جواب:
اس سورت کا آغاز حروف مقطعات میں سے "طٰہٰ" سے ہوتا ہے اور اسی مناسبت سے اس سورت کا نام "سورۃ طٰہٰ" رکھا گیا۔
جواب:
سورۃ طٰہٰ کا خلاصہ "حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تفصیلی تذکرہ اور پھر توحید، رسالت اور آخرت کا بیان" ہے۔
جواب:
1- ہمیں اپنی نمازوں کو وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
2- ہمیں اللہ تعالیٰ سے اپنے علم میں اضافہ کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔
جواب:
خوب دیکھنے والا
جواب:
میری زبان
جواب:
میری طاقت
جواب:
یقیناً
جواب:
کھول دے
جواب:
تاکہ
جواب:
ہم نے احسان کیا
جواب:
ترجمہ: (موسیٰ علیہ السلام نے) عرض کیا اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے۔
جواب:
ترجمہ: اور میرے لیے میرا کام آسان بنا دے۔
جواب:
ترجمہ: اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
جواب:
ترجمہ: (تاکہ) لوگ میری بات سمجھ سکیں۔
جواب:
ترجمہ: اور میرا ایک وزیر (مددگار) مقرر فرما دے۔ میرے گھر والوں میں سے (یعنی) میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو۔
جواب:
ترجمہ: بے شک تو ہمیں خوب دیکھنے والا ہے۔
جواب:
نزول کے اعتبار سے سورۃ طٰہٰ مکی سورت ہے۔ اس کی آیات کی تعداد ایک سو پینتیس (135) ہے۔
جواب:
سورۃ طٰہٰ ان سورتوں میں سے ہے جن کے نام حروف مقطعات پر رکھے گئے ہیں۔ اس سورت کا آغاز حروف مقطعات میں سے "طٰہٰ" سے ہوتا ہے اور اسی مناسبت سے اس سورت کا نام رکھا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ طٰہٰ میں ایک سو پینتیس (135) آیات ہیں اور یہ سورت آٹھ رکوعات پر مشتمل ہے۔
جواب:
سورۃ طٰہٰ کے آٹھ میں سے پانچ رکوعوں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی بیان فرمائی گئی ہے۔
جواب:
حدیث نبوی کے مطابق سورۃ طٰہٰ کا شمار ان سورتوں میں ہوتا ہے جن سورتوں کے بارے میں حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ نے فرمایا کہ یہ میرا قدیم مال اور قیمتی اثاثہ ہیں۔
جواب:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے واقعہ میں یہ تذکرہ ملتا ہے کہ جب وہ اپنی بہن کے گھر تشریف لے گئے اور انھوں نے اپنی بہن سے سورۃ طٰہٰ کی تلاوت سنی تو ان کے دل میں اسلام گھر کر گیا اور انھوں نے اسی وقت اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
جواب:
سورۃ طٰہٰ میں جن بڑے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے ان میں "حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تفصیلی تذکرہ، توحید، رسالت اور آخرت کا بیان" شامل ہیں۔
جواب:
سورۃ طٰہٰ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے تین مراحل بیان کیے گئے ہیں:
1- حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی پیدائش سے مدین ہجرت فرمانے تک
2- مدین سے صحرائے سینا کی طرف ہجرت تک
3- صحرائے سینا ہجرت کے بعد سے وصال تک کا دور۔
جواب:
سورۃ طٰہٰ کے آخری تین رکوعوں میں توحید، رسالت اور آخرت کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں اور صفات کا ذکر ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کا مختصر تذکرہ ہے۔ آخرت میں نافرمانوں کے برے انجام کو بیان کیا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ طٰہٰ کے آخر میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ کسی قوم کو اس کے کفر اور انکار پر فوراً نہیں پکڑتا بلکہ مہلت دی جاتی ہے۔
جواب:
سورۃ طٰہٰ میں اہل حق کو یہ ترغیب دے کر ان کی رہنمائی کی گئی ہے کہ حق والوں کو صبر کے ساتھ دین کی دعوت کا کام کرتے رہنا چاہیے اور حق کا انکار کرنے والوں کے معاملے میں جلد بازی اور بے صبری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
جواب:
سورۃ طٰہٰ میں اللہ تعالیٰ کے علم کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا مکمل علم ہے، دنیا میں کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں۔
جواب:
شیطان ہمارا دشمن ہے کیوں کہ یہ وسوسہ ڈال کر ہم سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروانا چاہتا ہے۔
جواب:
قرآن مجید پر عمل نہ کرنے والوں کی دنیاوی زندگی تنگ کر دی جاتی ہے، یعنی ان کی دنیا ویران کر دی جاتی ہے۔
جواب:
شیطان ہمارا دشمن ہے اور شیطانی وسوسے سے ہم اللہ کی نافرمانی کر بیٹھتے ہیں۔
جواب:
سورۃ طٰہٰ کے دو عملی نکات یہ ہیں:
1- ہمیں نمازوں کو وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
2- دنیا کی نعمتیں ہمارے لیے آزمائش اور امتحان ہیں۔
جواب:
سورۃ طٰہٰ کے مطابق دنیا کی نعمتیں ہماری آزمائش اور امتحان کے لیے ہیں۔ سورۃ طٰہٰ کے مطابق سابقہ قوموں کے کھنڈرات ہمارے لیے عبرت کے نشانات ہیں۔
جواب:
ترجمہ: اسی کے لیے سب اچھے نام ہیں۔
جواب:
ترجمہ: اسی سے میری قوت کو مضبوط فرما دے۔
جواب:
ترجمہ: اور میرے لیے میرا کام آسان فرما دے۔
جواب:
ترجمہ: اور اسے میرے کام میں شریک فرما دے۔
جواب:
ترجمہ: اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
جواب:
ترجمہ: اور ہم کثرت سے تیرا ذکر کریں گے۔
جواب:
ترجمہ: اور بے شک ہم نے تم پر احسان کیا تھا ایک بار اور بھی۔
جواب:
ترجمہ: ایک بار اور بھی۔
جواب:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک دن اپنی بہن کے گھر تشریف لے گئے اور انہوں نے اپنی بہن سے سورۃ طٰہٰ کی تلاوت سنی تو ان کے دل میں اسلام گھر کر گیا اور انہوں نے اسی وقت اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔ سورۃ طٰہٰ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا سبب بنی۔
جواب:
ترجمہ: تاکہ ہم کثرت سے تیری پاکی بیان کریں۔
جواب:
ترجمہ: اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
جواب:
1- دنیا اور آخرت کی سلامتی ان لوگوں کے لیے ہے جو ہدایت کی پیروی کریں۔
2- ہمیں نمازوں کو وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