جواب:
نبی کریم ﷺ نے تمام وفود کے ساتھ حسنِ سلوک اور شفقت کا معاملہ فرمایا۔ انھیں مسجد نبوی میں ٹھہرایا اور ان کے تمام قیام و طعام کا انتظام فرمایا۔
جواب:
نبی کریم ﷺ کے حسنِ سلوک سے متاثر ہو کر وفود کے اراکین نے اپنے قبیلوں میں اسلام کی تبلیغ کی، جس کے نتیجے میں پورے قبائل دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ یہاں تک کہ حجۃ الوداع کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔
جواب:
1. اپنی آوازوں کو نبی کریم ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو
2. نبی کریم ﷺ کو یوں نہ پکارو جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو
جواب:
لغوی معنی: عام کا معنی سال اور وفود جمع ہے وفد کی، جس کا معنی ہے "لوگوں کی جماعت"
وفد کا نام: وفد بنو تمیم
جواب:
عام الوفود سے مراد وہ سال ہے جس میں پورے عرب سے کثرت کے ساتھ وفود نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔
جواب:
بنو تمیم کا وفد 9 ہجری کے آغاز میں مدینہ طیبہ آیا، یہ لوگ اپنے قیدیوں کو آزاد کرانا چاہتے تھے۔
جواب:
بنو تمیم کے وفد کی قیادت عرب کا مشہور سردار اقرع بن حابس کر رہا تھا۔ وفد دوپہر کے وقت نماز ظہر سے قبل مدینہ آیا۔
جواب:
سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کے آداب سکھائے ہیں:
• اپنی آوازوں کو نبی ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو
• نبی ﷺ کو یوں نہ پکارو جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو
جواب:
بنو تمیم اپنے ساتھ بڑے فصیح و بلیغ شاعر اور خطیب لے کر آئے تھے تاکہ وہ اپنی خطابت اور شاعری سے مسلمانوں کو مرعوب کر سکیں۔
جواب:
بنو تمیم کا وفد نبی کریم ﷺ کے اخلاق سے اتنا متاثر ہوا کہ اقرع بن حابس سمیت پورا وفد مسلمان ہو گیا۔
جواب:
وفد نجران کا مذہب نصرانیت تھا اور اس میں ساٹھ افراد شامل تھے۔
جواب:
وفد نجران ساٹھ افراد پر مشتمل تھا۔ ان میں چودہ بڑے سردار بھی تھے۔ پھر ان سرداروں میں تین افراد بہت خاص تھے۔ ان کے دینی و دنیاوی معاملات وہی تین افراد دیکھتے تھے۔
جواب:
مباہلہ ایک قرآنی اصطلاح ہے۔ مباہلہ سچ اور جھوٹ یا حق اور باطل کو واضح کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ مباہلے میں دو افراد یا دو گروہ اپنے عقیدے کو درست اور دوسرے کے عقیدے کو غلط ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے ایک دوسرے کے خلاف بددعا کرتے ہیں۔
جواب:
نبی کریم ﷺ حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو لے کر نجران کے وفد کے پاس مباہلے کے لیے تشریف لائے۔
جواب:
وفد عبدالقیس کے سردار کا نام منذر بن عائذ اور لقب اشج تھا۔
خوبی: حلم یعنی جلد بازی نہ کرنا اور امور و معاملات میں غور و فکر کرنا۔
جواب:
آپ ﷺ نے سردار کی دو خوبیوں کا ذکر فرمایا:
1. حلم یعنی جلد بازی نہ کرنا اور امور و معاملات میں غور کرنا
2. وقار
جواب:
حرمت والے چار مہینے:
1. ذوالقعدہ
2. ذوالحجہ
3. محرم
4. رجب
جواب:
بنو تمیم کا وفد 9 ہجری میں اپنے لوگوں کو قید سے آزاد کرانے کے لیے مدینہ منورہ آیا۔ انھوں نے دوپہر کے وقت نبی کریم ﷺ کو آرام کرتے پایا اور آپ ﷺ کو گھر سے باہر پکارا، آوازیں دیتے رہے، آپ کے پاس داخل ہونے کی اجازت طلب نہ کی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجرات نازل فرمائی جس میں رسول اللہ کی بارگاہ میں حاضری کے آداب سکھائے گئے۔
جواب:
جب حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ ﷺ خوش آمدید کہتے ہوئے کھڑے ہو جاتے، ان کا ہاتھ پکڑتے، ان کی پیشانی کو بوسہ دیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔
جواب:
آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئیں" تو آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ملاتے ہوئے فرمایا کہ "میں اور وہ قیامت کے دن اس طرح قریب ہوں گے۔"
جواب:
ہمیں چاہیے کہ ہم:
1. خواتین کا احترام کریں
2. ان پر آوازیں کسنے، گھور کر دیکھنے، ان کا مذاق اڑانے سے اجتناب کریں
3. خواتین کے تعلیمی اداروں کے باہر غیر ضروری ٹہلنے اور ان کے راستے میں بیٹھنے سے پرہیز کریں
