جواب:
سورۃ مریم میں حضرت مریم علیہا السلام کا تفصیلی تذکرہ ہے اس لیے اس کا نام سورۃ مریم رکھا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ مریم کا خلاصہ "توحید، رسالت اور آخرت کا بیان" ہے۔
جواب:
1- ہمیں اپنی تمام حاجات کے لیے صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے۔
2- ہمیں اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا چاہیے کیوں کہ یہ انبیاء کرام کا طریقہ ہے۔
جواب:
"قریش مکہ کا مسلمانوں پر انتہائی ظلم و ستم" ہجرت حبشہ کا سبب تھا۔
جواب:
سورۃ مریم کی تلاوت سن کر نجاشی نے کہا "یہ کلام اور انجیل ایک ہی چراغ کی روشنیاں ہیں"۔
جواب:
بابرکت
جواب:
وہ لوگ شک کرتے ہیں
جواب:
تو وہ ہو جاتا ہے / پس وہ ہو جاتا ہے
جواب:
زکوٰۃ
جواب:
بدبخت
جواب:
کہ وہ بنائے
جواب:
نزول کے اعتبار سے سورۃ مریم مکی سورت ہے۔ اس کی اٹھانوے (98) آیات ہیں۔
جواب:
سورۃ مریم میں حضرت مریم علیہا السلام کا تفصیلی تذکرہ ہے اس لیے اس سورت کا نام سورۃ مریم رکھا گیا ہے۔
جواب:
سورۃ مریم کے نزول کے وقت نبوت کا پانچواں سال تھا۔ سورۃ مریم اس زمانے میں نازل ہوئی جب مشرکین مکہ مسلمانوں پر ظلم کر رہے تھے۔
جواب:
مشرکین مکہ مسلمانوں پر ظلم کر رہے تھے اس لیے ایسے حالات میں مسلمانوں کا زندگی بسر کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔
جواب:
حبشہ براعظم افریقہ کا ایک ملک تھا جس کا موجودہ نام ایتھوپیا ہے۔ یہ سوڈان کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔
جواب:
شاہِ حبشہ نجاشی کا نام "اصحمہ" تھا۔ شاہِ حبشہ نجاشی بہت رحم دل اور عادل بادشاہ تھا۔
جواب:
مکہ مکرمہ میں صحابہ کرام (مسلمانوں) پر قریش کا ظلم حد سے بڑھ گیا تھا۔ ایسے سخت حالات میں مسلمانوں کے لیے زندگی بسر کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا اس وجہ سے مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔
جواب:
پہلی ہجرت حبشہ میں گیارہ مرد اور چار خواتین شامل تھیں۔
جواب:
ہجرت کرنے والوں میں جلیل القدر صحابی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ محترمہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا شامل تھیں۔
جواب:
کفار مکہ سے مسلمانوں کا حبشہ میں سکون اور امن سے رہنا برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان کہیں بھی سکون و چین سے نہ رہیں، اس لیے وہ نجاشی کے پاس گئے تاکہ نجاشی مسلمانوں کو مکہ واپس بھیج دے۔
جواب:
کفار مکہ نے نجاشی سے مسلمان مہاجرین کے بارے میں کہا کہ ہمارے علاقے سے چند ناسمجھ لوگ بھاگ کر یہاں آگئے ہیں۔ انھوں نے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر نیا دین اختیار کر لیا ہے اور وہ آپ کے دین کے بھی خلاف ہیں۔
جواب:
حضرت جعفر رضی اللہ عنہ طیار نے نجاشی کے دربار میں ایام جاہلیت کے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ جاہل تھے۔ بتوں کو پوجا کرتے تھے۔ مردار کھاتے تھے۔ گناہوں کے عادی تھے۔ اور پڑوسیوں کا حق مارتے تھے۔ جو طاقت ور ہوتا وہ کمزور پر ظلم ڈھاتا۔
جواب:
نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے نبی کریم رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انھوں نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا، بت پرستی سے منع کیا اور فرمایا کہ ہم سچ بولیں خون خرابے سے باز آجائیں۔ روزے رکھیں اور زکوٰۃ دیں۔
جواب:
حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے نجاشی کے دربار میں کفار مکہ کی دشمنی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے کفار ان کے دشمن ہو گئے تھے۔
جواب:
سورۃ مریم کی آیات سن کر نجاشی نے قرآن پاک کے بارے میں کہا کہ یہ کلام اور انجیل ایک ہی چراغ کی روشنیاں ہیں۔
جواب:
نجاشی نے مسلمانوں کو واپس کرنے سے انکار کر دیا اور کفار کا وفد نجاشی کے دربار سے ناکام لوٹا۔
جواب:
