جواب:
تکبر کے دو نقصانات:
1. انسان جھوٹ، غیبت اور خود پسندی جیسی اخلاقی برائیوں کا شکار ہو جاتا ہے
2. وہ اطمینانِ قلب جیسی عظیم نعمت سے محروم ہو جاتا ہے
جواب:
حسد: وہ کیفیت ہے جس میں ایک انسان کسی دوسرے کے پاس اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمت پر خوش نہیں ہوتا، بلکہ یہ خیال کرتا ہے کہ کاش اس کے پاس یہ نعمت نہ ہوتی یا کاش دوسرے سے یہ نعمت چھین لی جائے
رشک: اگر کوئی شخص یہ سوچتا ہے کہ جو نعمت دوسرے کسی شخص کے پاس ہے، کاش میرے پاس بھی ہوتی تو اس کو رشک کرنا کہتے ہیں
جواب:
جھوٹ کی چار صورتیں:
1. جھوٹی سفارش کرنا
2. کسی پر جھوٹا مقدمہ بنا دینا
3. جھوٹی درخواست دینا
4. مذاق میں جھوٹ بولنا
جواب:
غیبت اور بہتان کی وجہ سے:
• معاشرے میں کینے اور دشمنی کو فروغ ملتا ہے
• ایک دوسرے کے بارے میں دل میں نفرت پیدا ہوتی ہے
• گھر میدان جنگ بنے ہوئے ہیں
• خاندانوں، محلوں اور بازاروں میں نفرت کی دیواریں کھڑی ہو گئی ہیں
جواب:
تکبر کے دو نقصانات:
1. انسان جھوٹ، غیبت اور خود پسندی جیسی اخلاقی برائیوں کا شکار ہو جاتا ہے
2. وہ اطمینانِ قلب جیسی عظیم نعمت سے محروم ہو جاتا ہے
جواب:
حسد: وہ کیفیت ہے جس میں ایک انسان کسی دوسرے کے پاس اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمت پر خوش نہیں ہوتا، بلکہ یہ خیال کرتا ہے کہ کاش اس کے پاس یہ نعمت نہ ہوتی یا کاش دوسرے سے یہ نعمت چھین لی جائے
رشک: اگر کوئی شخص یہ سوچتا ہے کہ جو نعمت دوسرے کسی شخص کے پاس ہے، کاش میرے پاس بھی ہوتی تو اس کو رشک کرنا کہتے ہیں
جواب:
جھوٹ کی چار صورتیں:
1. جھوٹی سفارش کرنا
2. کسی پر جھوٹا مقدمہ بنا دینا
3. جھوٹی درخواست دینا
4. مذاق میں جھوٹ بولنا
جواب:
غیبت اور بہتان کی وجہ سے:
• معاشرے میں کینے اور دشمنی کو فروغ ملتا ہے
• ایک دوسرے کے بارے میں دل میں نفرت پیدا ہوتی ہے
• گھر میدان جنگ بنے ہوئے ہیں
• خاندانوں، محلوں اور بازاروں میں نفرت کی دیواریں کھڑی ہو گئی ہیں
جواب:
حسد سے مراد وہ کیفیت ہے، جس میں ایک انسان کسی دوسرے کے پاس اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمت پر خوش نہیں ہوتا، بلکہ یہ خیال کرتا ہے کہ کاش اس کے پاس یہ نعمت نہ ہوتی یا کاش دوسرے سے یہ نعمت چھین لی جائے۔
جواب:
اگر کوئی شخص یہ سوچتا ہے کہ جو نعمت دوسرے کسی شخص کے پاس ہے، کاش میرے پاس بھی ہوتی تو اس کو رشک کرنا کہتے ہیں۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"حسد سے بچو، حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔"
جواب:
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "رشک کے قابل تو دو ہی آدمی ہیں۔ ایک وہ جسے اللہ نے قرآن دیا اور وہ اس کی تلاوت رات دن کرتا رہتا ہے۔ اور دوسرا وہ جسے اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اسے اللہ کی راہ میں دن رات خرچ کرتا رہا۔"
جواب:
ہمیں چاہیے کہ ہم:
1. قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے حسد سے بچیں
2. دوسروں پر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو دیکھیں
3. ان کے لیے خیر و برکت کی دعا کریں
تاکہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔
جواب:
حسد کے عملی زندگی میں نقصانات:
1. اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو ناپسند کر کے نافرمانی کا مرتکب ہونا
2. دنیا و آخرت میں ناکامی
3. مایوسی کی دلدل میں دھنسنا
4. نیکیوں کا تباہ ہونا
5. ذہنی و قلبی سکون کا تباہ ہونا
6. مثبت صلاحیتوں کا ختم ہونا
7. پریشانی اور اخلاقی بیماریوں کا پیدا ہونا