جواب:
خواتین خاندان اور معاشرے کا اہم ترین اور اساسی رکن ہیں۔
جواب:
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ج (سورۃ النسا: 19)
ترجمہ: "اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا برتاؤ کرو۔"
جواب:
نبی کریم ﷺ نے اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والوں کو بہترین لوگ قرار دیا ہے۔
جواب:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین برتاؤ کرنے والا ہوں۔"
جواب:
نبی کریم ﷺ نے بیٹیوں کی پرورش کرنے والے کو جنت میں اپنے ساتھ کی بشارت دی ہے۔
جواب:
حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ نے ان کے احترام میں اپنی چادر بچھائی اور بہت دیر تک ان کے ساتھ گفت گو فرماتے رہے۔
جواب:
خواتین کا احترام کرتے ہوئے ہمیں ان باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے:
1. خواتین پر آوازیں کسنے
2. گھور کر دیکھنے
3. ان کا مذاق اڑانے
4. خواتین کے تعلیمی اداروں کے باہر رش لگانے
5. راستوں میں بیٹھنے
جواب:
ملازم پیشہ خواتین کا احترام اس لیے ضروری ہے کہ خواتین کے احترام کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
جواب:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ ﷺ انھیں خوش آمدید کہتے ہوئے کھڑے ہو جاتے، ان کا ہاتھ پکڑتے، ان کی پیشانی کو بوسہ دیتے اور انھیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ (شعب الایمان)
جواب:
حضور ﷺ مخاطب کے جذبات اور احساسات کے ساتھ اس کے مزاج اور نفسیات کا بھی لحاظ فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے آپ ﷺ کی خدمت میں آ کر عرض کیا: "اے اللہ کے رسول ﷺ! قیامت کب آئے گی؟" آپ ﷺ نے جواب دینے کے بجائے خود سوال کیا: "تو نے اس دن کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے؟" (صحیح بخاری: 6167) اس سوال کے ذریعے سے آپ ﷺ نے ایک حقیقت ذہن نشین کرائی کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ قیامت کب آئے گی بلکہ اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ قیامت کے لیے تم نے کیا تیاری کی ہے؟ آپ ﷺ کی اس خوش اسلوبی نے سائل کو احتسابِ نفس اور اپنے اعمال کا جائزہ لینے پر آمادہ کر دیا۔
جواب:
آپ ﷺ اصلاح و تربیت کے لیے درج ذیل طریقے اختیار فرماتے:
1. آپ ﷺ جب کسی کی تربیت فرما رہے ہوتے تو مخاطب کی ذہنی استعداد کو ملحوظِ خاطر رکھتے
2. آپ ﷺ کسی انسان کی غلطی پر کبھی اس کو سرِ عام نام لے کر بات ٹوک کر تربیت نہ فرماتے
جواب:
نبی کریم ﷺ ہر بات موقع کی مناسبت سے کرتے تھے۔ اچھے کام پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعریف کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی فرماتے۔ ایک بار ایک شخص نبی کریم ﷺ سے ملاقات کے لیے آیا، آپ ﷺ نے دیکھا کہ اس کی ہتھیلیوں پر نشانات پڑے ہوئے ہیں، آپ ﷺ نے وجہ دریافت کی تو اس نے کہا: "یا رسول اللہ ﷺ میں ایک مزدور آدمی ہوں اور سخت محنت کی وجہ سے یہ نشانات پڑ گئے ہیں"، جب آپ ﷺ نے یہ بات سنی تو شفقت فرماتے ہوئے اس کے ہاتھ چوم لیے۔ ایسے اقدامات سے مخاطب کے دل میں محبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
جواب:
انبیائے کرام علیہم السلام کی ذمہ داریوں میں سے اہم ترین ذمہ داری انسانوں کے اخلاق اور رویوں کی اصلاح ہے۔
جواب:
آپ ﷺ جب کسی کی تربیت فرما رہے ہوتے تو:
• مخاطب کی ذہنی استعداد کو ملحوظِ خاطر رکھتے
• بے محل بات نہ فرماتے
• موقع محل کا خصوصی لحاظ فرماتے تھے
جواب:
آپ ﷺ کسی انسان کی غلطی پر کبھی اس کو سرِ عام نام لے کر یا بات ٹوک کر تربیت نہ فرماتے بلکہ نام لیے بغیر لوگوں کو اشارتاً نصیحت فرما دیتے تھے۔
جواب:
نصیحت کے وقت نبی کریم ﷺ کی آنکھوں میں محبت و شفقت کی چمک ہوتی اور چہرے پر سختی کی بجائے نرمی کا انداز جھلکتا تھا۔
جواب:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لشکرِ تبوک کی تیاری کے لیے ایک سو گھوڑے، نو سو اونٹ اور ایک ہزار دینار پیش کیے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک تہائی لشکر کو ساز و سامان مہیا کیا۔
جواب:
