جواب:
مستقبل کا معنی ہے: آنے والا وقت۔ مستقبل کی منصوبہ بندی سے مراد یہ ہے کہ انسان آنے والے وقت کے لیے تیاری کرے۔ اپنے پاس موجود وسائل کو اچھے طریقے سے استعمال کرے اور اپنی طاقت کے مطابق مزید وسائل و اسباب اختیار کرنے کی کوشش کرے۔
جواب:
قرآن و سنت میں ہمیں موت کے بعد آنے والی زندگی کے لیے تیاری کرنے کے حکم کے ساتھ ساتھ یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ ہم دنیا کی زندگی میں بھی آنے والے دنوں کے لیے تیاری کریں۔
مستقبل کی ضرورت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے پاس موجود وسائل اور نعمتوں کو ضائع نہ کریں۔ مستقبل میں کسی بھی قسم کی تکلیف اور پریشانی سے بچنے کے لیے ابھی سے کوشش کرنا اور وسائل اکٹھے کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس بات کا حکم دیا ہے کہ مسلمان اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے وسائل و اسباب جمع رکھیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: "اور (مسلمانو!) تم ان (کفار سے لڑنے) کے لیے تیاری رکھو جتنی قوت تم سے ممکن ہو۔" (سورۃ الانفال: 60)
جواب:
مستقبل کے لیے منصوبہ بندی اور سوچ بچار کرنا نبی کریم ﷺ کی سنتِ مبارک ہے۔ آپ ﷺ نے نعمتوں کو ضائع ہونے سے بچانے کا حکم دیا تا کہ مستقبل میں انھیں استعمال کیا جا سکے۔ آپ ﷺ نے پانی کو ضائع کرنے سے منع فرمایا اور زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کا حکم دیا، تا کہ آنے والے وقت میں ان نعمتوں سے بھر پور فائدہ اٹھایا جا سکے۔
مستقبل کے کسی بھی کام کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ہمیں شریعت کی متعین کردہ حدود کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ کوئی ایسی منصوبہ بندی یا تدبیر نہیں کرنی چاہیے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہو۔ اپنے ارادوں اور منصوبوں میں سودی لین دین، رشوت، جھوٹ، دھوکے بازی، حق تلفی اور مادیت پرستی کو شامل نہیں کرنا چاہیے۔ مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے توکل کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ توکل کا معنی یہ ہے کہ انسان اسباب ضرور اختیار کرے لیکن اس کا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہو۔
جواب:
جب کوئی شخص یا قوم منصوبہ بندی اور سمجھ بوجھ کے ساتھ فیصلے کرتی ہے تو اس شخص اور قوم کی زندگی پر بہت سے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
• بہت سے وسائل ضائع ہونے سے بچ جاتے ہیں
• دوسروں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑتا
• خوش حالی اور آسودگی نصیب ہوتی ہے
• وسائل میں اضافہ ہوتا ہے اور پورا معاشرہ ترقی کرتا ہے
جواب:
غزوہ خندق میں جب آپ ﷺ کو کافروں کے مدینہ منورہ پر حملے کے ارادے کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشورے پر ایک خندق کھودی۔ اس طرح مدینہ منورہ مشرکین مکہ کے حملے سے محفوظ ہو گیا۔
جواب:
مستقبل کی منصوبہ بندی کے دو فائدے:
1. بہت سے وسائل ضائع ہونے سے بچ جاتے ہیں
2. دوسروں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑتا
جواب:
مستقبل کا معنی ہے: آنے والا وقت۔ مستقبل کی منصوبہ بندی سے مراد یہ ہے کہ انسان آنے والے وقت کے لیے تیاری کرے۔ اپنے پاس موجود وسائل کو اچھے طریقے سے استعمال کرے اور اپنی طاقت کے مطابق مزید وسائل و اسباب اختیار کرنے کی کوشش کرے۔
جواب:
حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر والوں کو قحط سے بچانے کی شان دار منصوبہ بندی کی۔
جواب:
آپ ﷺ نے پانی کو ضائع کرنے سے منع فرمایا اور زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کا حکم دیا، تا کہ آنے والے وقت میں ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
