جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نام عبدالکریم تھا۔ اپنے آباؤ اجداد میں ایک بزرگ قشیر کی وجہ سے قشیری معروف ہوئے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کنیت ابو القاسم ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 986ء میں ایران کے علاقے نیشاپور کے قریب استوا نامی بستی میں ہوئی۔
جواب:
"التَّيْسِيْرُ فِي عِلْمِ التَّفْسِيْرِ" اور "لَطَائِفُ الْإِشَارَاتِ فِي تَفْسِيْرِ الْقُرْآنِ" علم التفسیر میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کی نمایاں کتب ہیں۔ اسمائے باری تعالیٰ پر "التَّحْبِيْرُ فِي عِلْمِ التَّذْكِيْرِ فِي مَعَانِي اِسْمِ اللَّهِ تَعَالَى" آپ رحمۃ اللہ علیہ کی مستند کتاب ہے۔
جواب:
برصغیر پاک و ہند میں سلسلہ چشتیہ کے معروف بزرگ ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اہل بیت کے چشم و چراغ ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نام محمد نظام الدین، والد کا نام احمد بخاری، سلطان الاولیا اور محبوب الہٰی مشہور القابات ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے آباؤ اجداد بخارا سے ہجرت کر کے بدایوں آباد ہوئے، وہیں بدایوں میں 1237ء میں آپ کی پیدائش ہوئی۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے پوری زندگی طلبِ علم، عبادات، ریاضت و مجاہدہ اور لوگوں کی تربیت و اصلاح میں گزاری، آپ متقی، پرہیز گار، صاحب سخاوت و ایثار، دل جوئی کرنے والے، عفو و درگزر سے کام لینے والے، حلیم و بردبار اور حسن سلوک کے پیکر تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات سے تزکیہ نفس اور روحانی آثار واضح ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کچھ ملے تو جمع نہ کرو، نہ ملے تو فکر نہ کرو، امید رکھو کہ اللہ تعالیٰ ضرور عطا فرمائے گا۔ کسی کی برائی نہ کرو، بلا ضرورت قرض نہ لو، ظلم کے بدلے عطا کرو۔
جواب:
تذکرۃ الاولیا، پندنامہ اور منطق الطیر آپ کی مشہور اصلاحی کتب ہیں جن کا موضوع حالاتِ اولیا، نصیحت اور تصوف ہے۔
جواب:
عطار کا لقب آپ رحمۃ اللہ علیہ کے پیشے کی وجہ سے مشہور ہوا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ خوش بو اور ادویہ سازی کے ماہر تھے۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے والد گرامی کا اسم مبارک سید سخی محمود بادشاہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ اور والدہ ماجدہ کا نام سیدہ غلام فاطمہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہا ہے۔
جواب:
حضرت سید عبداللطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ نے بہت سے علاقوں کا تبلیغی دورہ کیا جن میں کشمیر، بدخشاں، بخارا، مشہد، بغداد اور دمشق شامل ہیں۔ حضرت سید عبداللطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ نے نور پور شاہاں میں قیام کے دوران میں اسلامی تعلیمات کے ذریعے سے لا تعداد غیر مسلموں کے دلوں میں اسلام کی شمع روشن کی۔
جواب:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ کو نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس سے بہت زیادہ عقیدت و محبت تھی۔ انھوں نے نبی کریم ﷺ کی محبت میں نعیہ کلام بھی لکھا ہے۔ ان کی فارسی میں معروف نعت کا شعر ہے:
نسیما! جانب بطحا گزر کن
ز احوال محمد را خبر کن
ترجمہ: اے بادِ نسیم جب تیرا شہرِ بطحا سے گزر ہو
میرا احوال (حالات) سرکار کی خدمت میں بیان کرنا
جواب:
علم النحو میں 'شرح ملا جامی' آپ رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور تصنیف ہے۔
جواب:
لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ کا شجرہ نسب تیرہ واسطوں سے حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچتا ہے۔
جواب:
حضرت عثمان بن کبیر المعروف شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ نے سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔ قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد آپ رحمۃ اللہ علیہ نے بہت ہی قلیل عرصے میں مروجہ عربی و فارسی علوم میں بھی مکمل دسترس حاصل کر لی۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نام عبدالکریم اور آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کنیت ابوالقاسم ہے۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 986 عیسوی میں ایران کے علاقے نیشاپور کے قریب استوا نامی بستی میں ہوئی۔
جواب:
التیسیر فی علم التفسیر اور لطائف القرآن فی تفسیر القرآن، علم التفسیر میں آپ کی نمایاں کتب ہیں۔
جواب:
حضرت امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ نے امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اور امام الحرمین جوینی سے اکتساب فیض کیا۔
جواب:
تصوف میں حضرت امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف میں "رسالہ قشیریہ" ایک ایسا مختصر اور جامع رسالہ ہے جس میں تصوف کے تمام پہلوؤں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ جس کی ابتدا میں تصوف کے عقائد بیان کیے گئے ہیں، اس کے بعد 83 صوفیہ کرام کے حالات قلم بند کیے گئے ہیں۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ عطر کا کاروبار کرتے تھے۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اصل نام ابوحمید تھا لیکن قلمی نام فرید الدین سے مشہور ہوئے۔ عطار آپ رحمۃ اللہ علیہ کا لقب آپ رحمۃ اللہ علیہ کے پیشے کی وجہ سے مشہور ہوا۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے مختلف علوم و فنون خصوصاً "علم الکلام"، فلسفہ، قرآن و حدیث اور ادب میں مہارت حاصل کی۔
جواب:
1221 ہجری میں تاتاریوں کے ہنگاموں کے دوران 114 سال کی عمر میں نیشاپور میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت ہوئی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار مبارک بھی نیشاپور میں واقع ہے۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نام نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ ہے اور سلطان الاولیا اور محبوب الہٰی آپ کے مشہور القابات ہیں۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 1237 ہجری میں بدایوں میں پیدا ہوئے۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
• کچھ ملے تو جمع نہ کرو، نہ ملے تو فکر نہ کرو، امید رکھو کہ اللہ ضرور عطا فرمائے گا۔
• کسی کی برائی نہ کرو۔
• بلا ضرورت قرض نہ لو، ظلم کے بدلے عطا کرو۔