مسلمان خواتین نے اپنے ہار، چوڑیاں، انگوٹھیاں، جھمکے، دیگر زیورات اور کپڑے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیے تاکہ لشکر کی تیاری میں مدد ہو سکے۔
جواب:
منافقین کا سردار عبداللہ بن ابی اسلامی لشکر سے اپنے ساتھیوں کو لے کر یہ کہتے ہوئے لوٹ گیا کہ: "اتنے گرم موسم میں حالات کی تنگی کے باوجود مسلمان رومیوں سے جنگ لڑنے جا رہے ہیں۔ رومی بہت طاقت ور ہیں، ان کا مقابلہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔" اس طرح مسلمانوں کے سامنے منافقین بے نقاب ہو گئے۔
جواب:
غزوہ تبوک کی تیاری کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کا سارا مال نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔
جواب:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لشکرِ تبوک کی تیاری کے لیے ایک سو (100) گھوڑے، نوسو (900) اونٹ اور ایک ہزار (1000) دینار دیے۔ آپ نے ایک تہائی لشکر کو ساز و سامان مہیا کیا۔
جواب:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک کے موقع پر ایک تہائی لشکر کو ساز و سامان مہیا کیا۔
جواب:
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے چار ہزار (4000) درہم دیے۔ حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے 90 وسق (12 ٹن) کھجوریں پیش کیں۔
جواب:
حضرت ابوعقیل رضی اللہ عنہ نے رات بھر مزدوری کر کے نصف صاع کھجوریں لا کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیں۔
جواب:
صحابیات رضی اللہ عنہن نے اپنے ہار، چوڑیاں، انگوٹھیاں، جھمکے اور دیگر زیورات پیش کر دیے تاکہ لشکر کی تیاری میں مدد ہو سکے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اہلِ بیت کی حفاظت، گھر بار اور دیگر امور کی انجام دہی پر مامور فرمایا۔
جواب:
منافقین کا ٹولہ طرح طرح کی سازشوں میں مصروف تھا۔ وہ مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے اور مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے میں مشغول تھے۔
جواب:
عبداللہ بن ابی نے کہا: "اتنے گرم موسم میں حالات کی تنگی کے باوجود مسلمان رومیوں سے جنگ لڑنے جا رہے ہیں۔ رومی بہت طاقت ور ہیں ان کا مقابلہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔"
جواب:
مسلمانوں کو تین طرح کی مشکلات کا سامنا تھا:
1. سواریاں کم تھیں
2. زادِ راہ بہت تھوڑا تھا
3. پانی کی شدید قلت تھی
جواب:
سامان کی کمی اور سفر کی تکلیف کی وجہ سے اسے جیش العسرۃ یعنی تنگی کا لشکر بھی کہا جاتا ہے۔
جواب:
سیدنا کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہم بغیر کسی معقول وجہ کے غزوہ تبوک میں شرکت کرنے سے رہ گئے تھے۔
جواب:
غزوہ تبوک کے دو اسباب:
1. معرکۂ موتہ کے بعد رومی سلطنت نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا
2. عیسائی قبائل جو شام میں رومیوں کے زیر اثر تھے ان کو قیصرِ روم ہرقل نے اس لڑائی کے لیے ابھارا
جواب:
غزوہ تبوک کے موقع پر:
• حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کا آدھا مال نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا
• حضرت ابوعقیل رضی اللہ عنہ نے رات بھر مزدوری کر کے نصف صاع کھجوریں کما کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیں
جواب:
غدیر خم کے مقام پر نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"جس کا میں دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے، اے اللہ تو اس آدمی کو دوست رکھ جو علی (رضی اللہ عنہ) کو دوست رکھتا ہے اور جو اس سے عداوت رکھے، تو بھی اس سے عداوت رکھ۔"
جواب:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے، کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے۔"
جواب:
آپ ﷺ نے فرمایا: "میں تمہارے درمیان ایسی دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں کہ اگر تم انھیں مضبوطی سے پکڑے رکھو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور میری سنت ہے۔"
جواب:
رسول اللہ ﷺ نے اپنے وصال سے قبل جو حج ادا فرمایا اس کو حجۃ الوداع کہتے ہیں۔
جواب:
حج اور عمرہ کے لیے اکٹھے احرام باندھنے کو حج قِران کہتے ہیں۔
جواب:
آپ ﷺ نے مسجد حرام میں بیت اللہ کا طواف فرمایا اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر منیٰ (8 ذوالحجہ ترویہ کے دن) تشریف لے گئے اور ظہر، عصر، مغرب اور عشاء اور اگلے دن 9 ذوالحجہ فجر تک کی (پانچ) نمازیں پڑھیں۔ اگلے دن سورج طلوع ہونے کے بعد آپ ﷺ عرفات میں "وادی نمرہ" میں اور شام کو "وادی عرنہ" میں تشریف لائے اور خطبہ دیا۔
جواب:
قربانی کا جانور جسے عازمینِ حج ذبح کرتے ہیں، ہدی کہلاتا ہے۔
جواب:
آپ ﷺ نے فرمایا: "تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے۔"
جواب:
آپ ﷺ نے لوگوں کو تاکید فرمائی کہ "تم لوگ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو اور ان کے حقوق ادا کرو۔"
جواب:
اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا
ترجمہ: "آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام بطور دین پسند کر لیا۔"
جواب:
آپ ﷺ نے ہدایات دیں کہ قتال میں پہل نہیں کرنی، نماز کا حکم دینا ہے، اگر اطاعت قبول کر لیں تو زکوٰۃ کا حکم دینا اور بتانا کہ روزِ ہر سال فرض ہے اور حج زندگی میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے۔
جواب:
خطبہ حجۃ الوداع کے دو نکات:
1. آپ ﷺ نے تاکید فرمائی کہ تم لوگ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو اور ان کے حقوق ادا کرو
2. آپ ﷺ نے معاشرے کے پسماندہ طبقوں اور ماتحتوں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمائی
جواب:
جب کفار کے اچانک حملے سے مسلمان بوکھلا گئے تو نبی کریم ﷺ بے مثال جرات و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان میں ڈٹے رہے۔ آپ ﷺ خچر سے اترے اور درج ذیل کلمات ادا کرتے ہوئے دشمن کی طرف چل پڑے:
"اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِب ۔۔۔۔ اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب"
ترجمہ: "میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔ میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔" (صحیح بخاری: 4315)
جواب:
1. غزوہ حنین میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کو بے شمار مال غنیمت عطا فرمایا جس میں چھ ہزار جنگی قیدی، چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی شامل تھی۔
2. غزوہ حنین کے بعد متعدد قبائل دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔
جواب:
مشکل حالات میں گھبرانے کی بجائے حوصلے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جس طرح نبی کریم ﷺ غزوہ حنین کے موقع پر جرات اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان میں ڈٹے رہے اور اپنے حواس پر قابو رکھتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کیا۔
جواب:
غزوہ حنین میں مسلمان لشکر کی تعداد بارہ ہزار تھی۔ اس کثیر تعداد کو دیکھ کر بعض مسلمانوں کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ آج کوئی طاقت ہمیں شکست سے دو چار نہیں کر سکتی۔ ان کا اپنی ظاہری طاقت و کثرتِ تعداد پر اترانا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا۔
جواب:
غزوہ حنین میں جیسے ہی مسلمان میدانِ جنگ میں اترے، اطراف میں چھپے ہوئے کفار کے ماہر تیر اندازوں نے اچانک حملہ کر دیا۔ انھوں نے مسلمانوں پر تیروں کی بارش کر دی۔ مسلمان ان کی اس جنگی تدبیر کے لیے تیار نہ تھے اس لیے عارضی طور پر مسلمانوں کے پاؤں اکھڑنے لگے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ کے حکم پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے پکارا: "بیعتِ رضوان والو! کہاں ہو؟" یہ آواز سن کر مجاہدین دوبارہ میدانِ جنگ میں جمع ہو گئے۔
جواب:
غزوہ حنین میں مرنے والے کفار کی تعداد تین سو سے زائد تھی جب کہ اس غزوہ میں چار مسلمان شہید ہوئے۔ حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نے تیس (30) مشرکوں کو قتل کیا۔
جواب:
قرآن مجید میں صرف دو غزوات کے نام آئے ہیں:
1. غزوہ بدر
2. غزوہ حنین
جواب:
اس غزوے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ظاہری مال و اسباب پر بھروسا کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرنا چاہیے اور یقینِ کامل کے ساتھ اس سے نصرت و مدد کی دعا کرنی چاہیے۔
جواب:
جب آپ ﷺ کے آخری لمحات کا آغاز ہوا تو اس وقت سر مبارک سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا۔ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ہاتھ میں مسواک لیے حاضر ہوئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مسواک کو نرم کیا، آپ ﷺ نے مسواک فرمائی اور چھت کی طرف دیکھ کر انگلی کھڑی کی۔ آپ ﷺ کے آخری الفاظ تھے: "اَللّٰهُمَّ بِالرَّفِيْقِ الْاَعْلٰى" ترجمہ: "اے اللہ مجھے بلند مرتبہ رفیق سے ملا دے۔" یہ الفاظ آپ ﷺ نے تین مرتبہ دہرائے اور آپ ﷺ کا ہاتھ مبارک جھک گیا۔ جس وقت آپ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے تو چاشت کا وقت تھا۔
جواب:
آپ ﷺ کی لحد مبارک حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے تیار کی۔ آپ ﷺ کو قبر مبارک میں اتارنے کا شرف حضرت علی، حضرت عباس، حضرت قثم بن عباس اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہم کو حاصل ہوا۔
جواب:
آپ ﷺ کا جنازہ باقاعدہ جماعت کی شکل میں ادا نہیں کیا گیا، بلکہ لوگ گروہ در گروہ حاضر ہوتے رہے اور اللہ کی حمد و ثنا، نبی کریم ﷺ پر درود و سلام اور دعا کرتے رہے۔
جواب:
وصال کے وقت نبی کریم ﷺ کی زبان پر یہ کلمات تھے: "اَللّٰهُمَّ بِالرَّفِيْقِ الْاَعْلٰى" ترجمہ: "اے اللہ مجھے بلند مرتبہ رفیق سے ملا دے۔"
جواب:
نبی کریم ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کی فضیلت یہ حدیث مبارک ہے: "قیامت کے دن لوگوں میں سے زیادہ میرے قریب وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پر کثرت سے درود پڑھتے ہوں گے۔" (جامع ترمذی: 484)
جواب:
ماہِ صفر کے آخری ایام میں نبی کریم ﷺ کی طبیعت بقیع الغرقد سے واپسی پر ناساز ہو گئی۔
جواب:
وصال سے ایک دن قبل آپ ﷺ نے اپنے تمام غلام آزاد فرما دیے اور سب دینار صدقہ کر دیے۔
جواب:
وہ جنگی ساز و سامان آپ ﷺ کے بعد خلفائے راشدین بطور تبرک استعمال کرتے رہے اور یہ چیزیں ایک سے دوسرے تک منتقل ہوتی گئیں۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "میرے اہل بیت میں تم ہی سب سے پہلے مجھے ملو گی"، جسے سن کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا مسکرانے لگیں۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے وصال سے چند لمحے قبل سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بلا کر چوما اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت فرمائی۔
جواب:
مسواک فرمانے کے بعد آپ ﷺ نے چھت کی طرف دیکھ کر انگلی کھڑی کی اور فرمایا: "اے اللہ! مجھے بلند مرتبہ رفیق سے ملا دے"۔
جواب:
آپ ﷺ کی وصیت کے مطابق غسل کے لیے مدینہ منورہ کے سات کنوؤں سے پانی لایا گیا اور بیری کے پتے ڈال کر گرم کیا گیا۔ آپ ﷺ کو حضرت علی، حضرت عباس، حضرت فضل بن عباس، حضرت قثم بن عباس، حضرت اسامہ بن زید اور آپ ﷺ کے غلام حضرت شقران رضی اللہ عنہم نے غسل دیا۔
جواب:
آپ ﷺ کا جنازہ باقاعدہ جماعت کی شکل میں ادا نہیں کیا گیا، بلکہ لوگ گروہ در گروہ حاضر ہوتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء، نبی کریم ﷺ پر درود و سلام اور دعا کرتے رہے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ کو لحد میں اتارنے کا شرف حضرت علی، حضرت عباس، حضرت قثم بن عباس اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہم کو حاصل ہوا۔
جواب:
غزوہ حنین میں حضرت شیما قیدیوں میں شامل تھیں۔ انھوں نے نبی کریم ﷺ کو اپنا تعارف کروایا تو آپ ﷺ نے ان کی بڑی عزت افزائی فرمائی، چادر بچھا کر انھیں احترام سے بٹھایا اور ارشاد فرمایا: "مانگو تمھیں دیا جائے گا، قیدیوں کی سفارش کرو، انھیں تمھاری وجہ سے امان دی جائے گی۔" پھر ان کی سفارش پر آپ ﷺ نے تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا۔
جواب:
عرب کے مظلوموں کی راحت رسانی کے لیے "حلف الفضول" نامی معاہدہ ہوا۔ اس کے اہم نکات:
1. ملک سے بدامنی کو دور کریں گے