جواب:
پردہ پوشی کا معنی ہے: کسی کے عیبوں پر پردہ ڈالنا۔ پردہ پوشی کے لیے ستر پوشی کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے۔
جواب:
دینِ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ:
1. ہم کسی کے عیب جاننے کی کوشش نہ کریں
2. اگر کسی کا عیب معلوم ہو جائے تو اسے چھپانے کی کوشش کریں
جواب:
آپ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی مسلمان کے عیب چھپائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا۔"
جواب:
دورِ حاضر کے جدید میڈیا پر عموماً جو چیز انسان دیکھتا ہے اس کو بغیر تحقیق کے اور پردہ پوشی کی تعلیمات کو نظر انداز کرتے ہوئے فوراً دوسرے لوگوں اور گروپوں میں پہنچانا اپنا فرض سمجھتا ہے۔
جواب:
پردہ پوشی اختیار نہ کرنے کے دو نقصانات:
1. اس سے معاشرے میں بے چینی بڑھتی ہے
2. نفرت بڑھنے کے ساتھ ساتھ دشمنی کی فضا پروان چڑھتی ہے
جواب:
اور نہ (کسی کے متعلق) جاسوسی کرو۔
جواب:
تکبر انسان کا اپنے آپ کو افضل اور دوسروں کو حقیر سمجھنا ہے۔ انسان کی باطنی بیماریوں میں تکبر بہت بڑی اور بری بیماری ہے۔
جواب:
تکبر کی دو صورتیں:
1. اللہ تعالیٰ کے ساتھ خود کو شریک ٹھہرانا جیسے فرعون اور نمرود نے رب ہونے کا دعویٰ کیا
2. دوسرے انسانوں کے مقابلے میں خود کو بڑا تصور کرنا اور انسانی مساوات کے تصور کو قبول نہ کرنا
جواب:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"
جواب:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"بے شک وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔" (سورۃ النحل: 23)
جواب:
ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ اپنے تکبر کی وجہ سے نہ کیا۔
جواب:
متکبر شخص جھوٹ، غیبت، گالی گلوچ اور دیگر اخلاقی برائیوں کا شکار ہو جاتا ہے جن کی وجہ سے وہ انسانی معاشرے میں امن کی زندگی نہیں گزار سکتا اور اطمینان قلب جیسی عظیم کیفیت سے محروم رہتا ہے۔
جواب:
تکبر کے دو نقصانات:
1. جنت میں داخلے سے محرومی - جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا
2. دنیاوی زندگی میں پریشانی - تکبر کرنے والا شخص انسانی معاشرے میں امن کی زندگی نہیں گزار سکتا اور اطمینان قلب سے محروم رہتا ہے
جواب:
امانت کے معنی دیانت داری، ایمان داری، سپرد کی ہوئی چیز ہیں۔ اس سے مراد ہے کسی کی حفاظت میں دی ہوئی چیز۔
جواب:
امانت و دیانت سے مراد کسی بھی شے اور کام کو اس کے درست تقاضوں کے مطابق انجام دینا ہے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
"امانت کا تقاضا یہ ہے کہ جس کی امانت ہے، اس کو ادا کر دی جائے اور جو خیانت کرے اس کے ساتھ بھی خیانت نہ کی جائے۔"
جواب:
امانت و دیانت کے دو معاشرتی فوائد:
1. معاشرہ پرسکون رہے گا
2. لوگوں میں اعتماد کی فضا بحال رہے گی
جواب:
بددیانتی اور دھوکا دہی سے:
• انسانی معاشرے میں بداعتمادی اور انتشار جیسے منفی رجحانات فروغ پاتے ہیں
• انسان اشرف المخلوقات کے عظیم مرتبے سے نیچے گر جاتا ہے
• انسان جنت جیسی دائمی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے
جواب:
قرآن و سنت میں امانت و دیانت پر بہت زور دیا گیا ہے۔
قرآن مجید: "بے شک اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کرو۔" (النساء: 58)
حدیث: آپ ﷺ مکہ میں "الصادق" اور "الامین" کے نام سے جانے جاتے تھے۔
آپ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے:
"اس شخص کا کوئی ایمان نہیں، جو امانت پوری نہیں کرتا۔"
جواب:
جب انسان کسی بات کو اس کی حقیقت کے مطابق بیان کرے تو یہ سچائی ہے۔