• اللہ کی راہ میں جتنا بھی خرچ کرو گے وہ اسراف نہیں ہے اور جو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے اسراف ہے خواہ کتنا ہی کم ہو۔
جواب:
"راحت القلوب" حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کی وہ تحریری کاوش ہے جس میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شیخ کامل بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات اکٹھے کیے ہیں۔
جواب:
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات آپ رحمۃ اللہ علیہ کے ان تعلیمات کا نچوڑ ہیں جن میں شریعت، عبادت، احسان، حقوق اللہ اور حقوق العباد کا تفصیلی بیان ہے۔
جواب:
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے 1324 ہجری میں دہلی میں وفات پائی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار مبارک بھی دہلی میں ہے۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 1617ء عیسوی اور 1026 ہجری میں ضلع چکوال کے علاقے چولی کرسال میں پیدا ہوئے۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے والد گرامی کا اسم مبارک سید سخی محمود بادشاہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ تھا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ کا نام سیدہ غلام فاطمہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہا تھا۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے بہت سے علاقوں کا تبلیغی دورہ کیا جن میں کشمیر، بدخشاں، بخارا، مشہد، بغداد اور دمشق شامل ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ حج کی غرض سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی تشریف لے گئے۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نام عبدالرحمن اور لقب جامی ہے۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے والد گرامی کا نام مولانا نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ تھا۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 23 شعبان، 817 ہجری بمطابق 1414 عیسوی میں ہرات (افغانستان) میں پیدا ہوئے۔
جواب:
قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے جن علوم کا جاننا ضروری ہے ان میں سے علم النحو سر فہرست ہے۔
جواب:
علم النحو میں مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور تصنیف کا نام "شرح ملا جامی" ہے۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اصل نام سید عثمان مروندی تھا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار سندھ کے علاقے سیہون شریف میں ہے۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 538 ہجری بمطابق 1143 عیسوی میں مروند یا میوند (موجودہ آذربائیجان یا افغانستان) میں ہوئی۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے والد گرامی کا نام ابراہیم کبیر الدین تھا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ کا نام ماجدہ کبیر الدین تھا۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے لوگوں کے اخلاق کو سنوارا، انسانوں کے دلوں میں نیکی اور سچائی کی لگن پیدا کی اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور پیار سے رہنا سکھایا۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے 21 شعبان المعظم 673 ہجری میں سیہون شریف، سندھ میں وفات پائی۔
جواب:
ابو اسحاق، ابراہیم بن موسیٰ بن محمد الشاطبی رحمۃ اللہ علیہ قاہرہ کے مشہور محدث، فقیہ اور جامع العلوم تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا خاندان بنو سہم سے تعلق رکھتا تھا۔
جواب:
امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ علومِ شرعیہ کے ماہرِ عالم اور فقہ کے امام تسلیم کیے جاتے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کو فقہ میں ید طولیٰ حاصل تھا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اعلیٰ پائے کے ادیب کے طور پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
جواب:
امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی دو تصانیف:
• الاتقان فی علوم القرآن
• تاریخ الخلفاء
جواب:
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ سات علوم یعنی تفسیر، حدیث، فقہ، نحو، معانی، بیان اور بدیع میں ماہر تھے۔
جواب:
علامہ ابن خلدون کی وجہ شہرت ان کی سب سے بڑی تصنیف "مقدمہ ابن خلدون" ہے۔ یہ مقدمہ تاریخ، سیاست، عمرانیات، اقتصادیات اور ادبیات کا گراں مایہ خزانہ ہے۔
جواب:
ابن خلدون رحمۃ اللہ علیہ کی علمی خدمات کو تین مختلف پہلوؤں پر جانچا جاتا ہے:
اول: مورخ و تاریخ نویس کی حیثیت سے
دوم: فلسفہ و تاریخ کے بانی کی حیثیت سے
سوم: عمرانیات کے امام اور ماہر کی حیثیت سے
ابن خلدون رحمۃ اللہ علیہ کو تاریخ اور فلسفہ تاریخ اور عمرانیات (سوشیالوجی) کا ماہر تسلیم کیا جاتا ہے۔ علامہ ابن خلدون رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور تصانیف میں کتاب العبر اور مقدمہ ابن خلدون شامل ہیں۔
جواب:
ابن عربی کا نام محمد بن علی اور لقب محی الدین ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کو "شیخ اکبر" بھی کہا جاتا ہے۔
جواب:
ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف اپنے زمانے کے مروجہ علومِ اسلام کا احاطہ کرتی ہیں اور زیادہ تر تصوف کے موضوع پر ہیں، نیز آپ نے حدیث، تفسیر، سیرت اور ادب کے موضوع پر بھی کتابیں لکھیں۔
جواب:
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ 1159 ہجری کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا تاریخی نام غلام حلیم ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلہ نسب 34 واسطوں سے حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ "سراج الہند" کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے ہیں۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے برصغیر میں قرآن اور حدیث کے علوم کے فروغ کے لیے جو کارنامے سرانجام دیے، ان کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
جواب:
اسلامی فلسفہ کی دنیا میں ابن رشد کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ محمد بن احمد بن رشد رحمۃ اللہ علیہ قرطبہ (اندلس) کے ایک باعزت گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فقہ، طب اور فلسفہ میں اپنے زمانے کے علما سے سندِ فراغت حاصل کرنے کے بعد حکمت میں کمال حاصل کیا۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی بہت سی تصانیف ہیں جن میں بدایۃ المجتہد خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جس میں ابن رشد نے فقہی مذاہب کے علاوہ اپنی مستقل آرا کا تذکرہ کیا ہے اور ائمہ فقہ کی آرا و دلائل کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔
جواب:
امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ مشہور محدث، فقیہ اور جامع العلوم تھے جنھیں مجددِ دینِ اسلام بھی شمار کیا جاتا ہے۔ امام شاطبی 538 ہجری میں اندلس کے قصبے شاطبہ میں پیدا ہوئے۔ امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ کا پورا نام ابو اسحاق، ابراہیم بن موسیٰ الشاطبی ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے قصبے شاطبہ کی نسبت سے امام شاطبی کے نام سے مشہور ہیں۔ امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ علومِ شرعیہ کے ماہر عالم اور لغت کے امام تسلیم کیے جاتے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کو قرآت اور تفسیر میں بھی ید طولیٰ حاصل تھا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ ایک اعلیٰ پائے کے ادیب اور شاعر بھی تھے۔
جواب:
امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور تصانیف:
• الاعتصام
• الموافقات
• کتاب المجالس
جواب:
امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ نے 790 ہجری میں قاہرہ میں وفات پائی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی نماز جنازہ مشہور عالمِ علامہ عراقی نے پڑھائی۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اصل نام عبدالرحمن، کنیت ابوالفضل اور لقب جلال الدین تھا۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ ایک شہرہ آفاق مفسر، محدث، فقیہ اور مؤرخ تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کتب کی تعداد 500 سے زائد ہے۔
جواب:
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور کتب:
• تفسیر جلالین
• تفسیر درمنثور
• الاتقان فی علوم القرآن
• تاریخ الخلفا
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش مصر کے قصبے اسیوط میں 849 ہجری میں ہوئی۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ جن سات علوم کے ماہر تھے ان میں سے چار:
• تفسیر
• حدیث
• فقہ
• نحو
جواب:
علامہ ابن خلدون رحمۃ اللہ علیہ عالم اسلام میں مورخ، فقیہ، فلسفی اور سیاست دان کی حیثیت سے مشہور ہیں۔
جواب:
ابن خلدون رحمۃ اللہ علیہ کی علمی خدمات کو تین پہلوؤں پر جانچا جاتا ہے:
اول: مورخ و تاریخ نویس کی حیثیت سے
دوم: فلسفہ و تاریخ کے بانی کی حیثیت سے
سوم: عمرانیات کے امام اور ماہر کی حیثیت سے
جواب:
ابن خلدون رحمۃ اللہ علیہ نے چوہتر (74) برس کی عمر میں 808 ہجری میں قاہرہ میں وفات پائی۔
جواب:
علامہ ابن خلدون کی دو تصانیف:
• مقدمہ ابن خلدون
• کتاب العبر
جواب:
شیخ ابن عربی کا پورا نام شیخ ابوبکر محی الدین محمد بن علی تھا۔
جواب:
شیخ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ 17 رمضان 560 ہجری (28 جولائی 1165ء) میں مرسیہ (اندلس) میں پیدا ہوئے۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے 638 ہجری (1240ء) میں دمشق میں وفات پائی۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے صوفیانہ شاعری کی۔
جواب:
شیخ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی دو کتب:
• فصوص الحکم
• فتوحات مکیہ
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 25 رمضان المبارک 1159 ہجری بمطابق 20 ستمبر 1746ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کو علومِ فلسفہ و منطق کے ساتھ ساتھ علومِ حدیث و تفسیر میں بھی کمال حاصل تھا۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی (80) برس کی عمر میں 9 شوال 1239 ہجری بمطابق 1823 عیسوی میں وفات پائی۔
جواب:
وفات کے وقت آپ رحمۃ اللہ علیہ کی عمر اسی (80) برس تھی۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا پورا نام محمد بن احمد بن رشد ہے۔
جواب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فقہ، طب، فلسفہ اور حکمت میں کمال حاصل کیا۔
جواب:
آپ کا نام عبداللہ اور کنیت ابوموسیٰ تھی۔ آپ کے والد کا نام قیس اور والدہ کا نام طیبہ تھا۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ یمن کے رہنے والے تھے اور آپ کا تعلق یمن کے مشہور قبیلہ اشعر سے تھا، اسی نسبت سے آپ اشعری کہلائے۔
جواب:
جب مکہ مکرمہ میں اسلام کی دعوت کا آغاز ہوا تو حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اس کی خبر سنی اور حق کی تلاش میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ اپنے خاندان کو دعوتِ دین دینے کے لیے یمن واپس گئے۔ آپ کی کوششوں سے آپ کے قبیلے کے پچاس افراد نے اسلام قبول کیا۔
جواب:
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں خاص مقام رکھتے تھے۔ آپ ان چھ صحابہ میں سے تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں فتویٰ دینے کی اجازت تھی۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ آپ کے بارے میں فرماتے تھے: "ابوموسیٰ سر تا پا علم کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔"
قرآن و سنت کی تبلیغ و اشاعت آپ کی زندگی کا اہم مشن تھا۔ آپ کا اصول تھا کہ علم کو دوسروں تک ضرور پہنچانا چاہیے۔ جہاں کہیں چند لوگ ملتے، آپ انہیں کوئی نہ کوئی حدیث ضرور سنا دیتے۔ آپ سے 360 احادیث مروی ہیں، جن میں سے 50 احادیث بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہیں (متفق علیہ)۔
جواب:
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو قرآن مجید کی تلاوت سے بہت شغف تھا اور وہ اس میں بہت وقت گزارتے تھے۔ آپ کی آواز نہایت دلکش اور پراثر تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ابوموسیٰ کو داؤد علیہ السلام کی سریلی آواز میں سے حصہ ملا ہے۔"
آپ جب قرآن پاک تلاوت کرتے تو سننے والے محو ہو جاتے تھے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ بھی جب آپ کی تلاوت سنتے تو کچھ دیر کے لیے ٹھہر جاتے تھے۔
جواب:
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ذوالحجہ 44 ہجری میں وفات پائی۔ وفات کے وقت آپ کی عمر تقریباً 61 سال تھی۔
جواب:
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے قرآن و حدیث کی تعلیم و تبلیغ کو اپنا نصب العین بنایا۔ آپ کا عقیدہ تھا کہ جو علم آتا ہے اسے دوسروں تک پہنچانا چاہیے۔ ہر موقع پر آپ لوگوں کو احادیث سے آگاہ کرتے تھے۔ آپ سے 360 احادیث منقول ہیں جن میں 50 متفق علیہ (بخاری و مسلم دونوں میں) ہیں۔