2. مظلوموں، مسافروں اور غریبوں کی حفاظت اور مدد کریں گے
3. کسی ظالم یا غاصب کو مکہ میں نہیں رہنے دیں گے
آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے: "اگر اس معاہدے کے بدلے میں کوئی مجھے سرخ اونٹ بھی دیتا تو مجھے اتنی خوشی نہ ہوتی۔"
جواب:
حضرت عباس بیان کرتے ہیں: "میں نے دیکھا کہ آپ ایام طفولیت میں گہوارے کے اندر چاند کے ساتھ کھیلا کرتے تھے اور انگلی مبارک کے ساتھ جس طرف اشارہ فرمایا کرتے تھے، چاند اسی طرف جھک جاتا تھا۔ آپ نے فرمایا: میں اس کے ساتھ باتیں کرتا تھا اور وہ میرے ساتھ باتیں کرتا تھا اور مجھے رونے نہیں دیتا تھا۔" (الخصائص الکبریٰ: 1/ 53)
جواب:
حضرت محمد ﷺ 12 ربیع الاول بروز پیر بمطابق 22 اپریل 571 عیسوی، مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔
جواب:
حضور اکرم ﷺ کے والد ماجد کا نام حضرت عبداللہ اور والدہ ماجدہ کا نام حضرت سیدہ آمنہ ہے۔
جواب:
حلف الفضول کے دو نکات:
1. ملک سے بدامنی دور کریں گے، مسافروں، مظلوموں اور غریبوں کی حفاظت اور مدد کریں گے
2. کسی ظالم یا غاصب کو مکہ میں نہیں رہنے دیں گے
جواب:
نبی کریم ﷺ حیا کے پیکر تھے۔ آپ ﷺ کی عفت وحیا کے حوالے سے روایت ہے کہ آپ ﷺ پردہ دار کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیا والے تھے۔
جواب:
سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے چچا تھے۔ اس کے علاوہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔ اس طرح نبی کریم ﷺ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ثویبہ کا دودھ پیا تھا۔
جواب:
جب قریش مکہ حجر اسود کی تنصیب کے موقع پر دست و گریباں ہونے کے قریب تھے، تو آپ ﷺ کی حکمت عملی نے اہل مکہ کو فتنہ و فساد سے بچا لیا۔ آپ ﷺ نے حجر اسود کو ایک چادر میں رکھ کر ہر قبیلے کے معتبر افراد کو چادر پکڑنے کو کہا، جب تمام افراد نے چادر پکڑی تو آپ ﷺ نے حجر اسود کو اٹھا کر اپنی جگہ نصب فرما دیا۔
جواب:
آپ ﷺ نے حجر اسود کو ایک چادر میں رکھ کر ہر قبیلے کے معتبر افراد کو چادر پکڑنے کو کہا، جب تمام افراد نے چادر پکڑی تو آپ ﷺ نے حجر اسود کو اٹھا کر اپنی جگہ نصب کر دیا۔ اس حکمت عملی سے آپ ﷺ نے اہل مکہ کو فتنہ و فساد سے بچا لیا۔
جواب:
یہ معاہدہ حربِ فجار کے بعد 590 عیسوی میں قریش اور بنی قیس کے درمیان طے پایا۔ معاہدے میں تمام قبائل نے مل کر عہد کیا کہ ہم مظلوموں کا ساتھ دیں گے خواہ وہ کسی قبیلے کے ہوں یہاں تک کہ ان کا حق ادا کیا جائے۔ ملک میں ہر طرح کا امن و امان قائم کریں گے۔
جواب:
اعلانِ نبوت سے پہلے آپ ﷺ کے دوستوں میں حضرت ابوبکر صدیق، حضرت حکیم بن حزام اور ضمار بن ثعلبہ رضی اللہ عنہم سر فہرست ہیں۔ آپ ﷺ اپنے دوستوں کے لیے محبت کے جذبات رکھتے تھے اور ہمیشہ حسن سلوک سے پیش آتے تھے۔ حضرت قیس بن سائب مخزومی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا معاملہ اپنے تجارتی شرکا کے ساتھ ہمیشہ نہایت ہی صاف ستھرا رہتا تھا۔
جواب:
نبی کریم ﷺ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ بعض اوقات اگر آپ ﷺ کے پاس کچھ بھی نہ ہوتا اور کوئی مانگنے والا آ جاتا تو اپنی ضمانت دے کر مطلوبہ شے کسی سے لے کر حاجت مند کی ضرورت پوری فرما دیتے۔ ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، کسی چیز کا سوال کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اس وقت میرے پاس کوئی شے نہیں، ہاں تم میری ضمانت پر اپنی مطلوبہ اشیا خرید لو جب ہمارے پاس کچھ آجائے گا ہم اس کی قیمت ادا کر دیں گے۔" (شمائل ترمذی: 338)
جواب:
ایک بار حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے، کہ افطار کے وقت سائل نے دستک دی کہ وہ بھوکا ہے تو سب کچھ اس کو عطا کر دیا اور خود پانی سے روزہ افطار کر کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
جواب:
غزوہ تبوک 9 ہجری کے موقع پر آپ ﷺ نے امداد کی اپیل کی تو:
• حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا سب مال اور اسباب آپ کی بارگاہ میں نچھاور کر دیا
• حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے گھر کا نصف مال پیش کر دیا
• حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سیکڑوں اونٹ، گھوڑے اور اشرفیاں بارگاہِ رسالت میں پیش کر دیں
جواب:
لفظی مفہوم: کھلے دل سے خرچ کرنا
اصطلاحی مفہوم: اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو مال عطا فرمایا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے اس کے بندوں پر مال خرچ کرنا سخاوت کہلاتا ہے۔
جواب:
انسان اگر اپنی ضرورت اور حاجت ہونے کے باوجود خرچ کرے تو یہ بہترین سخاوت ہے، اسی کو ایثار کہتے ہیں۔
جواب:
سخاوت کی دو صورتیں:
1. فقرا اور مساکین کو کھانا کھلانا
2. یتیموں کی پرورش کرنا اور بیواؤں کی مالی مدد کرنا
جواب:
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"سخی اللہ سے قریب ہے، جنت سے قریب ہے، لوگوں سے قریب ہے اور کنجوس اللہ اور جنت سے دور اور آگ کے قریب ہے۔"
جواب:
نبی کریم ﷺ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ بعض اوقات اگر آپ ﷺ کے پاس کچھ بھی نہ ہوتا اور کوئی مانگنے والا آ جاتا تو اپنی ضمانت دے کر مطلوبہ شے کسی سے لے کر حاجت مند کی ضرورت پوری فرما دیتے تھے۔
جواب:
ایک بار سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ روزے سے تھے، کہ افطار کے وقت سائل نے دستک دی کہ وہ بھوکا ہے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سب کچھ اس کو عطا کر دیا اور دونوں نے خود پانی سے روزہ افطار کر کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
جواب:
سخاوت و ایثار کے فوائد:
1. سخاوت و ایثار سے افرادِ معاشرہ کی مدد ہوتی ہے
2. دل سے مال و دولت کی لامحدود محبت اور لالچ کا خاتمہ ہوتا ہے
3. سخاوت سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے
جواب:
سخاوت کے دو معاشرتی فوائد:
1. سخاوت سے افرادِ معاشرہ کی مدد ہوتی ہے
2. سخاوت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی بھی رضا حاصل ہوتی ہے
جواب:
نماز اور کثرتِ عبادت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے پاؤں مبارک میں ورم آجاتا۔ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ ﷺ اتنی تکلیف برداشت کرتے ہیں، حالاں کہ آپ ﷺ گناہوں سے پاک ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "تو کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔"
جواب:
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
"رسول اکرم ﷺ رات کے ابتدائی حصہ میں سو جاتے تھے۔ پھر اٹھ کر قیام کرتے اور سحری کے قریب وتر پڑھتے، پھر اپنے بستر پر تشریف لاتے۔ پھر جب اذان (فجر) سنتے تو تیزی سے اٹھ پڑتے۔"
جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ آتا تو حضور اکرم ﷺ عبادت کے لیے خود بھی کمر بستہ ہو جاتے اور اپنے گھر والوں کو بھی عبادت کے لیے جگاتے تھے۔
جواب:
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: "کیا یہ خبر سچ ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہو اور دن میں روزے رکھتے ہو؟" میں نے عرض کیا: جی ہاں یہ صحیح ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "ایسا نہ کرو، عبادت بھی کرو اور آرام بھی، روزے بھی رکھو اور کھاؤ پیو بھی کیوں کہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔ آنکھوں کا تم پر حق ہے، تم سے ملاقات کے لیے آنے والوں کا بھی تم پر حق ہے۔ بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔"
جواب:
نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزرتا تھا۔ آپ ﷺ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتے تھے۔ نمازوں کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ قرآن مجید کی تلاوت فرماتے اور فرض روزوں کے ساتھ ساتھ نفلی روزے بھی رکھتے تھے۔
جواب:
عبادت میں میانہ روی سے مراد یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی کرے، اس کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنی صحت اور ضرورتوں کا بھی خیال رکھے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "عبادت بھی کرو اور آرام بھی، روزے بھی رکھو اور کھاؤ پیو بھی، کیوں کہ تمھارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔ آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے، تم سے ملاقات کے لیے آنے والوں کا بھی تم پر حق ہے۔ بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔"
