جواب:
"نمل" کا معنی ہے "چیونٹی" اس سورت کی آیت اٹھارہ (18) میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جب وہ چیونٹیوں کی وادی کے پاس سے گزرے تھے۔ اس لیے اس سورت کا نام "سورۃ النمل" ہے۔
جواب:
سورۃ النمل کا خلاصہ "اسلام کے بنیادی عقائد کا اور کفر کے برے نتائج کا بیان" ہے۔
جواب:
سورۃ النمل کا مطالعہ کرنے سے جو اہم علمی و عملی نکات معلوم ہوتے ہیں ان میں سے دو یہ ہیں:
(1) دین کی دعوت دینے والوں کو قرآن مجید کے ذریعے لوگوں کو خبردار کرتے رہنا چاہیے۔
(2) ہم جو بھی اعمال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو ان کی خوب خبر ہے۔ اور قیامت کے دن ان کا فیصلہ ہو جائے گا۔
جواب:
سورۃ النمل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ کافی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو دولت، حکومت اور شان و شوکت سے نوازا تھا اور بہت سے معجزات عطا فرمائے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے انتہائی شکر گزار بندے تھے۔
جواب:
نزول کے اعتبار سے سورۃ النمل مکی سورت ہے اور اس میں ترانوے (93) آیات ہیں۔
جواب:
اس سورت کی آیت اٹھارہ (18) میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جہاں چیونٹیوں کا ذکر ہے اس نسبت سے اسے سورۃ النمل کہتے ہیں۔
جواب:
حضرت سلیمان علیہ السلام اور وادی نمل کا ذکر قرآن مجید کی "سورۃ النمل" میں آیا ہے۔
جواب:
سورۃ النمل کا خلاصہ "اسلام کے بنیادی عقائد اور کفر کے برے نتائج کا بیان" ہے۔
جواب:
سورۃ النمل کا مرکزی مضمون اسلام کے بنیادی عقائد اور کفر کے برے نتائج کا بیان ہے۔
جواب:
سورۃ النمل کے آغاز میں قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرنے والوں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔
جواب:
سورۃ النمل میں چار انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں:
1- حضرت موسیٰ علیہ السلام
2- حضرت سلیمان علیہ السلام
3- حضرت صالح علیہ السلام
4- حضرت لوط علیہ السلام
جواب:
حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو دولت، حکومت اور شان و شوکت سے نوازا تھا اور بہت سے معجزات عطا فرمائے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے انتہائی شکر گزار بندے تھے۔
جواب:
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو دولت، حکومت اور شان و شوکت سے نوازا تھا۔
جواب:
سورۃ النمل کے اختتام میں قیامت کی علامات، اس کے دلائل، اس دن کے احوال اور قیامت کے دن اچھے اور برے لوگوں کے انجام کا بتایا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ النمل کا مطالعہ کرنے سے جو علمی و عملی نکات معلوم ہوتے ہیں ان میں سے دو نکات یہ ہیں:
1- نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا اور آخرت پر یقینِ کامل رکھنا۔
2- ہماری تمام ذہنی و جسمانی صلاحیتیں اور دنیا کی تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کا فضل ہیں۔
جواب:
حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے۔
جواب:
سورۃ النمل میں ہمارے اعمال کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ہم جو بھی اعمال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو ان کی خوب خبر ہے اور قیامت کے دن ان کا فیصلہ ہو جائے گا۔
جواب:
سورۃ النمل میں حق کا انکار کرنے والوں کو مُردوں، بہرے اور اندھے کہا گیا ہے۔ جنھیں قرآن مجید سے کوئی نصیحت نہیں حاصل ہو سکتی۔
جواب:
چاند کے دو فوائد درج ذیل ہیں:
i. اسلامی مہینوں کی ابتدا طلوع ہلال (چاند) کے ذریعے معلوم ہوتی ہے۔
ii. چاند کی روشنی انسانوں اور دوسرے جانداروں کے لیے باعث راحت ہے۔
جواب:
سورۃ النمل کے مطابق نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا اور آخرت پر یقینِ کامل رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔
جواب:
i. حضرت داؤد علیہ السلام کے ہاتھ میں لوہا نرم ہو جاتا تھا۔
ii. حضرت داؤد علیہ السلام کی آواز بہت دلکش اور سریلی تھی۔
جواب:
سورۃ النمل میں اللہ تعالیٰ نے اصل کامیابی کا طریقہ بتایا ہے میں بھی اس طریقے پر عمل کروں گا یعنی نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، اور آخرت پر یقین رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔
جواب:
سورۃ النمل کے مطابق حضرت سلیمان علیہ السلام کو دولت، حکومت اور شان و شوکت اور معجزات سے نوازا گیا۔
جواب:
سورۃ النمل کے آخری دو رکوعوں میں قیامت کی علامات اور اس کے دلائل بیان ہوئے ہیں۔ اس دن کے احوال اور قیامت کے دن اچھے اور برے لوگوں کے انجام کے بیان پر سورت کا اختتام فرمایا گیا ہے۔
جواب:
حضرت سلیمان علیہ السلام پر کیے گئے دو انعامات درج ذیل ہیں:
i- دولت اور حکومت سے نوازا گیا۔
ii- شان و شوکت سے نوازا گیا۔
iii- بہت سے معجزات عطا فرمائے گئے۔