جواب:
سورۃ الشعراء کے آخر میں اچھے اور برے شاعروں کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ الشعراء ہے۔
جواب:
سورۃ الشعراء کا خلاصہ "سابقہ انبیاء کرام علیہم السّلام کے واقعات کے ذریعے مسلمانوں کو تسلی دینا" ہے۔
جواب:
سورۃ الشعراء کے مطالعہ سے جو علمی و عملی نکات معلوم ہوتے ہیں ان میں سے دو یہ ہیں:
1- ہمیں عربی سیکھنی چاہیے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے۔
2- ہمیں ایمان والوں سے بہت شفقت اور تواضع سے پیش آنا چاہیے۔
جواب:
سورۃ الشعراء مکی سورت ہے۔ اس کی آیات کی تعداد دوسو ستائیس (227) ہے۔
جواب:
سورۃ الشعراء کے آخر میں اچھے اور برے شاعروں کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ الشعراء ہے۔
جواب:
سورۃ الشعراء کے آخر میں اچھے اور برے شاعروں کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔
جواب:
سورۃ الشعراء کا مرکزی مضمون سابقہ انبیاء کرام کے واقعات کے ذریعے مسلمانوں کو تسلی دینا ہے۔
جواب:
سورۃ الشعراء میں سابقہ انبیاء کرام علیہم السّلام کا اپنی اپنی قوموں کو حوصلے اور ثابت قدمی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دعوت دینے کا ذکر ہے۔
جواب:
سورۃ الشعراء میں سابقہ انبیاء کرام علیہم السّلام کی دعوت کو قبول کر لینے والوں کے نجات پانے اور نافرمانوں پر دنیا میں بھی عذاب اتارے جانے کا ذکر ہے۔
جواب:
سورۃ الشعراء میں سابقہ انبیاء علیہم السّلام کے واقعات کے ذریعے حضرت محمد ﷺ اور صحابہ کرام کو تسلی دی گئی ہے کہ ایک دن ایمان والے ہی کامیاب ہوں گے۔
جواب:
سورۃ الشعراء میں مشرکین مکہ اور دوسرے نافرمانوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ نافرمان قوموں کے دردناک انجام سے خبردار ہو کر اپنی اصلاح کر لیں۔
جواب:
سورۃ الشعراء میں قرآن مجید کے فضائل اور حقانیت کا بیان ہے کہ اس کتاب کو عربی زبان میں تمام جہانوں کے پروردگار نے حضرت جبرائیل علیہ السّلام کے ذریعے حضرت محمد ﷺ کے قلب مبارک پر اتارا ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روشن کتاب ہے جس میں زندگی گزارنے کے واضح اصول موجود ہیں۔
جواب:
سورۃ الشعراء میں قرآن مجید کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روشن کتاب ہے جس میں زندگی گزارنے کے واضح اصول موجود ہیں۔
جواب:
ہمیں اپنے رشتہ داروں کو شرک اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے باز رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے کیوں کہ یہ حضرت محمد ﷺ کا طریقہ ہے۔
جواب:
سورۃ الشعراء کے مطابق شیطان جھوٹے اور گناہ گار لوگوں کا ساتھی ہے۔
جواب:
سورۃ الشعراء کی رُو سے اچھے شاعر میں درج ذیل خصوصیات ہونی چاہئیں:
1- ایمان لانا
2- نیک اعمال کرنا
3- اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا
4- ظالموں کو جواب دینا
جواب:
سورۃ الشعراء کے دو علمی و عملی نکات درج ذیل ہیں۔
1- ہمیں ایمان والوں سے بہت شفقت اور تواضع سے پیش آنا چاہیے۔
2- شیطان جھوٹے اور گناہ گار لوگوں کا ساتھی ہے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "بعض اشعار میں حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں"۔ (جامع ترمذی)
جواب:
سورۃ الشعراء کے دو مضامین درج ذیل ہیں۔
1- سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات کے ذریعے مسلمانوں کو تسلی دینا ہے۔
2- مشرکین مکہ اور دوسرے نافرمانوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ نافرمان قوموں کے درد ناک انجام سے خبردار ہو کر اپنی اصلاح کریں۔
جواب:
جھوٹے شاعروں کی پیروی کرنے والے عموماً گمراہ لوگ ہوتے ہیں۔
جواب:
ایک شاعر کو اچھا شاعر بننے کے لیے درج ذیل صفات اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے:
1- ایمان
2- نیک اعمال کرے
3- اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے
4- ظالموں کو جواب دے
جواب:
سورۃ الشعراء میں ایمان لانا، نیک اعمال کرنا، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور ظالموں کو جواب دینا اچھے شاعروں کی صفات بیان ہوئی ہیں۔