حبشہ میں مسلمانوں کے قیام کا یہ نتیجہ نکلا کہ حبشہ کے لوگ مسلمانوں کی پاک زندگی سے بہت متاثر ہوئے۔ کئی لوگ ان کی دعوت سے مسلمان ہو گئے۔
جواب:
سورۃ مریم کا خلاصہ "توحید و رسالت اور آخرت کے عقائد کے بیان" پر مبنی ہے۔
جواب:
سورۃ مریم میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد ہے، اس کا کوئی بیٹا اور شریک نہیں۔
جواب:
سورۃ مریم میں سات (7) انبیاء علیہم السلام کا ذکر آیا ہے۔ چار انبیاء کے نام درج ذیل ہیں:
1- حضرت ابراہیمؑ
2- حضرت زکریاؑ
3- حضرت عیسیٰؑ
4- حضرت اسحاقؑ
جواب:
سورۃ مریم میں انبیاء کے تذکرہ سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ کسی نبی کی معجزانہ پیدائش اس کو اللہ یا اللہ کا بیٹا نہیں بناتی۔
جواب:
سورۃ مریم کے آخری تین رکوعوں میں قیامت کے احوال کا بیان ہے۔ اس دن اللہ کے نیک بندوں کو مہمان بنا کر لایا جائے گا جبکہ مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح ہانک کر دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا۔
جواب:
سورۃ مریم کے مطابق تمام انبیاء علیہم السلام نے اپنی قوموں کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی۔
جواب:
سورۃ مریم کے مطابق ہمیں اپنے بڑوں کو نہایت ادب و احترام سے نیکی کی دعوت دینی چاہیے اور انھیں برائی سے منع کرنا چاہیے۔
جواب:
سورۃ مریم کے مطابق ہمیں اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا چاہیے کیونکہ یہ انبیاء کرام کا طریقہ ہے۔
جواب:
ہمیں عربی زبان سیکھنی چاہیے تا کہ ہم قرآن مجید میں غور و فکر کر سکیں۔
جواب:
حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ نے فرمایا "ماں کی گود میں جن بچوں نے بات کی ان میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں"۔
جواب:
سفر معراج میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے نبی کریم رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کو دیکھ کر فرمایا "خوش آمدید! نیک نبی، نیک بھائی"۔
جواب:
حضرت محمد رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا "ان کا قد درمیانہ اور رنگ سرخ و سفید تھا، وہ ایسے لگتے تھے جیسے ابھی غسل خانے سے باہر آئے ہوں"۔
جواب:
حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے ایک بیٹے کی درخواست کی جو حضرت زکریا علیہ السلام اور اولاد یعقوب کا وارث بنے۔
جواب:
ترجمہ: "تو اپنے پاس سے مجھے ایک وارث عطا فرما"۔
جواب:
ترجمہ: "اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم فرمایا جب تک میں زندہ رہوں"۔
جواب:
ترجمہ: "اور بے شک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے تو اسی کی عبادت کرو"۔
جواب:
ترجمہ: "یہ سیدھا راستہ ہے"۔
جواب:
ترجمہ: "یہی سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں"۔
جواب:
ترجمہ: "اور مجھے بابرکت بنایا جہاں بھی میں ہوں"۔
جواب:
1- تمام انبیاء کرام نے اپنی قوموں کو ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔
2- ہمیں اپنی تمام حاجات کے لیے صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے۔
جواب:
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو مہمان بنا کر لایا جائے گا جب کہ مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح ہانک کر دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا۔
جواب:
حبشہ کے لوگ نبی کریم رَسُولُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ ﷺ کی تعلیمات، سورۃ مریم کی تلاوت اور مسلمانوں کی پاک زندگی سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئے۔
جواب:
اور سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا۔
جواب:
اور اس نے مجھے سرکش (و) نافرمان نہیں بنایا۔
جواب:
اور سلامتی ہے مجھ پر۔
جواب:
اُس نے مجھے کتاب عطا فرمائی۔
جواب:
اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