جواب:
اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ حج حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں کس طرح شروع ہوا اور اس کے بنیادی ارکان کیا ہیں۔ اسی وجہ سے اس سورت کا نام "سورۃ الحج" ہے۔
جواب:
سورۃ الحج کا خلاصہ "قیامت کے احوال، حج و قربانی کا بیان اور جہاد کی اجازت" ہے۔
جواب:
سورۃ الحج کے مطالعے سے جو علمی و عملی نکات معلوم ہوتے ہیں ان میں سے دو یہ ہیں:
1- ساری کائنات اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہے۔
2- اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے ہیں۔
جواب:
وہی روکے ہوئے ہے
جواب:
عبادت کا طریقہ
جواب:
وہ چلتے ہیں
جواب:
ترجمہ: اور وہی تو ہے جس نے تمھیں زندہ فرمایا پھر تمھیں موت دے گا پھر تمھیں زندہ فرمائے گا یقیناً انسان تو بڑا ہی ناشکرا ہے۔
جواب:
ترجمہ: ہر امت کے لیے ہم نے عبادت (اور قربانی) کا ایک طریقہ مقرر فرمایا ہے جس پر وہ چلتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ ہرگز وہ آپ سے (اس) معاملہ میں جھگڑا نہ کریں اور آپ اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں یقیناً آپ سیدھے راستے پر ہیں۔
جواب:
ترجمہ: اور اگر وہ آپ سے جھگڑیں تو (آپ فرما دیجیے) اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔
جواب:
ترجمہ: اللہ تمھارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے۔
جواب:
نزول کے اعتبار سے سورۃ الحج ایک منفرد سورت ہے، اس کا کچھ حصہ مدنی ہے اور کچھ مکی۔ اس سورت کی آیات کی تعداد اٹھتر (78) ہے۔
جواب:
سورۃ الحج کی انفرادیت یہ ہے کہ اس سورت کا کچھ حصہ مدنی ہے اور کچھ مکی۔
جواب:
سورۃ الحج کا نزول مکہ مکرمہ میں ہجرت سے پہلے ہو چکا تھا اور تکمیل ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ہوئی۔
جواب:
سورۃ الحج کی ابتدا میں قیامت کے احوال کا بیان ہے۔ قیامت کے دن منافقوں اور کافروں کے برے انجام اور مومنوں کے اچھے انجام کا ذکر ہے۔ پھر حج اور قربانی کے احکام کا بیان ہے، حج اور قربانی کی حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے۔
جواب:
حج اور قربانی کے احکام سورۃ الحج میں بیان ہوئے ہیں۔
جواب:
سورۃ الحج میں جہاد کی اجازت کو مسلمانوں کے لیے خوش خبری اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ اب انھیں کافروں کے ظلم و ستم کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے کو کہہ دیا گیا تھا۔ آنے والے حالات نے یہ ثابت کیا کہ یہ اجازت واقعی ایک بڑی خوش خبری تھی۔
جواب:
سورۃ الحج کے آخر میں تمام انسانوں کو ایمان لانے کی بھرپور دعوت دی گئی ہے۔ پھر بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور انسانوں میں سے جس کو چاہا اپنا پیغام پہنچانے کے لیے منتخب فرمایا۔
جواب:
سورۃ الحج میں اہل ایمان کو عمل صالح کرنے اور امت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
جواب:
سورۃ الحج کے مطابق شیطان کی پیروی کرنے والے دنیا میں گمراہی اور آخرت میں عذاب کے حق دار ہوں گے۔
جواب:
سورۃ الحج کے مطابق منافقین اللہ تعالیٰ کی عبادت کنارے کنارے رہ کر کرتے ہیں اور دنیا کے فائدے پر خوش ہوتے ہیں اور نقصان پر دین سے دور ہو جاتے ہیں۔
جواب:
سورۃ الحج کے مطابق اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے ہیں۔
جواب:
سورۃ الحج کے مطابق شرک ایک بے حیثیت چیز ہے جس کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔
جواب:
ترجمہ: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔
جواب:
اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔
جواب:
ترجمہ: اور یقیناً اللہ بے نیاز بہت تعریفوں والا ہے۔
جواب:
ترجمہ: پس وہ کتنا اچھا کارساز اور کتنا اچھا مددگار ہے۔
جواب:
یقیناً انسان تو بڑا ہی ناشکرا ہے۔
جواب:
یقیناً آپ سیدھے راستے پر ہیں۔
جواب:
اللہ تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔
جواب:
سورۃ الحج کا کچھ حصہ مکہ میں نازل ہوا اور مدینہ منورہ میں۔ اس سورت کے دس رکوع اور اٹھہتر (78) آیات ہیں۔ اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ حج حضرت ابراہیمؑ کے زمانے میں کس طرح شروع ہوا اور اس کے بنیادی ارکان کیا ہیں۔ سورۃ الحج میں درج ذیل مضامین بیان ہوئے ہیں: قیامت کے احوال کا بیان، جزا و سزا کا بیان، حج اور قربانی کے احکامات، شرک کی ممانعت، جہاد کی اجازت، اعمال صالح کا حکم وغیرہ۔
جواب:
ہر اُمت کے لیے ہم نے عبادت (اور قربانی) کا ایک طریقہ مقرر فرمایا ہے۔