جواب:
سورۃ الانبیاء میں پچھلے انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت کا حوالہ دے کر حضرت محمد خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کی نبوت کو ثابت فرمایا گیا ہے۔ اس مناسبت سے اس سورت کا نام "سورۃ الانبیاء" ہے۔
جواب:
سورۃ الانبیاء ان سورتوں میں سے ہے جن کے بارے میں حضرت محمد خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ نے فرمایا کہ یہ میرا قدیم مال اور قیمتی اثاثہ ہے۔
جواب:
سورۃ الانبیاء کا خلاصہ "توحید، رسالت اور آخرت کا بیان" ہے۔
جواب:
1- جو بات ہم نہیں جانتے وہ ہمیں علم رکھنے والوں سے پوچھ لینی چاہیے۔
2- ہمیں مشکلات میں اللہ تعالیٰ کو پکارنا چاہیے کیوں کہ وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔
جواب:
کہ وہ ہلنے نہ لگے
جواب:
جس پر وہ چلنے والے ہیں
جواب:
تیر رہے ہیں
جواب:
ملے ہوئے
جواب:
پہاڑ
جواب:
منہ موڑنے والے
جواب:
چھت
جواب:
ترجمہ: اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ (کہیں) وہ انھیں لے کر ہلنے نہ لگے اور ہم نے اس میں کشادہ راستے بنا دیے تاکہ وہ راستہ پائیں۔
جواب:
ترجمہ: اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا اور وہ اس (آسمان) کی نشانیوں سے مُنہ موڑے ہوئے ہیں۔
جواب:
ترجمہ: اور وہی ہے جس نے بنائے رات اور دن اور سورج اور چاند (یہ) سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔
جواب:
ترجمہ: اور ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی انسان کو ابدی زندگی نہیں دی تو اگر آپ انتقال فرما جائیں تو کیا یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
جواب:
نزول کے اعتبار سے سورۃ الانبیاء مکی سورت ہے، اس میں ایک سو بارہ (112) آیات ہیں۔
جواب:
سورۃ الانبیاء میں پچھلے انبیاء کرام علیہم السّلام کی نبوت کا حوالہ دے کر حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کی نبوت کو ثابت فرمایا گیا ہے، اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ الانبیاء ہے۔
جواب:
سورۃ الانبیاء میں پچھلے انبیاء کرام علیہم السّلام کی نبوت کا حوالہ دے کر حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کی نبوت کو ثابت فرمایا گیا ہے۔
جواب:
صحیح بخاری کے مطابق سورۃ الانبیاء ان سورتوں میں سے ہے جن کے بارے میں حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ نے فرمایا کہ یہ میرا قدیم مال اور قیمتی اثاثہ ہیں۔
جواب:
توحید، رسالت اور آخرت مکی سورتوں کی خاصیت ہے۔
جواب:
سورۃ الانبیاء میں قرآن مجید اور رسالت پر مشرکین مکہ کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ الانبیاء کے درمیانی حصہ میں انبیاء کرام علیہم السّلام اور حضرت مریم علیہا السّلام کا تذکرہ فرمایا گیا ہے۔
جواب:
قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ آیا ہے، کیوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات زندگی کی حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کی سیرت طیبہ کے ساتھ کئی چیزوں میں مشابہت ہے۔
جواب:
سورۃ الانبیاء کے آخر میں آخرت پر ایمان لانے کا ذکر کیا گیا ہے، قیامت کے قریب آنے اور احوال قیامت کا بیان ہے۔
جواب:
سورۃ الانبیاء کے مطابق ثابت قدمی اور اخلاص کے ساتھ نیکی کی راہ پر چلنے والوں کو قیامت کے دن کوئی خوف نہ ہوگا۔
جواب:
سورۃ الانبیاء میں بتایا گیا ہے کہ نبی کریم رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ تمام جہانوں کے لیے سراپا رحمت ہیں۔
جواب:
1- اللہ تعالیٰ ہمیشہ حق کو باطل سے ٹکرا کر باطل کا سر کچل دیتا ہے۔
2- ہر شخص اپنے اعمال کا اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔
جواب:
سورۃ الانبیاء کے مطابق اگر کسی بات کا علم نہ ہو تو ہمیں علم رکھنے والوں سے پوچھ لینا چاہیے۔
جواب:
دنیا کی زندگی کے بارے میں سورۃ الانبیاء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ دنیا محض کھیل تماشہ کے لیے نہیں بلکہ بامقصد طور پر پیدا فرمائی ہے۔
جواب:
سورۃ الانبیاء کے مطابق اگر اس کائنات میں ایک سے زیادہ خدا ہوتے تو زمین و آسمان میں فساد برپا ہو جاتا۔
جواب:
سورۃ الانبیاء کے مطابق ہمیں مشکلات میں اللہ تعالیٰ کو پکارنا چاہیے کیوں کہ وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔
جواب:
1- حضرت آدم علیہ السّلام کا لقب ابوالبشر ہے اور صفی اللہ بھی ہے۔
2- حضرت ابراہیم علیہ السّلام کا لقب خلیل اللہ ہے۔
3- حضرت موسیٰ علیہ السّلام کا لقب کلیم اللہ ہے۔
4- حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا لقب روح اللہ ہے۔
جواب:
ترجمہ: اور نہ وہ (دنیا میں) ہمیشہ رہنے والے تھے۔
جواب:
ترجمہ: تو کیا وہ ایمان نہیں لاتے۔
جواب:
ترجمہ: ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔
جواب:
ترجمہ: اور ہم حساب لینے کے لیے کافی ہیں۔
جواب:
ترجمہ: اور وہی ہے جس نے بنائے رات اور دن۔
جواب:
ترجمہ: اور وہ کہتے ہیں یہ (عذاب کا) وعدہ کب (پورا) ہو گا اگر تم سچے ہو۔
جواب:
سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔
جواب:
سورۃ الانبیاء میں پچھلے انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت کا حوالہ دے کر حضرت محمد خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کی نبوت کو ثابت فرمایا گیا ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ الانبیاء ہے یہ مکی سورت ہے اس کی ایک سو بارہ (112) آیات ہیں۔
جواب:
سورۃ الانبیاء کے مطابق ثابت قدمی اور اخلاص کے ساتھ نیکی کی راہ اختیار کر کے ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔
جواب:
اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا۔