No short questions available for this section.
جواب:
جب نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور کفار کی سازشوں اور ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رہا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کفار سے جہاد کو فرض قرار دے دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"تم پر (اللہ کی راہ میں) قتال فرض کیا گیا ہے جب کہ وہ تمھیں (طبعاً) ناپسند ہے" (سورۃ البقرہ: 216)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس نے نہ جہاد کیا اور نہ اس کے بارے میں کوئی ارادہ کیا تو وہ نفاق کے شعبوں میں سے ایک پر مرتا ہے۔" (صحیح مسلم: 1910)
ملتِ اسلامیہ کے کسی حصے پر ظلم ہو رہا ہو تو ان کی مدد کرنا ہمارا مذہبی و ایمانی فریضہ ہے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جس نے نہ جہاد کیا اور نہ اس کے بارے میں کوئی ارادہ کیا تو وہ نفاق کے شعبوں میں سے ایک پر مرتا ہے۔" (صحیح مسلم: 1910)
جواب:
2018ء میں علمائے کرام نے دہشت گردی، خون ریزی، خودکش حملوں اور ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کے خلاف کتابی شکل میں ایک متفقہ فتویٰ جاری کیا، اسے پیغامِ پاکستان کہتے ہیں۔
جواب:
جہاد کے معنی ہیں "کوشش کرنا"۔ شریعت میں جہاد سے مراد اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے جان و مال کو وقف کر دینا ہے۔
جواب:
جہاد کا مقصد معاشرے سے فساد، دہشت گردی اور بدامنی کا خاتمہ کر کے امن و سلامتی کا قیام اور مظلوموں کی مدد ہے۔
جواب:
جب نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور کفار کی سازشوں اور ظلم و ستم کا سلسلہ بدستور جاری رہا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کفار سے جہاد کو فرض قرار دے دیا۔
جواب:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ" (سورۃ البقرہ: 216)
ترجمہ: "تم پر (اللہ کی راہ میں) قتال فرض کیا گیا ہے جب کہ وہ تمھیں (طبعاً) ناپسند ہے۔"
جواب:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس نے نہ جہاد کیا اور نہ اس کے بارے میں کوئی ارادہ کیا تو وہ نفاق کے شعبوں میں سے ایک پر مرتا ہے۔"
جواب:
جہاد کی اقسام:
1. جہاد بالنفس
2. جہاد بالمال
3. جہاد بالید
4. جہاد بالقلم
5. جہاد باللسان
جواب:
"پیغام پاکستان" متفقہ فتویٰ ہے جس میں دہشت گردی، خون ریزی، خودکش حملوں اور ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد خواہ وہ کسی نام یا مقصد سے ہو، حرام قرار دیا گیا ہے اور ان چیزوں سے کیسے نمٹا جائے، اس حوالے سے علما کرام کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
جواب:
فساد فی الارض دہشت گردی ہے جو بہت بڑا گناہ اور جرم ہے۔
جواب:
فساد فی الارض کے دو نقصانات:
1. بے گناہ لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں
2. ملک و قوم کی املاک کو نقصان پہنچتا ہے
جواب:
جہاد کے چار آداب:
1. بچوں، بوڑھوں عورتوں کو قتل نہ کیا جائے
2. مکانوں کو نہ گرایا جائے
3. قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے
4. درختوں اور کھیتوں کو برباد نہ کیا جائے
جواب:
جہاد کی فرضیت کے دو اسباب:
1. جب اسلام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں
2. لوگوں کو اسلام پر عمل کرنے کا حق نہ دیا جائے اور انھیں اپنے رب کی بندگی سے روکا جائے
جواب:
قسم کو قرآن و حدیث میں 'یمین' کہا جاتا ہے۔ اصطلاحی مفہوم میں کسی مسلمان کا اللہ تعالیٰ کا نام لے کر پختہ عزم کرنا اور دوسرے شخص کو یقین دہانی کروانا 'یمین' کہلاتا ہے۔
جواب:
قسم کی تین اقسام:
1. یمین منعقدہ: مستقبل میں کسی کام کے حوالے سے قسم اٹھانا، اس کا کفارہ ہوتا ہے
2. یمین غموس: ماضی کے کسی واقعے پر جھوٹی قسم اٹھانا، یہ گناہ کبیرہ ہے
3. یمین لغو: روز مرہ کی گفتگو میں اپنے گمان کے مطابق صحیح قسم اٹھانا لیکن واقعہ اس طرح نہ ہونا
جواب:
جھوٹی قسم کے دو نقصانات:
1. گناہِ کبیرہ ہے اور انسانیت کو دھوکا دینا ہے
2. جھوٹی قسم اٹھانے والے کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا
جواب:
کسی مسلمان کا اللہ تعالیٰ کا نام لے کر پختہ عزم کرنا اور دوسرے شخص کو یقین دہانی کروانا یمین (قسم) کہلاتا ہے۔
جواب:
قسم کے لیے یمین اور حلف کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔
جواب:
بات بات پر قسم اٹھانے کے دو نقصانات:
1. لوگوں کے وقت کے ضیاع کا سبب بنے گا
2. بداعتمادی کی فضا قائم ہوگی جو حسنِ معاملات و معاشرت کے خلاف ہے
جواب:
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: "بلا شبہ اللہ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کی قسم اٹھانے سے منع فرماتا ہے۔"
جواب:
قسم کا کفارہ یہ ہے کہ:
• دس مساکین کو کھانا کھلانا
• دس مساکین کو لباس پہنانا
• غلام یا لونڈی آزاد کرنا
• اگر ان کی طاقت نہ ہو تو تین روزے رکھنا
جواب:
قسم کی تین اقسام ہیں:
1. یمینِ لغو: روزمرہ کی گفتگو میں قسم، کوئی کفارہ نہیں
2. یمینِ غموس: ماضی پر جھوٹی قسم، گناہ کبیرہ
3. یمینِ منعقدہ: مستقبل کے کام پر قسم، کفارہ لازم
جواب:
جھوٹی قسم کے دو نقصانات:
1. گناہِ کبیرہ اور انسانیت کو دھوکا دینا
2. قیامت میں اللہ کی رحمت سے محرومی
جواب:
حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کھانی چاہیے۔
جواب:
شریعت میں حکم ہے کہ قسم صرف اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ ہو۔ اس کے علاوہ نبی کریم ﷺ، کعبہ، والدین یا دوسری کسی بھی معتبر یا مقدس چیز کی قسم شریعت میں کوئی تصور نہیں۔
جواب:
اگر کوئی شخص قسم اٹھائے لیکن خیر اور بھلائی اس کی مخالف سمت میں ہو، تو وہ خیر والی صورت اختیار کرے اور قسم توڑ کر کفارہ ادا کرے۔ کفارہ دس مساکین کو کھانا، لباس، غلام آزاد کرنا یا تین روزے رکھنا ہے۔
جواب:
اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر کہے کہ میں اپنے فلاں دوست یا ماں باپ یا استاد سے بات نہیں کروں گا، تو اس کو چاہیے کہ قسم توڑ دے اور کفارہ ادا کرے۔
جواب:
یمین منعقدہ: مستقبل میں کسی کام کے حوالے سے قسم، اس کا کفارہ ہوتا ہے
یمین غموس: ماضی کے کسی واقعے میں جھوٹی قسم، یہ گناہِ کبیرہ ہے، کفارہ نہیں ہوتا
جواب:
سود اسلام میں قطعی طور پر حرام ہے۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اے ایمان والو! کئی گنا چڑھا کر سود نہ کھاؤ اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔" (سورۃ آل عمران: 130)
"اللہ نے تجارت کو حلال فرمایا اور سود کو حرام کیا ہے۔" (سورۃ البقرہ: 275)
سود سے مفت خوری، لالچ، خود غرضی، سنگ دلی اور مفاد پرستی جیسی اخلاقی برائیاں جنم لیتی ہیں۔
جواب:
دنیوی نقصانات:
• مال میں نقصان، بے برکتی، اور ناگہانی آفات کا باعث
• معاشرتی ترقی رک جاتی ہے
اخروی نقصانات:
• سود کھانے والا ذلیل و رسوا ہو گا
• حدیث کے مطابق سود خوروں کے پیٹ مکانوں کی طرح ہوں گے اور ان میں سانپ دکھائی دیں گے
جواب:
سود کے چار معاشرتی نقصانات:
1. لوگ محنت کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور معاشرتی ترقی رک جاتی ہے
2. لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت کا بازار گرم رہتا ہے
3. کاروبار میں سرمایہ کاری کم ہو جاتی ہے
4. بے روزگاری بڑھتی ہے
