاً قارون اپنے مال و اسباب کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا۔
جواب:
نزول کے اعتبار سے سورۃ القصص آخری مکی سورت ہے اور اس میں اٹھاسی (88) آیات ہیں۔
جواب:
سورۃ القصص کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی آخری سورت ہے۔ اس کی آیت (85) اس وقت نازل ہوئی تھی جب حضرت محمد ﷺ ہجرت کی غرض سے مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔
جواب:
اس سورت کی آیت پچیس (25) میں "القصص" کا لفظ آیا ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ القصص رکھا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ القصص کا خلاصہ "حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرکے حضرت محمد ﷺ کی رسالت اور آپ کی دعوت کی سچائی کو ثابت کرنا ہے"۔
جواب:
سورۃ القصص میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر تفصیل کے ساتھ آیا ہے کیوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات زندگی کی حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ کے ساتھ کئی چیزوں میں مشابہت ہے۔
جواب:
قارون بنی اسرائیل کا ایک شخص تھا جس نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دی اور اپنی قوم کی بجائے فرعون کی خدمت کی۔
جواب:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قارون کو درست راستے پر آنے کی دعوت دی لیکن وہ نہ مانا۔ یہ شخص اپنے پاس موجود مال و دولت کو اپنی ذاتی محنت اور اپنے علم کا نتیجہ قرار دیتا تھا اور اللہ تعالیٰ کے احسان اور نعمت کا انکار کرتا تھا۔ نتیجتاً قارون اپنے مال و دولت سمیت تباہ ہو گیا۔
جواب:
سورۃ القصص کے اختتام پر حضرت محمد ﷺ کی امت کو خصوصیت کے ساتھ یہ تلقین کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔
جواب:
سورۃ القصص کے مطالعہ سے جو اہم علمی و عملی نکات معلوم ہوتے ہیں ان میں سے دو نکات یہ ہیں:
1- ظالم لوگ لوگوں کو تقسیم کر کے ان پر حکومت کرتے ہیں۔
2- حکمت و دانائی اور علم اللہ تعالیٰ کی خاص نعمتیں ہیں جو خاص بندوں کو عطا ہوتی ہیں۔
جواب:
سورۃ القصص کے مطابق حکمت و دانائی اور علم اللہ تعالیٰ کی خاص نعمتیں ہیں جو خاص بندوں کو عطا ہوتی ہیں۔
جواب:
سورۃ القصص کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے دن اپنا فضل یعنی رزق تلاش کرنے اور رات آرام کرنے کے لیے بنائی ہے۔
جواب:
سورۃ القصص کی آخری آیت میں تلقین کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔ ہمیں شرک سے بچنا چاہیے، اور صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔
جواب:
قارون کے واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دنیا کا مال و دولت عارضی چیزیں ہیں اور جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کر رکھی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
جواب:
سورۃ القصص مکی سورت ہے یہ قرآن مجید کی اٹھائیسویں (28) سورت ہے اس میں اٹھاسی (88) آیات اور نو (9) رکوع ہیں یہ مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی آخری سورت ہے اس سورت کا نام اس سورت کی آیت پچیس (25) میں القصص کا لفظ آیا ہے اسی مناسب سے اس کا نام سورۃ القصص رکھا گیا ہے۔ سورۃ القصص کا خلاصہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کر کے حضرت محمد ﷺ کی رسالت اور آپ ﷺ کی دعوت کی سچائی کو ثابت کرنا ہے۔