جواب:
حقیقت کو چھپانا اور سننے والے کو دھوکا دینا جھوٹ کہلاتا ہے۔
جواب:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ" (سورۃ الحج: 30)
ترجمہ: "اور جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو۔"
جواب:
نبی کریم ﷺ نے منافقوں کی نشانیاں بیان فرمائیں، ان میں ایک نشانی یہ بھی تھی: "جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔"
جواب:
روم کے بادشاہ ہرقل کے سامنے ابوسفیان نے نبی کریم ﷺ کی صداقت کی گواہی دی۔
جواب:
جھوٹ کے دو نقصانات:
1. جھوٹ بولنے والا معاشرے میں اپنی عزت کھو دیتا ہے
2. جھوٹ بولنے والا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتا ہے
جواب:
سچ بولنے کے دو فائدے:
1. سچ بولنے والے کو دلی سکون مل جاتا ہے
2. لوگ اس کی عزت کرتے ہیں اور اس کی بات پر اعتماد کرتے ہیں
جواب:
شکر کا لغوی معنی: احسان ماننا، قدر پہچاننا اور محسن کا احسان مانتے ہوئے اس کا صلہ ادا کرنا ہے۔
قناعت کا لغوی معنی: قسمت پر راضی رہنا ہے۔
جواب:
اصطلاحی معنی میں قناعت سے مراد یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو رزق دیا جا رہا ہے اس پر اس کا نفس راضی رہے۔
جواب:
شکر کی اہمیت و فضیلت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ" (سورۃ ابراہیم: 7)
ترجمہ: "اگر تم شکر کرو گے تو یقیناً میں تمھیں اور زیادہ عطا کروں گا۔"
جواب:
قناعت کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان اسباب کی تلاش اور کوشش جاری رکھے اور محنت کے بعد جو مل جائے اس پر راضی رہے۔
جواب:
شکر کے اجر کے متعلق نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والا (اجر و ثواب میں) صبر کرنے والے روزہ دار کے برابر ہے۔"
جواب:
شکر و قناعت کے فوائد:
1. شکر و قناعت سے انسانی زندگی میں راحت و سکون اور اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے
2. شکر و قناعت سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے
3. شکر و قناعت سے عبادت میں سکون ملتا ہے، ورنہ انسان لامحدود پر تعیش سامان زندگی کے پیچھے دوڑ دوڑ کر خود کو تھکا دیتا ہے
جواب:
اخلاص کا معنی ہے: خالص بنانا، صاف کرنا۔ اخلاص سے مراد ہر عمل کا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہونا ہے۔
جواب:
نیکی کی قبولیت کی پہلی شرط اخلاص یعنی اس نیکی کا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہونا ہے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
"اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ" (صحیح بخاری: 1)
ترجمہ: "تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔"
جواب:
تقویٰ کا لفظی معنی ہے: ڈرنا، پرہیز گاری اختیار کرنا۔ تقویٰ انسان کے دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے اسے نیکی پر آمادہ کرتی ہے اور گناہ سے روکتی ہے۔
جواب:
قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ط" (سورۃ الحجرات: 13)
ترجمہ: "بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہو۔"
جواب:
غیبت: کسی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی بیان کرنا، اگر وہ برائی اس میں موجود ہو
بہتان: کسی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی بیان کرنا، اگر وہ برائی اس میں موجود نہ ہو
جواب:
طعنہ اور طنز: کسی کے سامنے اس کی برائی بیان کرنے کو کہتے ہیں۔
جواب:
القرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"ہر ایسے شخص کے لیے ہلاکت ہے جو (آمنے سامنے) طعنہ دینے والا (اور پیٹھ پیچھے) عیب نکالنے والا ہو۔" (سورۃ الہمزۃ: 1)