جواب:
صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے مشرکین کے ساتھ صلح کا جو معاہدہ فرمایا اس کی شرائط کا جھکاؤ بظاہر مشرکین کی طرف تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی مستقبل کی منصوبہ بندی میں ایسی برکت عطا فرمائی کہ یہ معاہدہ فتح مکہ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
جواب:
ترجمہ: بے شک وہ (اللہ) بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔
جواب:
مستقبل کی منصوبہ بندی اور تدبیر کرتے ہوئے توکل کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ توکل کا معنی یہ ہے کہ انسان اسباب ضرور اختیار کرے لیکن اس کا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہو۔
جواب:
منصوبہ بندی کے دو مثبت اثرات:
• بہت سے وسائل ضائع ہونے سے بچ جاتے ہیں
• خوش حالی اور آسودگی نصیب ہوتی ہے
جواب:
مستقبل پر نگاہ رکھنے والے لوگ اپنے انفرادی اور اجتماعی تعلقات میں میانہ روی کو پیش نظر رکھتے ہیں جس کی وجہ سے انھیں شرمندگی یا نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
جواب:
معاشرے پر منصوبہ بندی کے دو اثرات:
• معاشرہ انتشار اور افرا تفری سے بچ جاتا ہے
• لوگ اپنے انفرادی اور اجتماعی تعلقات میں میانہ روی کو پیش نظر رکھتے ہیں جس کی وجہ سے انھیں شرمندگی یا نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑتا
جواب:
مستقبل کی منصوبہ بندی کی ضرورت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے پاس موجود وسائل اور نعمتوں کو ضائع نہ کریں۔ تکلیف اور پریشانی سے بچنے کے لیے کوشش کرنا اور وسائل اکٹھے کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم انفرادی و اجتماعی سطح پر مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کی سوچ اپنائیں تاکہ ہم ترقی کر سکیں اور معاشرہ خوشحال ہو سکے۔
No short questions available for this section.
جواب:
تہذیب کا لفظی معنی ہے: آراستگی، صفائی اور اصلاح۔ کسی قوم کی تہذیب سے مراد اس کے نظریات، رہن سہن، طرزِ عمل اور عمومی رویہ ہے۔
جواب:
اسلامی تہذیب سے مراد اسلام کا سکھایا ہوا طریقہ حیات ہے۔ اسلامی تہذیب کی بنیاد قرآن مجید اور سنتِ نبوی ﷺ پر ہے۔ اسلامی تہذیب دنیا کی ایک شان دار تہذیب ہے۔
جواب:
اسلامی تہذیب میں حضور اکرم ﷺ کو مرکز و محور کی حیثیت حاصل ہے۔ امت مسلمہ کی شناخت نسبت رسالت مآب ﷺ سے ہی وابستہ ہے۔ اس لیے اسلامی تہذیب میں احترامِ رسالت مآب ﷺ کو مرکزی مقام حاصل ہے۔
جواب:
اسلامی تہذیب کی تین بنیادی خصوصیات:
• اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر کامل یقین اسلامی تہذیب کی اساس ہے
• اسلامی تہذیب میں نبی کریم ﷺ کو مرکز و محور کی حیثیت حاصل ہے
• اسلامی تہذیب کی اہم خصوصیت آخرت پر کامل یقین اور جواب دہی کا عقیدہ رکھنا ہے
جواب:
نبی کریم ﷺ پر سب سے پہلی وحی جو نازل ہوئی، اس کا آغاز لفظ 'اقرا' سے ہوا تھا جس کا معنی ہے 'پڑھ'۔ اسلامی تہذیب کی بنیاد تعلیم و تعلم کے فروغ پر رکھی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تہذیب نے جس خطے میں اپنے اثرات مرتب کیے ہیں وہاں علم و دانش کی شمعیں بھی روشن کی ہیں۔
جواب:
تہذیب کا لفظی معنی ہے: آراستگی، صفائی اور اصلاح۔
جواب:
مسلمانوں کو اپنی زندگی کے معاملات میں غیروں کی نقالی کرنے اور ان کی مشابہت اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ مسلمانوں کو جو طریقہ حیات عطا کیا گیا ہے وہ ہر اعتبار سے مکمل ہے۔
جواب:
اسلامی تہذیب کا نمایاں ترین وصف یہ ہے کہ اس میں حضور نبی اکرم ﷺ کو مرکز و محور کی حیثیت حاصل ہے۔ امتِ مسلمہ کی شناخت نسبتِ رسالت مآب ﷺ سے ہی وابستہ ہے۔
جواب:
اسلامی تہذیب کا نمایاں ترین وصف یہ ہے کہ اس میں نبی کریم ﷺ کو مرکز و محور کی حیثیت حاصل ہے۔ امت مسلمہ کی شناخت نسبتِ رسالتِ محمدی ﷺ سے وابستہ ہے۔
جواب:
اسلامی تہذیب میں عقیدہ آخرت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اسلامی تہذیب کے پیروکار اس احساس کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں کہ قیامت کے دن انھیں اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ہر ایک عمل کے بارے میں جواب دہ ہونا ہے۔
جواب:
اسلامی تہذیب کی بنیاد تعلیم و تعلم کے فروغ پر رکھی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تہذیب نے جس خطے میں اپنے اثرات مرتب کیے ہیں وہاں علم و دانش کی شمعیں بھی روشن کی ہیں۔
جواب:
پہلی وحی کی پہلی آیت:
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ o (سورۃ العلق: 1)
ترجمہ: آپ ﷺ اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے (سب کو) پیدا فرمایا۔
جواب:
تہذیب کا لفظی معنی ہے آراستگی، صفائی اور اصلاح۔ اسلامی تہذیب میں مسلمانوں کو زندگی کے معاملات میں غیروں کی نقالی کرنے اور ان کی مشابہت اختیار کرنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ مسلمانوں کو جو طرز حیات عطا کیا گیا ہے وہ ہر اعتبار سے مکمل ہے۔
جواب:
اسلامی تہذیب کی دو خصوصیات:
1. توحید پر کامل یقین: اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر کامل یقین اسلامی تہذیب کی اساس ہے۔ توحید پر ایمان اسلامی تہذیب کا وہ عنصر ہے جس کے بغیر یہ تہذیب نہ تو وجود میں آ سکتی ہے اور نہ ہی الگ اپنا کوئی تشخص قائم رکھ سکتی ہے۔
2. نبی کریم ﷺ سے عقیدت و محبت: اسلامی تہذیب کا نمایاں وصف یہ ہے کہ اس میں حضور اکرم ﷺ کو مرکز و محور کی حیثیت حاصل ہے۔ امت مسلمہ کی شناخت نسبتِ رسالت مآب سے ہی وابستہ ہے۔
جواب:
خود اعتمادی اور خود انحصاری کا لفظی معنی اپنے آپ پر اعتماد اور انحصار کرنا ہے۔ اصطلاحی طور پر اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا، ان کا ادراک کرنا اور اپنی قوت و طاقت پر بھروسا کرنا خود اعتمادی کہلاتا ہے۔
جواب:
آپ ﷺ نے مشکل سے مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری اور تمام مشکلات کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ غزوہ بدر ہو یا غزوہ احد، خندق ہو یا حنین، تمام غزوات میں نبی کریم ﷺ نے عزم و ہمت اور استقلال کے ساتھ میدان جنگ میں ڈٹ کر دشمنوں کا مقابلہ کیا۔
جواب:
خود اعتمادی کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے نصیحت فرمائی ہے کہ جب آپ (کسی بات کا) عزم کر لیں تو اللہ تعالیٰ پر توکل کیجیے۔
جواب:
خود اعتمادی اور خود انحصاری کا لفظی معنی اپنے آپ پر اعتماد اور انحصار کرنا ہے۔ اصطلاحی طور پر اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا، ان کا ادراک کرنا اور اپنی قوت و طاقت پر بھروسا کرنا خود اعتمادی اور خود انحصاری ہے۔
جواب:
خود اعتمادی انسان کا وہ وصف اور طرزِ عمل ہے جو انسان کے لیے عظیم مقاصد کا حصول ممکن بنا دیتا ہے۔
جواب:
اسلام انسان کو جن اخلاق و اوصاف کو اپنانے کی تلقین کرتا ہے، ان میں عزم و ہمت، حوصلہ اور خود اعتمادی اور خود انحصاری سر فہرست ہیں۔ اسلام انسان کو کم ہمتی اور مشکلات سے بچنے کی تلقین کرتا ہے اور انسان کو عزم و ہمت سے کام لینے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا درس دیتا ہے۔
جواب:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ:
ترجمہ: "جب آپ (کسی بات کا) عزم کر لیں تو اللہ پر توکل کیجیے۔"
جواب:
نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو درس دیا کہ وہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی دوسروں کی طرف دیکھنے اور ان سے امید رکھنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر توکل کریں۔ اللہ تعالیٰ ان مشکلات سے نکلنے کا راستہ دکھا دے گا۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے بھیک مانگنے والے شخص کو بلا کر اسے محنت اور زورِ بازو پر بھروسا کرنے کا سبق دیا، اس کا سامان فروخت کروا کر اسے محنت اور زورِ بازو سے کما کر کھانے کی ترغیب دی۔
جواب:
خود اعتمادی اور خود انحصاری کے بارے میں آیت کا ترجمہ:
جب آپ (کسی بات کا) عزم کر لیں تو اللہ پر توکل کیجیے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہمیں خود اعتمادی و خود انحصاری سے بھر پور نظر آتی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی 53 سالہ مکی اور 10 سالہ مدنی زندگی کا ہر لمحہ خود اعتمادی اور خود انحصاری کا مرقع نظر آتا ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر عالم یہ تھا کہ آپ ﷺ اونٹنی قصوا پر سوار تھے اور آپ ﷺ کا سر انور جھکا ہوا تھا اور سر پر سیاہ رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے مگر رعب و دبدبہ قائم تھا۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو خود اعتمادی کا درس دیا ہے۔ کہ وہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی دوسروں کی طرف دیکھنے اور ان سے امید رکھنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر توکل کریں۔
جواب:
خود اعتمادی اور خود انحصاری اگر تکبر و غرور جیسے منفی جذبات سے خالی اور مثبت فکر سے بھر پور ہو تو انسان ہر قدم پر کامیاب ہوتا ہے۔ لوگ اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ایسا شخص لوگوں کے لیے نمونے کی حیثیت کا حامل بن جاتا ہے۔
جواب:
خود اعتمادی کے معاشرتی فوائد:
1. خود اعتمادی انسان کا وہ وصف اور طرزِ عمل ہے جو انسان کے لیے عظیم مقاصد کا حصول ممکن بنا دیتا ہے۔
2. خود اعتمادی اور خود انحصاری انسان کے اندیشوں، خوف اور شک کو دور کر کے انسان میں اعتماد اور امید پیدا کرتی ہے اور انسان کی جدوجہد، کوشش اور کامیابی کے امکانات کو روشن کر دیتی ہیں، جس سے کامیابی کی راہیں ہموار ہو جاتی ہیں۔
جواب:
جسمانی ریاضت ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ ورزش اور جسمانی صحت انسانی جسم کو متوازن کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی پٹھوں کی نشوونما میں بھی مدد کرتی ہے۔ جس کے نتیجے میں انسانی جسم میں خون کی پیداوار بڑھتی ہے، اسی طرح ورزش جسم میں آکسیجن کی سطح اور خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں مدد کرتی ہے۔ ورزش انسانی صحت کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے بہت مفید اور صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ ورزش کے علاوہ کھیل بھی جسمانی ریاضت اور اس کے نتیجے میں انسان کی جسمانی و ذہنی صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند کا باعث ہے۔
جواب:
کھیل کا انسان کی جسمانی و ذہنی صحت کے ساتھ براہ راست تعلق ہے، کیوں کہ کھیل کے میدان میں ہر وقت مستعد رہنا پڑتا ہے اور ذہن کو ہر وقت استعمال کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح کھیل سے جب انسانی جسم صحت مند ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات انسانی دماغ پر بھی مرتب ہوتے ہیں، کیوں کہ صحت مند جسم ہی صحت مند دماغ کی ضمانت ہے۔
جواب:
جسمانی ریاضت ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ ورزش اور جسمانی صحت انسانی جسم کو متوازن کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی پٹھوں کی نشوونما میں بھی مدد کرتی ہے جس کے نتیجے میں انسانی جسم میں خون کی پیداوار بڑھتی ہے، اسی طرح ورزش جسم میں آکسیجن کی سطح اور خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں مدد کرتی ہے۔ ورزش انسانی صحت کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے بہت مفید ہے اور صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔
جواب:
جسمانی ریاضت کے چار اصول:
1. جسمانی ریاضت تعلیم میں نقصان کا باعث نہ ہو
2. وقت ضائع نہ ہو
3. جوا، غیر شرعی امور، ظلم کا عنصر شامل نہ ہو
4. جانوروں کی لڑائی پر مشتمل نہ ہو
جواب:
ہمیں چاہیے کہ ہم ورزش اور کھیلوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ کھیلوں میں حصہ لینے سے ہماری زندگی میں برداشت، پابندی وقت اور نظم و ضبط پیدا ہوگا اور اس کے ہماری زندگی پر نہایت خوش گوار اثرات مرتب ہوں گے۔
جواب:
اسلام کے پیش نظر ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جس کے تمام شہری صحت مند، توانا اور جسمانی طور پر مضبوط ہوں، اسی لیے اسلام نے عبادات کے ساتھ ساتھ انسان کے جسم اور صحت کے حوالے سے بھی بنیادی تعلیمات ارشاد فرمائی ہیں۔
جواب:
اسلام میں انسان کی جسمانی صحت کی اہمیت اس قدر ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جسمانی طور پر توانا شخص کو کمزور شخص سے بہتر قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: "طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن کی نسبت بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔"
جواب:
اسلام ورزش کے جس طریقے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے وہ کھیل کود ہے۔ چناں چہ اسلام ایسے تمام کھیلوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جس سے انسان کا جسم صحت مند رہتا ہے اور اس کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے گھڑ سواری، نیزہ بازی، تیر اندازی، دوڑ، کشتی اور تیراکی وغیرہ کی ترغیب دی ہے۔
جواب:
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نیزہ بازی، دوڑ، گھڑ سواری جیسے کھیل کھیلا کرتے تھے۔
جواب:
اسلام ایسے تمام کھیلوں اور ورزشوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو انسان کے ذہن اور جسم پر اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں جن میں گھڑ سواری، دوڑ، نیزہ بازی، کشتی اور تیراکی وغیرہ شامل ہیں۔
جواب:
انسانی صحت کے لیے ورزش کے فوائد:
1. ورزش سے انسانی جسم میں بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے
2. ورزش انسانی جسم میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ کرتی ہے
3. ورزش کرنے سے ذہن و دماغ پر نہایت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں
4. انسان کے جسم کے پٹھے اور ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں
جواب:
جسمانی ریاضت سے مراد وہ مشقیں ہیں جو انسان کی جسمانی و ذہنی صحت کو بہتر بناتی ہیں۔
مثالیں:
• جسمانی ریاضت کرنے سے انسانی پٹھوں کی نشوونما میں مدد ملتی ہے
• جسمانی ریاضت انسانی صحت کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے مفید ہے
جواب:
جسمانی صحت کے متعلق حدیث کا ترجمہ:
"طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن کی نسبت بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔"
جواب:
جسمانی و ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز:
1. ورزش انسانی صحت کو ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے بہت مفید ہے
2. ہمیں چاہیے کہ ہم کھیلوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں
جواب:
جسمانی ریاضت کا ایک پہلو اخلاق سنوارنا بھی ہے جس طرح کھانے پینے میں توازن رکھنا، پانی بیٹھ کر پینا، کھانا کھاتے ہوئے بھوک رکھ کر کھانا، غذائی اعتبار سے کھانے پینے کی چیزوں کو استعمال کرنا اور ان کی حفاظت کرنا، جہاں جسمانی و ذہنی صحت کا سبب بنتا ہے وہاں جسمانی ریاضت اچھے اخلاق کی ضمانت بھی ہے۔