جواب:
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ اور کنیت ابوموسیٰ تھی۔ آپ کے والد کا نام قیس اور والدہ کا نام طیبہ تھا۔ آپ یمن کے رہنے والے تھے اور قبیلۂ اشعر سے تعلق رکھتے تھے، اسی لیے اشعری کہلاتے ہیں۔
جواب:
مکہ میں اسلام کی دعوت سن کر حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ راہِ حق کی تلاش میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے یمن بھیجے جانے والے عاملین کو ہدایت فرمائی:
"تم دونوں آسانی پیدا کرنا، مشکل میں نہ ڈالنا، خوشخبری دینا، نفرت نہ دلانا، آپس میں اتفاق رکھنا اور اختلاف نہ کرنا۔"
جواب:
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے قرآن و سنت کی تعلیم و تبلیغ کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ آپ کا طریقہ کار تھا کہ ہر موقع پر لوگوں تک دینی علم پہنچایا جائے۔ چھوٹے سے چھوٹے مجمع کو بھی آپ احادیث سے روشناس کرتے تھے۔
جواب:
آپ نے ذوالحجہ 44 ہجری میں وفات پائی۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً 61 سال تھی۔
جواب:
جواب:
آپ کا نام عمرو اور والد کا نام عاص تھا۔ آپ کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنو سہم سے تھا۔ آپ کے والد اپنے قبیلے کے سردار اور بڑے تاجر تھے۔ آپ ہجرت سے 47 برس پہلے مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ سپہ گری اور شہ سواری کے فن میں ماہر تھے۔
جواب:
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ سے پہلے 8 ہجری میں حضرت عثمان بن ابی طلحہ اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کے ہمراہ بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔ ان تینوں کے اسلام لانے پر رسول اکرم ﷺ بہت خوش ہوئے اور فرمایا: "مکہ والوں نے اپنے جگر کے ٹکڑے تمھاری طرف پھینک دیے ہیں۔"
جواب:
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سفارت کاری کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے انھیں عمان میں سفیر بنا کر بھیجا جہاں انھوں نے وہاں کے حاکم کو اسلام کی دعوت دی اور حضور ﷺ کا دعوت نامہ پہنچایا، جس کے نتیجے میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ خلافت راشدہ کے دور میں بھی وہ خلافت اسلامیہ کے نمائندے کی حیثیت سے رومی اور ایرانی وفود سے ملنے والے سفارت کاروں میں شامل رہے۔
جواب:
جواب:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اجازت سے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یمن کے چار ہزار مجاہدوں کے ساتھ مصر پر حملہ کیا۔ انھوں نے عریش، فرسا اور بلس کے شہر فتح کیے، پھر رومی سپہ سالار تھیوڈور سے سخت مقابلہ کیا۔ 20 ہجری میں بابل شہر فتح کیا اور 21 ہجری میں اسکندریہ ان کے زیر اقتدار آ گیا۔ آپ نے عدل و انصاف کا محکمہ قائم کیا، ٹیکس کے قواعد مقرر کیے اور فسطاط شہر کی بنیاد رکھی (جو بعد میں قاہرہ کہلایا)۔ آپ کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر مصریوں کی بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا۔
جواب:
آپ نے جنگ اجنادین، یرموک، فلسطین اور فتح دمشق میں شریک ہوئے مگر آپ کا اصل کارنامہ فتح مصر ہے۔
جواب:
آپ نے فسطاط شہر کی بنیاد رکھی جس کا نام چوتھی صدی ہجری میں قاہرہ پڑ گیا۔
جواب:
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے سفارت کاری اور سپہ سالاری میں نمایاں کارنامے انجام دیے۔ آپ نے عدل و انصاف کا محکمہ قائم کیا، ٹیکس کے قواعد مقرر کیے، فسطاط (قاہرہ) شہر کی بنیاد رکھی۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ فتح مصر ہے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے آپ کے بارے میں فرمایا: "عمرو بن العاص قریش کے نیک لوگوں میں سے ہیں۔" (جامع ترمذی: 3845)
جواب:
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے 43 ہجری میں مصر میں وفات پائی۔ آپ سے انتالیس (39) احادیث مروی ہیں۔
جواب:
آپ نے عدل و انصاف کا محکمہ قائم کیا اور ٹیکس کے قواعد و ضوابط مقرر کیے۔
جواب:
آپ کے آباؤ اجداد کے امتیازی اوصاف:
جواب:
رسول اکرم ﷺ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو عمان سفیر بنا کر بھیجا جہاں آپ نے عمان کے حاکم کو اسلام کی دعوت دی اور حضور ﷺ کا دعوتی خط پہنچایا، جس سے متاثر ہو کر انھوں نے اسلام قبول کیا۔ خلافت اسلامیہ کے نمائندے کی حیثیت سے آپ رومی اور ایرانی وفود سے ملے۔ تمام ادوار میں آپ کی سفارت کاری بڑی نمایاں رہی۔
جواب:
آپ کا نام عمرو اور کنیت ابوامیہ تھی۔ آپ کے والد کا نام امیہ بن خویلد تھا۔ حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ آغاز اسلام میں مسلمانوں کے مخالف تھے۔ آپ نے غزوہ بدر اور غزوہ احد میں مشرکین مکہ کی طرف سے شرکت کی اور بہادری کے جوہر دکھائے۔ غزوہ احد کے بعد آپ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئے۔
جواب:
6 ہجری میں نبی کریم ﷺ نے حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کو شاہ حبشہ نجاشی کے پاس اسلام کی دعوت کا خط دے کر بھیجا۔ اس خط میں نجاشی کو دعوت اسلام دینے کے علاوہ مہاجرین کی میزبانی کی سفارش اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا پیغام بھی شامل تھا۔ نجاشی نے نبی کریم ﷺ کی دعوت قبول کی اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔
جواب:
حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کی وفات 60 ہجری میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ہوئی۔ آپ مدینہ منورہ میں دفن ہوئے۔
جواب:
حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کا نام عمرو اور کنیت ابوامیہ تھی۔ آپ کے والد کا نام امیہ بن خویلد تھا۔ آپ آغاز اسلام میں مسلمانوں کے مخالف تھے لیکن غزوہ احد کے بعد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئے۔
جواب:
حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر اور غزوہ احد میں مشرکین مکہ کی طرف سے شرکت کی اور مسلمانوں کے خلاف لڑے۔
جواب:
حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ 60 ہجری میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں فوت ہوئے۔ آپ مدینہ منورہ میں دفن ہیں۔
جواب:
6 ہجری میں نبی کریم ﷺ نے حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کو شاہ حبشہ نجاشی کے پاس اسلامی دعوت کا خط دے کر بھیجا۔ اس خط میں نجاشی کو دعوت اسلام دینے کے علاوہ مہاجرین کی میزبانی کی سفارش کی گئی تھی۔
جواب:
کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی میں سفارت کاری کو بہت اہم حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ سفارت کاری کے ذریعے ہی دوسرے ممالک کے ساتھ معاشی اور سیاسی تعلقات استوار ہوتے ہیں۔ یہ بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانے اور مفاہمت قائم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔
جواب:
آپ کا نام جابر اور کنیت ابوعبداللہ ہے۔ آپ کی والدہ کا نام نسیبہ اور والد کا نام عبداللہ تھا۔ آپ کے دادا اپنے قبیلے کے رئیس تھے۔ آپ بیت عقبہ ثانیہ میں اپنے والد کے ساتھ اسلام لائے۔
جواب:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد شہید ہوئے تو وہ مقروض تھے۔ آپ بیان فرماتے ہیں کہ جب ہمارے باغ کی کھجوریں پک گئیں تو میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ میرے باغ میں تشریف لائیں اور اپنے دست مبارک سے قرض خواہوں میں قرض تقسیم فرمائیں۔ نبی کریم ﷺ باغ میں تشریف لائے، کھجوروں کو اکٹھا کروایا، ان کے ارد گرد تین چکر لگائے اور تقسیم کا حکم دیا۔ قرض ادا ہو گیا لیکن کھجوروں کے ڈھیر میں کوئی کمی نہ آئی۔ (صحیح بخاری: 3580)
جواب:
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کی شہادت کے بعد ایک بیوہ عورت سے صرف اس وجہ سے نکاح کیا تاکہ ان کی بہنوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ گھر کا نظام بھی بہتر انداز میں چل سکے۔
جواب:
آپ کو علم حدیث کا اس قدر شوق تھا کہ ایک حدیث سننے کے لیے مہینوں کی مسافت طے کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے حدیث سننے کے لیے آپ نے اونٹ خرید کر شام کا طویل سفر طے کیا۔ آپ سے 1540 احادیث مروی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی حدیثوں کا ایک مجموعہ "صحیفہ جابر بن عبداللہ" کے نام سے آپ کی طرف منسوب ہے۔ آپ نے مسجد نبوی میں درس حدیث کا آغاز کیا۔ مکہ، مدینہ، بصرہ، کوفہ اور مصر تک لوگوں نے آپ سے علم حاصل کیا۔
جواب:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نہایت استقامت والے، جوش ایمانی، جرات اظہار حق، امر بالمعروف، اتباع سنت اور اعلیٰ اخلاق کی خوبیوں پر فائز تھے۔ دلیری اور ثابت قدمی آپ کے نمایاں اوصاف تھے۔
جواب:
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو علم حدیث کا اس قدر شوق تھا کہ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث سننے کے لیے اونٹ پر سوار ہو کر شام کا طویل سفر طے کیا۔ یہ واقعہ آپ کے علم کے لیے جذبہ و شوق کی واضح مثال ہے۔
جواب:
آپ کے والد کا نام عبداللہ اور والدہ کا نام نسیبہ تھا۔
جواب:
آپ کے دادا اپنے قبیلے کے رئیس تھے۔
جواب:
غزوہ احد سے پہلے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا: "بیٹا میری خواہش ہے کہ میں احد کا پہلا شہید بنوں، اگر ایسا ہوا تو میرے اوپر جو قرض ہے وہ ادا کرنا اور اپنی بہنوں کا خیال رکھنا۔"
جواب:
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کی شہادت کے بعد ایک بیوہ عورت سے صرف اس وجہ سے نکاح کیا تاکہ ان کی بہنوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ گھر کا نظام بھی بہتر انداز میں چل سکے۔
جواب:
آپ نے انیس (19) غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شرکت فرمائی۔
جواب:
حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک حدیث تھی اور وہ شام میں رہتے تھے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو انھوں نے ایک اونٹ خریدا اور اس پر سوار ہو کر ان کے پاس پہنچے اور وہ حدیث سنی۔ یہ واقعہ آپ کے علم حدیث کے شوق کی واضح دلیل ہے۔
جواب:
آپ سے 1540 احادیث مروی ہیں۔ آپ کے احادیث کے مجموعے کا نام "صحیفہ جابر بن عبداللہ" ہے۔
جواب:
آپ نہایت استقامت والے، جوش ایمانی، جرات اظہار حق، امر بالمعروف، اتباع سنت اور اعلیٰ اخلاق کی خوبیوں پر فائز تھے۔
جواب:
حضرت امام زید بن علی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے ہیں۔ آپ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم میں نمایاں شخصیت ہیں۔ آپ کی ولادت باسعادت 76 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔
جواب:
حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: "اللہ کی قسم! حضرت زید بن علی رحمۃ اللہ علیہ ہم سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والے، اللہ کے دین کی سب سے زیادہ سمجھ رکھنے والے اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے تھے۔ اللہ کی قسم دنیا اور آخرت میں اب ہم میں سے ان کے مثل کوئی بھی موجود نہیں۔"
جواب:
آپ نے حکومتِ اسلامیہ کے قیام اور بقا کی کوششیں کیں۔ آپ نے اپنے دور کے مظالم کے خلاف آواز بلند کی تو حضرت امام حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کا ساتھ دیا۔ چالیس ہزار لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آپ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے تھے۔
جواب:
آپ نے اپنے آبا و اجداد کی سیرت و سنت پر عمل کرتے ہوئے ظلم و جور کی حامل قوتوں کا مقابلہ کیا۔ آپ لوگوں کو کتاب و سنت کی پیروی، جابر حکمرانوں سے جہاد اور محروم افراد کی حمایت کی دعوت دیتے تھے۔
جواب:
آپ سے امام ابو داؤد، امام ترمذی، امام نسائی اور امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہم نے احادیث مبارکہ روایت کی ہیں۔ علم اصول حدیث کے ماہرین نے آپ کو تابعین میں سے شمار کیا ہے، کیوں کہ آپ نے حضرت ابوالطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ کی زیارت کی۔
جواب:
حضرت امام زید بن علی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے ہیں۔ آپ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم میں نمایاں شخصیت ہیں۔ آپ کی ولادت باسعادت 76 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔
جواب:
آپ 76 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔
جواب:
آپ قرات، علوم قرآنیہ، عقائد اور علم الکلام کے ماہر تھے۔
جواب:
آپ نے 122 ہجری میں جامِ شہادت نوش کیا۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر چوالیس (44) سال تھی۔
جواب:
آپ کا مزار مبارک حجاز اور شام کو ملانے والی مشہور شاہراہ موتہ کے شمال میں بائیس (22) کلومیٹر کے فاصلے پر 'ربہ' کے مقام پر واقع ہے۔