جواب:
سود کی حرمت کی حکمت:
• دولت چند ہاتھوں میں سمٹنے سے روکنا
• غریب کی غربت اور پس ماندگی کو روکنا
• صنعتوں اور کارخانوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا
• بے روزگاری کو کم کرنا
• جرائم اور خودکشیوں سے بچانا
• معاشرتی امن قائم رکھنا
جواب:
سود کو عربی زبان میں 'ربا' کہتے ہیں۔ سود کا معنی ہے: قرض دے کر اس پر مشروط اضافہ یا نفع لینا۔
جواب:
اسلام نے سود کو اس لیے حرام قرار دیا ہے کیوں کہ:
• یہ مفت خوری، لالچ، خود غرضی، سنگ دلی اور مفاد پرستی جیسی اخلاقی برائیاں پیدا کرتا ہے
• یہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا ذریعہ ہے
• یہ معاشرتی انصاف کے خلاف ہے
جواب:
قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اے ایمان والو! کئی گنا چڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔" (سورۃ آل عمران: 130)
جواب:
اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے سود کھانے، کھلانے، اس پر گواہ بننے اور اس کو لکھنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے چھ چیزوں سونا، چاندی، گندم، جو، کھجور اور نمک وغیرہ کے سودے میں ادھار اور اضافے کو ممنوع قرار دیا ہے، اس کو ربا الفضل کہتے ہیں۔
جواب:
سود کھانے والوں کے پیٹ مکانوں کی طرح بہت بڑے تھے اور ان میں بہت سے سانپ دکھائی دے رہے تھے۔
جواب:
سود کے لین دین کے دو مسائل:
1. سود کی وجہ سے پورا معاشرہ ترقی نہیں کرتا
2. طبقاتی تفریق بڑھتی جاتی ہے
جواب:
اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی انسان کو اس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بغیر نفع کے جو قرض دیا جاتا ہے اسے قرضِ حسنہ کہتے ہیں۔
جواب:
صدقے میں دیے ہوئے پیسے واپس نہیں لیے جاتے، جب کہ قرضِ حسنہ میں وہ پیسے واپس لے لیے جاتے ہیں۔
جواب:
سود: قرض دے کر اس پر مشروط اضافہ یا نفع لینا
تجارت: حلال چیزوں کی خرید و فروخت جن میں شریعت کے خلاف کوئی شرائط نہ ہوں
جواب:
گواہی کے لیے قرآن و سنت میں "شہادت" کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ شہادت کا مطلب کسی چیز یا معاملہ کو اپنے علم کے مطابق ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے واضح کرنا ہے، تاکہ حق دار کو اس کا حق مل سکے۔ گواہی میں دو باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے:
1. کسی واقعہ کا بطور مشاہدہ دل و دماغ میں بٹھانا
2. معاملے کو قاضی اور جج کے سامنے پوری دیانت داری سے پیش کرنا
جواب:
عینی شہادت: گواہی دینا بعض اوقات آنکھوں دیکھا واقعہ بیان کرنا ہوتا ہے
سمعی شہادت: بعض اوقات گواہ کسی چیز کو سن کر شہادت دیتا ہے
جواب:
جھوٹی گواہی: رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جھوٹی گواہی بتوں کی پوجا کرنے کے برابر ہے۔ اللہ فرماتا ہے: "بتوں کی ناپاکی سے بچتے رہو اور جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو" (سورۃ الحج: 30)
گواہی چھپانے کی ممانعت: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور گواہی کو مت چھپاؤ اور جس کسی نے اس (گواہی) کو چھپایا تو بے شک اس کا دل گناہ گار ہے"
جواب:
سچی گواہی کے اثرات:
1. معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے
2. ایثار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے
جھوٹی گواہی کے اثرات:
1. اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے
2. معاشرہ بدامنی اور ظلم کا شکار ہو جاتا ہے
جواب:
گواہی کے لیے قرآن و سنت میں "شہادت" کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ شہادت کا مطلب کسی چیز یا معاملہ کو اپنے علم کے مطابق ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے واضح کرنا ہے تاکہ حق دار کو اس کا حق مل سکے۔ قرآن میں آتا ہے: "جب بھی گواہوں کو بلایا جائے (تو) وہ انکار نہ کریں"
جواب:
گواہی میں دو باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے:
1. کسی واقعہ کا بغور مشاہدہ کر کے اس کو دل و دماغ میں بٹھانا
2. معاملے کو قاضی یا جج کے سامنے پوری دیانت داری سے پیش کرنا
جواب:
گواہی دینے والے کو "گواہ" کہتے ہیں۔
جواب:
گواہوں کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"جب بھی گواہوں کو بلایا جائے (تو) وہ انکار نہ کریں۔"
جواب:
گواہی چھپانے کی ممانعت کے حوالے سے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اور گواہی کو مت چھپاؤ اور جس کسی نے اس (گواہی) کو چھپایا تو بے شک اس کا دل گناہ گار ہے اور جو کچھ تم لوگ کرتے ہو اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔"
جواب:
گواہی دینا بعض اوقات آنکھوں دیکھا واقعہ بیان کرنا ہوتا ہے جس کو "عینی شہادت" کہتے ہیں۔
جواب:
بعض اوقات گواہ کسی چیز کو سن کر شہادت دیتا ہے اسے "سمعی شہادت" کہتے ہیں۔
جواب:
گواہی کی شرائط:
• گواہ مسلمان، عاقل، بالغ اور عادل ہو
• اگر دو مرد گواہ نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی بھی قبول کی جائے گی
جواب:
سچی گواہی کے دو مثبت اثرات:
1. معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے
2. بھائی چارے کے جذبات فروغ پاتے ہیں
جواب:
جھوٹی گواہی کے دو معاشرتی اثرات:
1. دشمنیاں فروغ پاتی ہیں
2. معاشرے میں بے سکونی پیدا ہوتی ہے
جواب:
ہمیں چاہیے کہ:
• اپنی ذمہ داری پوری کریں
• سچی گواہی اور سچے جذبات کو فروغ دیں
• نہ جھوٹی گواہی دیں اور نہ ہی جھوٹی گواہی کی تحسین کریں
جواب:
ترجمہ: "جب بھی گواہوں کو بلایا جائے (تو) وہ انکار نہ کریں۔"
جواب:
قرآن نے جھوٹی گواہی دینے سے منع کیا ہے اور جھوٹی گواہی کو شرک قرار دیا ہے۔ اللہ فرماتا ہے: "بتوں کی ناپاکی سے بچتے رہو اور جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو۔" (سورۃ الحج: 30)
جواب:
متنازعہ مسئلہ میں:
• دعوے دار کے ذمے گواہ ہیں
• انکار کرنے والے کے ذمے قسم ہوگی
جواب:
ہمسایوں کے دو حقوق:
1. پڑوسیوں کے ساتھ سلام میں پہل کریں
2. جب وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت کریں
جواب:
ہمسایوں کے حقوق کے دو معاشرتی اثرات:
1. معاشرے میں جاں نثاری کے جذبات پیدا ہوتے ہیں
2. لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹتے ہیں، خوشی اور غم میں شریک ہوتے ہیں
جواب:
دنیوی نقصانات:
1. ہمسایوں کے حقوق ادا نہ کرنے سے معاشرتی انتشار پھیلتا ہے
2. امن و امان کا فقدان ہوتا ہے
اخروی نقصانات:
1. ہمسایوں کے حقوق ادا نہ کرنا اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے
2. ہمسایوں کے حقوق ادا نہ کرنے والا شخص جنت میں داخلے سے محروم ہو جاتا ہے
جواب:
حقوق العباد سے مراد بندوں کے حقوق ہیں۔
جواب:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور رشتہ دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور پاس بیٹھنے والے اور مسافروں کے ساتھ۔"
جواب:
قرآن مجید کے مطابق پڑوسی کی تین قسمیں ہیں:
1. رشتہ دار پڑوسی
2. قریب رہنے والے پڑوسی
3. تھوڑی دیر کا پڑوسی
جواب:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جبرائیل علیہ السلام مجھے اس طرح بار بار پڑوسی کے حق میں وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کر دیں۔"
جواب:
ہمسائیوں کے چار حقوق:
1. پڑوسیوں کے ساتھ سلام میں پہل کریں
