جواب:
فرقان کا معنی ہے: "حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا" اس سورت کی پہلی آیت میں قرآن مجید کو فرقان قرار دیا گیا ہے یعنی حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی کتاب۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام "سورۃ الفرقان" ہے۔
جواب:
سورۃ الفرقان کا خلاصہ "اسلام کے بنیادی عقائد کا اثبات اور کفار کے اعتراضات کا جواب" ہے۔
جواب:
سورۃ الفرقان کا مطالعہ کرنے سے جو علمی و عملی نکات معلوم ہوتے ہیں، ان میں سے دو یہ ہیں:
1- قرآن مجید حق اور باطل میں فرق کرنے والا کلام ہے، جو تمام جہانوں کے لیے نازل کیا گیا ہے۔
2- برے لوگوں کو دوست بنانے والے دنیا میں بھی نقصان اٹھاتے ہیں اور قیامت کے دن بھی اپنے آپ پر افسوس کریں گے۔
جواب:
ٹھہرنے کی جگہ
جواب:
آنکھوں کی ٹھنڈک
جواب:
وہ نہیں گر پڑتے
جواب:
دور کر دے
جواب:
ہماری اولاد
جواب:
ترجمہ: اُس شخص کے لیے جو نصیحت حاصل کرنا چاہے یا شکر گزار بننا چاہے۔
جواب:
ترجمہ: بے شک وہ بُری جگہ ہے (تھوڑی دیر) ٹھہرنے اور (مستقل) رہنے کے لحاظ سے۔
جواب:
ترجمہ: اور جو توبہ کرے اور نیک عمل کرے تو بے شک وہ اللہ ہی کی طرف رجوع کرتا ہے۔
جواب:
ترجمہ: اور وہ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی بے کار بات پر ان کا گزر ہوتا ہے تو شریفانہ انداز سے گزر جاتے ہیں۔
جواب:
نزول کے اعتبار سے سورۃ الفرقان مکی سورت ہے۔ اس کی آیات کی تعداد ستتر (77) ہے۔
جواب:
سورۃ الفرقان کی پہلی آیت میں قرآن مجید کو فرقان قرار دیا گیا ہے یعنی حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی کتاب۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ الفرقان ہے۔
جواب:
سورۃ الفرقان کا خلاصہ "اسلام کے بنیادی عقائد کا اثبات اور کفار کے اعتراضات کا جواب" ہے۔
جواب:
سورۃ الفرقان کے مرکزی موضوعات میں "اسلام کے بنیادی عقائد کا اثبات اور کفار کے اعتراضات کا جواب" ہے۔
جواب:
سورۃ الفرقان کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کی شان اور قرآن مجید کی حقانیت کا جامع بیان ہے۔ اس کے علاوہ جھوٹے خداؤں کی بے بسی اور لاچارگی کا ذکر ہے۔
جواب:
سورۃ الفرقان میں حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے ظالموں کی حسرت کا بیان ہے۔
جواب:
سورۃ الفرقان میں حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کو جھٹلانے والی قوموں پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ذکر کر کے قریش مکہ اور ایسے تمام مجرموں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ الفرقان میں رحمان کے خاص بندوں کی جو صفات بیان ہوئی ہیں ان میں سے دو صفات یہ ہیں:
1- یہ بندے زمین پر عاجزی اور وقار کے ساتھ چلتے ہیں۔
2- اگر جاہل لوگ ان کے ساتھ الجھنا چاہیں تو یہ ان کے ساتھ نہیں الجھتے۔
جواب:
سورۃ الفرقان کے مطابق رحمان کے بندے زمین پر عاجزی اور وقار کے ساتھ چلتے ہیں۔
جواب:
سورۃ الفرقان کے مطابق اگر جاہل لوگ ان سے الجھنا چاہیں تو یہ ان کے ساتھ نہیں الجھتے۔
جواب:
سورۃ الفرقان کے مطابق رحمان کے خاص بندے زندگی کے ہر معاملے کی طرح مال خرچ کرنے میں بھی میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ نہ تو بخل کرتے ہیں نہ فضول خرچی۔
جواب:
سورۃ الفرقان کے مطابق اللہ تعالیٰ، حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ اور قرآن مجید پر اعتراضات کا بنیادی سبب قیامت کو جھٹلانا ہے۔
جواب:
سورۃ الفرقان کے مطابق برے لوگوں کو دوست بنانے والے دنیا میں بھی نقصان اٹھاتے ہیں اور قیامت کے دن بھی اپنے آپ پر افسوس کریں گے۔
جواب:
سورۃ الفرقان کے مطابق قیامت کے دن حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ میری قوم کے بہت سے لوگوں نے اس قرآن پر عمل کرنے کو چھوڑ رکھا تھا۔
جواب:
حدیث نبوی کے مطابق کوئی بندہ جب قیامت کے دن اس حالت میں پیش ہوگا کہ اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کیا ہوگا اور اس سے اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل کرنا ہوگا تو اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ کو اس پر حرام کر دے گا۔
جواب:
فرقان کا معنی ہے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا۔ اس سورت کی پہلی آیت میں قرآن مجید کو فرقان قرار دیا گیا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اس کی ستتر (77) آیات ہیں۔ سورۃ الفرقان کا خلاصہ اسلام کے بنیادی عقائد کا اثبات اور کفار کے اعتراضات کا جواب ہے۔
جواب:
قرآن مجید کو فرقان اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ یہ کتاب حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی ہے۔
جواب:
ترجمہ: بے شک وہ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
جواب:
ترجمہ: بے شک اس کا عذاب تکلیف دہ ہے۔
جواب:
ترجمہ: نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں۔
جواب:
میں جاہل کے ساتھ بات کرتے ہوئے اُس سے بحث نہیں کروں گا کوشش کروں گا کہ اس جاہل سے کنارہ کشی اختیار کروں۔
جواب:
ترجمہ: اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
جواب:
ترجمہ: اور جب کسی بے کار بات پر ان کا گزر ہوتا ہے تو شریفانہ انداز سے گزر جاتے ہیں۔
جواب:
ترجمہ: اور وہ اس میں ذلت کے ساتھ ہمیشہ رہے گا۔
جواب:
ترجمہ: بے شک وہ بُری جگہ ہے (تھوڑی دیر) ٹھہرنے اور (مستقل) رہنے کے لحاظ سے۔
جواب:
ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں عطا فرما۔
جواب:
ترجمہ: وہ نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ (کسی دوسرے معبود کو)
جواب:
جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