جواب:
حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق:
1. ایک کو اس لیے عذاب ہو رہا تھا کہ پیشاب کرتے ہوئے پاکی کا خیال نہیں رکھتا تھا
2. دوسرے کو غیبت کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا
جواب:
غیبت اور بہتان کے دو معاشرتی نقصانات:
1. معاشرے میں کینے اور دشمنی کو فروغ ملتا ہے
2. ایک دوسرے کے بارے میں دل میں نفرت پیدا ہوتی ہے
3. خاندانوں اور بازاروں میں نفرت کی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں
جواب:
غیبت کے معاشرے پر منفی اثرات:
• معاشرے میں کینے اور دشمنی کو فروغ ملتا ہے
• خاندانوں، محلوں، بازاروں میں نفرت کی منحوس دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں
• باہمی تعلقات خراب ہوتے ہیں
• معاشرتی امن و سکون برباد ہوتا ہے
جواب:
توہم پرستی کی تین صورتیں:
1. بدشگونی - کسی چیز، دن یا مہینے کو برا سمجھنا
2. فال کے ذریعے سے قسمت کا حال جاننے کی کوشش کرنا
3. ستاروں کی چال وغیرہ کے ذریعے مستقبل کا حال جاننے کی کوشش
جواب:
آپ ﷺ یہ دعا پڑھتے تھے:
"اَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ"
ترجمہ: "میں دونوں کے لیے اللہ کے مکمل اور پورے کلمات کے ساتھ ہر شیطان اور ہلاک کرنے والی ہر زہریلی چیز اور نظرِ بد سے پناہ مانگتا ہوں۔" (جامع ترمذی: 2060)
جواب:
حدیثِ نبوی ﷺ میں معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کو جادو کا علاج بتایا گیا ہے۔
جواب:
توہم پرستی کے چار معاشرتی نقصانات:
1. توہم پرست لوگ بڑی بڑی کامیابیوں سے محروم رہتے ہیں
2. ایسے لوگ معاشرے میں مذاق بن جاتے ہیں
3. ایسے لوگ غیر ضروری کاموں اور باتوں میں الجھے رہتے ہیں
4. ایسے لوگ اپنے مال اور ایمان کا نقصان کر بیٹھتے ہیں
جواب:
توہم پرستی کا معنی ہے: بغیر کسی شرعی یا عقلی دلیل کے کسی نظریے یا خیال کو اپنا لینا۔ توہم پرستی کی ایک صورت بدشگونی ہے۔ کسی دن، چیز یا مہینے کو برا سمجھنا بدشگونی کی مثالیں ہیں۔ فال کے ذریعے سے قسمت کا حال جاننے کی کوشش کرنا بھی توہم پرستی ہے۔
جواب:
مستقبل کے حالات جاننے اور مستقبل کے کام بنانے کے لیے ستاروں کی چال، فال یا جادو ٹونے وغیرہ کا استعمال اسلام میں حرام ہے۔
جواب:
استخارہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت نفل نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرنے کی دعا کی جاتی ہے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص نجومی کے پاس جائے، اس سے کوئی بات پوچھے تو اس کی چالیس راتوں تک نماز قبول نہ ہوگی۔" (صحیح مسلم: 2230)
جواب:
اسے چاہیے کہ وہ یہ الفاظ کہے:
"اے اللہ! آپ کی طرف سے نازل کی جانے والی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں اور آپ کے شگون کے علاوہ کوئی شگون نہیں اور آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔"
جواب:
جادو ایک حقیقت ہے جس میں:
• بعض اوقات دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے
• بعض اوقات لوگوں کی نظروں اور عقلوں کو بند کر دیا جاتا ہے
جادوگر چیزوں کی حقیقت کو نہیں بدلتا، البتہ خیال پر قبضہ کر لیتا ہے۔
جواب:
توہم پرست لوگ اپنی جہالت کی وجہ سے بعض اوقات معاشرے میں مذاق بن جاتے ہیں۔
جواب:
توہم پرستی اور خرافات کے شکار لوگ:
• معاشرتی تعلقات میں توازن سے محروم رہتے ہیں
• دوسرے لوگوں سے بدگمان رہتے ہیں
جواب:
اسلامی تعلیمات میں بدشگونی کی اجازت نہیں، یعنی کسی انسان، جانور، چیز یا وقت سے بدشگونی لینا درست نہیں ہے۔