جواب:
آپ کو تابعین میں اس لیے شمار کیا جاتا ہے کیوں کہ آپ نے صحابہ کرام کی زیارت کی، ان میں حضرت ابوالطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ شامل ہیں۔
جواب:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حضور اکرم ﷺ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ صبح اٹھ کر کاشانہ نبوت کی زیارت سے آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ صبح کی تاریکی میں یہ کم سن بچہ بستر سے اٹھتا اور نبی کریم ﷺ کا سامان وضو مہیا کرنے کے لیے مسجد نبوی کا راستہ لیتا تھا۔ ایام شباب میں ان کی محبت کی کوئی حد نہ تھی۔ وہ شمع نبوت پر پروانہ وار فدا تھے۔
جواب:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی وفات تک کم و بیش دس برس آپ ﷺ کی خدمت کی۔
جواب:
آپ کا معمول تھا کہ فجر کی نماز سے پہلے در اقدس پر حاضر ہو جاتے اور دوپہر کو اپنے گھر واپس آتے، ظہر کے وقت پھر حاضر ہوتے اور عصر تک رہتے، نماز عصر پڑھ کر اپنے گھر کا رخ کرتے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے لیے دعا فرمائی: "اے اللہ اس کے مال میں اضافہ فرما اور اس کی اولاد زیادہ کر اور جو تو نے اس کو عطا فرمایا ہے، اس میں برکت دے۔"
مال کی یہ حالت تھی کہ انصار میں کوئی شخص آپ کے برابر مال دار نہ تھا اور اولاد میں اس قدر برکت تھی کہ آپ کے بیٹوں، بیٹیوں اور پوتے پوتیوں کی تعداد سو (100) سے زیادہ تھی۔
جواب:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ خادم رسول تھے۔ آپ کو حدیث روایت کرنے میں انتہائی اہم مقام حاصل ہے۔ علم فقہ میں بھی آپ کو کمال حاصل تھا۔ حب رسول ﷺ، اتباع سنت، امر بالمعروف اور حق گوئی آپ کے نمایاں اوصاف تھے۔
جواب:
علم حدیث کی طرح آپ کو علم فقہ میں بھی کمال حاصل تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کو حدیث روایت کرنے میں انتہائی اہم مقام حاصل تھا۔ آپ کا شمار ان جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جن کو نبی کریم ﷺ نے حدیث قلم بند کرنے کی تلقین فرمائی اور انھوں نے آپ ﷺ کے اقوال کو لکھ کر محفوظ فرمایا۔
جواب:
آپ کی کنیت ابوحمزہ اور لقب خادم رسول اللہ ﷺ تھا۔
جواب:
آپ کی والدہ کا نام حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا تھا۔
جواب:
آپ فرماتے ہیں: "میں نے دس برس نبی کریم ﷺ کی خدمت کی، لیکن اس عرصے میں آپ ﷺ نے کبھی خفا نہیں ہوئے اور نہ کبھی کسی کام کے بارے میں یہ فرمایا کہ اب تک کیوں نہ ہوا۔"
جواب:
نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی:
"اے اللہ اس کے مال میں اضافہ فرما اور اس کی اولاد زیادہ کر اور جو تو نے اس کو عطا فرمایا ہے، اس میں برکت دے۔"
جواب:
آپ نہایت ملنسار اور صبر و استقامت والے تھے۔ گفتگو بہت سادہ اور راست گوئی سے فرماتے تھے۔ ہر فقرہ تین بار دہراتے، کسی کے گھر تشریف لے جاتے تو تین بار اجازت طلب کرتے، انتہائی سادہ کھانا تناول فرماتے تھے۔
جواب:
حب رسول اللہ ﷺ، اتباع سنت، امر بالمعروف اور حق گوئی آپ کے نمایاں اوصاف تھے۔
جواب:
آپ کو علم حدیث اور علم فقہ میں کمال حاصل تھا۔
جواب:
آپ نے 93 ہجری میں بصرہ میں وفات پائی۔
No short questions available for this section.
جواب:
حضرت امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ نبی کریم ﷺ کے خاندان کے عظیم فرد، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے ہیں۔ آپ کا نام علی، کنیت ابوالحسن، لقب زین العابدین (عبادت گزاروں کی زینت) اور سید الساجدین (کثرت سے سجدہ کرنے والا) ہے۔ آپ مدینہ منورہ میں 38 ہجری میں پیدا ہوئے۔ آپ کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔
جواب:
سیدنا امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کی عبادت اور تقویٰ میں بڑی شہرت تھی، اس بنا پر انھیں "زین العابدین" کہا جاتا ہے۔ آپ فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ کثرت سے نوافل پڑھا کرتے تھے۔ آپ جب نماز کے لیے وضو فرماتے تو چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا اور جسم پر لرزا طاری ہو جاتا، پوچھنے والے کو بتاتے کہ "تم نہیں جانتے کہ میں اب کس ذات کے سامنے جا کر کھڑا ہونے والا ہوں؟"
جواب:
مدینہ منورہ میں آپ سے قرآن کی تفسیر، احادیثِ نبویہ کی روایت اور شریعت کے حلال و حرام کا علم حاصل کیا جاتا تھا۔ آپ کے شاگردوں میں آپ کے فرزند امام محمد باقر، زہری، عمرو بن دینار، ہشام بن عروہ وغیرہ شامل تھے۔ آپ کی مشہور کتابیں:
• صحیفہ سجادیہ (دعاؤں پر مشتمل کتاب)
• رسالۃ الحقوق (اللہ تعالیٰ کے حقوق، اعضا کے حقوق اور غیر مسلموں کے حقوق پر مشتمل کتاب)
جواب:
آپ کے بارے میں ہم عصر علما کے اقوال:
• امام زہری: "آپ سے افضل خاندانِ قریش میں کسی کو نہیں دیکھا"
• سعید بن مسیب: "سیدنا علی بن حسین سے افضل کوئی شخص نہیں"
• امام شافعی: آپ کو مدینہ منورہ کا نامور فقیہ قرار دیا
جواب:
10 محرم کو نماز ظہر پر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان سے آخری ملاقات کی، ان کو اپنی انگوٹھی سونپی اور خاص نصیحتیں کیں، لیکن بیماری کی شدت کی بنا پر وہ لڑائی میں شرکت نہ کر سکے۔
جواب:
سانحہ کربلا کے وقت آپ کی عمر 23 سال تھی اور آپ بیمار تھے۔ آپ کو خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ دمشق میں یزید کے سامنے لایا گیا۔ کوفہ اور شام میں آپ نے اسلام کی حقانیت اور ظلم و عدل کے موضوع پر خطبات دیے جو اپنا ایک خاص علمی، ادبی اور روحانی مقام رکھتے تھے۔
جواب:
نام: علی
کنیت: ابوالحسن
القاب: زین العابدین (عبادت گزاروں کی زینت)، سید الساجدین (کثرت سے سجدہ کرنے والا)
جواب:
آپ مدینہ منورہ میں 38 ہجری میں پیدا ہوئے۔
جواب:
آپ فرماتے: "جو صدقہ رات کے اندھیرے میں دیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور سائل تک پہنچنے سے پہلے اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے۔"
جواب:
آپ کے مشہور شاگرد:
1. امام محمد باقر (فرزند)
2. زہری
3. عمرو بن دینار
4. ہشام بن عروہ
جواب:
کوفہ اور شام میں آپ نے ان دو موضوعات پر خطبات دیے:
1. اسلام کی حقانیت
2. ظلم و عدل
جواب:
آپ کی دو مشہور کتابیں:
1. صحیفہ سجادیہ
2. رسالۃ الحقوق
جواب:
"صحیفہ سجادیہ" کا موضوع ذکر اور دعا مناجات ہے۔
جواب:
"رسالۃ الحقوق" میں:
• اللہ تعالیٰ کے حقوق
• انسانی اعضا کے حقوق (کان، ناک، آنکھ، زبان وغیرہ)
• غیر مسلموں کے حقوق
کا ذکر کیا گیا ہے۔
جواب:
آپ کے دو اقوال:
1. "اجنبی وہ نہیں جو شام و یمن کے شہروں میں اجنبی ہوں، اجنبی تو وہ ہے جس کے لیے قبر اور کفن اجنبی ہوں۔"
2. "ہر مسافر کا حق ہے کہ مقیم لوگ اس کو جگہ اور سکونت میں حصہ دار بنائیں۔"
جواب:
آپ نے 25 محرم 95ھ میں 57 برس کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔
جواب:
واقعہ کربلا 10 محرم 61 ہجری (680ء) کو موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔
جواب:
آپ کا نام عبداللہ، کنیت ابو محمد اور ابوعبدالرحمن تھی۔ آپ کے والد کا نام عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور والدہ کا نام ریطہ بنت منبہ تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔
جواب:
زہد و تقویٰ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی مصاحبت کے بعد جو وقت بچتا، وہ یاد الٰہی میں گزارتے تھے۔ آپ دن بھر روزے رکھتے اور رات عبادت میں گزارتے تھے۔
جواب:
حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں ایک مرتبہ جماعت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، وہاں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو مسجد نبوی میں آتے ہوئے دیکھ کر کہا: "کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں آگاہ نہ کروں جو آسمان والوں کے نزدیک دنیا میں سب سے زیادہ محبوب ہے؟" لوگوں نے کہا کیوں نہیں؟ فرمایا: "وہ یہ ہیں جو تمہارے سامنے تشریف لا رہے ہیں یعنی حسین بن علی رضی اللہ عنہ"
جواب:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے 65 ہجری میں فسطاط (مصر) میں وفات پائی۔
جواب:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کا ایک مجموعہ جمع کیا جسے "صحیفہ صادقہ" کہا جاتا ہے۔ آپ سے مروی احادیث کی تعداد تقریباً سات سو (700) ہے۔ آپ کو صحابہ کرام میں علم و فضل کے لحاظ سے ممتاز مقام حاصل تھا۔ آپ کو عبرانی زبان پر بھی عبور تھا۔ آپ کے حلقہ درس میں شرکت کے لیے لوگ دور دراز کے ممالک سے سفر کر کے آتے تھے۔
جواب:
آپ کی کنیت ابو محمد اور ابوعبدالرحمن تھی۔ آپ کے والد کا نام عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور والدہ کا نام ریطہ بنت منبہ تھا۔
جواب:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ زیادہ تر وقت نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں گزارتے اور نبی کریم ﷺ کی زبانِ مبارک سے جو الفاظ ادا ہوتے تھے، وہ لکھ لیتے تھے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"عبداللہ! روزے رکھو اور افطار کرو، نمازیں پڑھو اور آرام کرو، بیوی بچوں کا حق ادا کرو یہی میرا طریقہ ہے جو میرے طریقے سے اعراض کرے گا وہ میری امت سے نہیں ہے۔"
جواب:
صحیفہ صادقہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی تدوین کردہ حدیث کی کتاب کا نام ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے ارشادات و ملفوظات کا ایک مجموعہ ہے جسے آپ نے جمع کیا تھا۔
جواب:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اپنے زہد و تقویٰ کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ آپ کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تھے اور عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے تھے۔
جواب:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے 65 ہجری میں فسطاط (مصر) میں وفات پائی۔
جواب:
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام شفا تھا۔ والد کا نام عبداللہ بن عبد شمس اور والدہ کا نام فاطمہ بنت وہب تھا۔ آپ کا نکاح حضرت ابوحثمہ بن حذیفہ عدوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا۔ آپ نے ہجرت سے قبل اسلام قبول کیا۔
جواب:
حضرت شفا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نبی کریم ﷺ سے بہت محبت تھی۔ انھوں نے نبی کریم ﷺ کے لیے علیحدہ بچھونا بنا رکھا تھا، جس پر آپ ﷺ تشریف فرما ہوتے اور اس میں آپ ﷺ کا پسینہ جذب ہوتا تھا، جس سے خوش بو آتی رہتی تھی۔ حضور اکرم ﷺ کی استعمال کردہ چیزیں یقیناً بڑی متبرک تھیں، حضرت شفا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بعد ان کی اولاد نے ان تبرکات کو نہایت محبت و عقیدت سے محفوظ رکھا۔
جواب:
حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے غزوات میں بھی حصہ لیا۔ نبی کریم ﷺ انصار کی چند عورتوں اور خصوصاً حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو غزوات میں ساتھ رکھتے تھے۔ یہ خواتین لوگوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔ غزوہ احد، غزوہ خیبر اور غزوہ حنین میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے شرکت فرمائی۔
جواب:
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام نسیبہ بنت حارث تھا، کنیت ام عطیہ تھی۔ آپ کا تعلق انصار کے قبیلہ ابی مالک بن النجار سے تھا۔ حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہجرتِ مدینہ سے قبل مسلمان ہوئیں۔
جواب:
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عہدِ رسالت میں سات معرکوں میں شریک ہوئیں، جن میں وہ مردوں کے لیے کھانا پکاتیں، سامان کی حفاظت، مریضوں کی تیمار داری اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔
جواب:
11 ہجری میں نبی کریم ﷺ نے وصال فرمایا تو حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا سخت مغموم تھیں اور رو رہی تھیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سمجھایا کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس بہتر چیز موجود ہے فرمانے لگیں: یہ خوب معلوم ہے اور یہ رونے کا سبب بھی نہیں، میں تو اس لیے رو رہی ہوں کہ اب وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔
جواب:
حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ واپس آئیں تو غزوہ احد میں شرکت کی۔ اس موقع پر وہ لوگوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کی تیمار داری کرتی تھیں۔ غزوہ خیبر میں بھی شریک ہوئیں۔
جواب:
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام نسیبہ اور کنیت ام عمارہ تھی۔ آپ کا تعلق قبیلہ بنو نجار سے تھا۔ آپ نے بیعتِ عقبہ میں شرکت کی۔ اس بیعت میں تہتر (73) مرد اور دو عورتیں شامل تھیں۔ حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بھی ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
جواب:
حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا غزوہ احد میں شریک ہوئیں اور نہایت بہادری سے لڑیں۔ وہ مشک میں پانی بھر کر لوگوں کو پلا رہی تھیں تو نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچیں اور سینہ سپر ہو گئیں، کفار جب نبی کریم ﷺ پر حملہ کرتے تو تیر اور تلوار سے روکتی تھیں۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ میں نے احد میں ام عمارہ کو اپنے دائیں اور بائیں لڑتے ہوئے دیکھا۔ غزوہ احد میں انھوں نے ایک کافر کو قتل کیا تھا۔
جواب:
جب نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی، تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ رفیقِ سفر تھے۔ آپ ﷺ دوپہر کو ان کے گھر تشریف لائے اور ہجرت کا خیال ظاہر فرمایا۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سفر کا سامان تیار کیا، دو تین دن کا کھانا ساتھ رکھا، نطاق (کمر بند) جس کو عرب عورتیں کمر پر لپیٹتی ہیں پھاڑ کر اس سے برتن کو منھ باندھا، یہ وہ شرف تھا جس کی بنا پر آج تک ان کو ذات النطاقین (دو کمر بند والی) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
جواب:
حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نیک طبع خاتون تھیں، حق گوئی ان کا خاص شعار تھا۔ نہایت صابرہ تھیں، حجاج بن یوسف جیسے ظالم اور جابر کے سامنے انھوں نے حق گوئی سے کام لیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ایک ماں کے لیے قیامت سے کم نہ تھی لیکن اس پر انھوں نے جس عزم و ہمت، صبر و تحمل اور استقلال سے کام لیا اس کی مثال تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔ حد درجہ خود دار، باہمت اور تواضع و انکسار کی پیکر تھیں۔
جواب:
حضرت شفا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد کا نام عبداللہ بن عبدشمس اور والدہ کا نام فاطمہ بنت وہب تھا۔
جواب:
حضرت شفا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نبی کریم ﷺ سے بہت محبت تھی۔ آپ ﷺ بھی کبھی کبھی حضرت شفا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے تھے۔ حضرت شفا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ ﷺ کے لیے علیحدہ بچھونا بنا رکھا تھا جس پر آپ ﷺ تشریف فرما ہوتے اور اس میں آپ ﷺ کا پسینہ جذب ہوتا تھا، جس سے خوش بو آتی رہتی تھی۔ حضرت شفا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم ﷺ کی استعمال کردہ متبرک چیزوں کو بہت حفاظت سے رکھتی تھیں۔
جواب:
حضرت شفا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خاص خوبی یہ تھی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زمانہ جاہلیت میں بھی لکھنا پڑھنا جانتی تھیں۔ آپ سے بارہ (12) احادیث مروی ہیں۔
جواب:
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام سہلہ یا رملہ تھا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا لقب غمیصا اور رمیصا تھا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کنیت ام سلیم تھی۔
جواب:
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد کا نام ملحان بن خالد اور والدہ کا نام ملیکہ بنت مالک تھا۔
جواب:
حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے غزوہ احد، غزوہ خیبر اور غزوہ حنین میں شرکت کی۔
جواب:
غزوات میں انصار کی چند خواتین اور خصوصاً حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا شرکت کیا کرتی تھیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا لوگوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔
جواب:
حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نمایاں وصف نبی کریم ﷺ سے بہت زیادہ محبت تھی۔ اس کے علاوہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نہایت بہادر، صابر، مستقل مزاج اور سخاوت کرنے والی تھیں۔
جواب:
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام نسیبہ بنت حارث تھا۔ کنیت ام عطیہ تھی۔
جواب:
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام برقہ اور کنیت ام ایمن ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حبشہ کی رہنے والی تھیں۔
جواب:
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے غزوہ احد اور غزوہ خیبر میں شرکت فرمائی۔
جواب:
اس موقع پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا لوگوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کی تیمار داری کرتی تھیں۔
جواب:
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دو بیٹے تھے: حضرت ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
جواب:
حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام نسیبہ بنت کعب اور لقب ام عمارہ ہے۔
جواب:
حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے غزوہ احد، غزوہ خیبر، فتح مکہ، صلح حدیبیہ، بیعت رضوان اور جنگ یمامہ میں شرکت کی۔
جواب:
حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا غزوہ احد میں مشک میں پانی بھر کر لوگوں کو پلا رہی تھیں تو نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچیں اور سینہ سپر ہو گئیں۔ کفار جب نبی کریم ﷺ پر حملہ کرتے تھے تو تیر اور تلوار سے روکتی تھیں۔ غزوہ احد میں انھوں نے ایک کافر کو قتل بھی کیا تھا۔
جواب:
جنگ یمامہ میں جب مسیلمہ کذاب نے حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بیٹے کو شہید کر دیا تو انھوں نے منت مانی کہ یا مسیلمہ کذاب قتل ہوگا یا وہ خود جان دے دیں گی۔
جواب:
بیعت عقبہ میں 73 مرد اور دو خواتین شامل تھیں۔
جواب:
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام اسماء اور لقب ذات النطاقین ہے۔
جواب:
حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم ﷺ کے سفر ہجرت کے لیے دو تین دن کا کھانا رکھ کر نطاق (کمر بند، جس کو عرب عورتیں کمر پر لپیٹتی ہیں) کو پھاڑ کر اس سے برتن کا منھ باندھا، اسی شرف کی بنا پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ذات النطاقین (دو کمر بند والی) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
جواب:
"ذات النطاقین" سے مراد ہے دو کمر بند والی، حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سفرِ ہجرت کے لیے نبی کریم ﷺ کے کھانے کے برتن کا منھ اپنے نطاق کو پھاڑ کر باندھا تھا۔ اسی بنا پر حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ذات النطاقین (دو کمر بند والی) کہا جاتا ہے۔
جواب:
حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے تہتر (73) ہجری میں 100 سال کی عمر میں وفات پائی۔