2. جب وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت کریں
3. ان کی خوشی میں شرکت کریں
4. ان کے عیبوں کو چھپائیں
جواب:
ہمسایوں کے حقوق کے دو معاشرتی اثرات:
1. معاشرے میں جاں نثاری کے جذبات پیدا ہوتے ہیں
2. لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹتے ہیں
جواب:
اسلامی ریاست کا مقصد ایک ایسے معاشرے کا قیام ہے جو ہر میدان میں عدل کے ذریعے سے خیر خواہی اور مخلوقِ خدا کی خدمت کرنے والی ہو۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو زمین میں اقتدار بخشیں، یہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور نیکی کا حکم دیں گے اور برائی روکیں گے اور تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔" (سورۃ الحج: 41)
اسلامی ریاست کا بنیادی مقصد عدل و انصاف کی علم بردار امت کی تشکیل ہے۔
جواب:
اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے تین حقوق:
1. جان، مال اور عزت کے تحفظ کا حق
2. اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق
3. مکمل مذہبی آزادی کا حق
جواب:
اسلامی ریاست کی نمایاں خصوصیات:
• یہ ایک فلاحی ریاست ہے
• اس میں اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے
• تمام اداروں میں حاکمیتِ الہیہ جاری و ساری ہوتی ہے
• عدل و انصاف کا قیام ہوتا ہے
جواب:
ریاستِ مدینہ اسلامی ریاست کا بہترین ماڈل ہے:
• مسجد نبوی حکومت کے مرکزی سیکرٹریٹ کا درجہ رکھتی تھی
• یہ مجلس شوریٰ، عدالت عالیہ اور عسکری تیاریوں کا مرکز تھی
• مواخاتِ مدینہ کے ذریعے امدادِ باہمی کی فضا قائم کی گئی
• عدالتی نظام میں جید صحابہ کرام شامل تھے
• تعلیمی نظام میں صفہ اور دارِ ارقم جیسے ادارے قائم تھے
• بلدیاتی نظام کی بنیاد رکھی گئی
جواب:
اسلامی ریاست کی طرف سے افواج کو ہدایات تھیں:
• زمین میں فساد نہ مچانا
• کھجور کے درخت نہ کاٹنا اور نہ جلانا
• چوپایوں کو ہلاک نہ کرنا
• بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا
• عبادت گاہیں نہ گرانا
• گرجا گھروں میں محبوس لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا
جواب:
علم سیاسیات کی رو سے ریاست کے بنیادی اجزا:
1. علاقہ
2. آبادی
3. قانون
4. قوتِ نافذہ
جواب:
کسی ریاست میں انسانوں کے لیے کسی قانون اور قانون پر عمل درآمد کے لیے ایک قوت کا ہونا ضروری ہے جسے حکومت یا قوتِ نافذہ کہا جاتا ہے۔
جواب:
مسلم معاشرے کے تین بنیادی ادارے:
1. خاندان
2. مسجد
3. مکتب
یہ انسان کی بنیادی تربیت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
جواب:
مقننہ کے افراد قانون بناتے ہیں۔ صوبائی اور قومی اسمبلیاں اور ایوانِ بالا یعنی سینٹ قانون ساز ادارے کہلاتے ہیں۔
جواب:
قرآن مجید کے مطابق مسلم حکمران کے بنیادی فرائض:
• نماز قائم کرنا
• زکوٰۃ ادا کرنا
• نیکی کا حکم دینا
• برائی سے روکنا
جواب:
مسلم حکام کے دیگر فرائض:
• عدل و انصاف کا قیام
• شریعت کا نفاذ
• اصلاح معاشرہ
• اسلامی تعلیمات کا فروغ
• مسلمانوں کا دفاع
• امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا قیام
جواب:
اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو حقوق:
• جان، مال اور عزت کے تحفظ کا حق
• مکمل مذہبی آزادی کا حق
• اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق
جواب:
ریاستِ مدینہ اسلامی ریاست کا بہترین ماڈل ہے جس میں:
• مسجد نبوی مرکزی سیکرٹریٹ تھی
• یہ مجلس شوریٰ، عدالت عالیہ اور عسکری تیاریوں کا مرکز تھی
• مواخاتِ مدینہ کے ذریعے امدادِ باہمی قائم کی گئی
• عدالتی، تعلیمی اور بلدیاتی نظام قائم تھے