جواب:
عبادت میں میانہ روی اختیار کرنا اس لیے ضروری ہے کہ انسان کے جسم کا بھی اس پر حق ہے۔ اس کے علاوہ انسان کے رشتہ داروں اور تعلق داروں کا بھی حق ہے۔ کثرتِ عبادت سے ان حقوق کے نظر انداز ہونے کا اندیشہ ہے۔
جواب:
سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے چچا تھے۔ سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "آج میں تمہارے ساتھ اسی سلوک کا اعلان کرتا ہوں جو میرے بھائی حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا۔" آپ ﷺ نے تمام اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "جاؤ آج تم سب آزاد ہو، آج تم سے کوئی بازپرس نہیں ہوگی۔"
جواب:
فتح مکہ کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کو تین سو ساٹھ بتوں سے پاک فرمایا۔
جواب:
فتح مکہ کے نتیجے میں قریش کے تمام قبائل نے قبولِ اسلام میں پہل کی، حتیٰ کہ صرف دس روز میں دو ہزار لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے، دین اسلام کو غلبہ حاصل ہوا، اسلام اور اہلِ اسلام کو عظمت و شان حاصل ہوئی، دشمنانِ اسلام کی سازشیں دم توڑ گئیں، آپ ﷺ کی قائدانہ صلاحیتیں رنگ لے آئیں۔
جواب:
مسلمانوں اور اہلِ مکہ کے مابین صلح حدیبیہ کا معاہدہ 6 ہجری میں طے پایا۔
جواب:
فریقین میں دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ تھا لیکن اٹھارہ (18) ماہ بعد ہی بنو بکر نے اچانک صلح کا معاہدہ توڑتے ہوئے بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا اور حرمِ کعبہ میں بھی بنو خزاعہ پر لڑائی مسلط کر دی۔ قریشِ مکہ نے بھی بنو بکر کا ساتھ دیا۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے قریش مکہ کو تین شرائط پر صلح کا پیغام بھیجا:
1. بنو خزاعہ کے مقتولین کی دیت ادا کریں
2. قریشِ مکہ بنو بکر کی حمایت چھوڑ دیں
3. صلح ختم کر کے جنگ کا اعلان کریں
جواب:
فتح مکہ کے لشکر میں:
میمنہ کے امیر: حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ
میسرہ کے امیر: حضرت زبیر رضی اللہ عنہ
جواب:
فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں داخلے کے وقت آپ ﷺ سورۃ الفتح کی آیات تلاوت فرما رہے تھے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کو تین سو ساٹھ بتوں سے پاک فرمایا۔ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی پکڑی ہوئی تھی جس سے بتوں کو گراتے جاتے تھے اور اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے:
"جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا" (سورۃ بنی اسرائیل: 81)
ترجمہ: "حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔"
جواب:
فتح مکہ کے تین نتائج:
1. اسلام اور اہل اسلام کو عظمت اور شان حاصل ہوئی
2. قریش کے تمام قبائل نے قبولِ اسلام میں پہل کی
3. دین اسلام کو غلبہ حاصل ہوا اور دشمنانِ اسلام کی سازشیں دم توڑ گئیں
جواب:
خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ کے اندر دو رکعت نماز پڑھی۔
جواب:
فتح مکہ کی دو وجوہات:
1. بنو بکر نے قریش کے ساتھ مل کر بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا، جو مسلمانوں کے حلیف تھے
2. قریش نے صلح حدیبیہ کے معاہدے کی خلاف ورزی کی
جواب:
فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے ہمیں یہ درس دیا کہ ہم ہر قسم کے حالات میں عفو و درگزر کا معاملہ کریں، معاہدہ کی پاسداری کریں اور بڑے سے بڑے دشمن کو بھی کھلے دل سے معاف کریں۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ وہ اپنا باغ اپنے غریب رشتہ داروں کو دے دیں، چناں چہ انھوں نے وہ باغ اپنے عزیزوں اور اپنے چچا کے لڑکوں میں تقسیم کر دیا۔
جواب:
صلہ رحمی کی دو صورتیں:
1. اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھے اور بہتر تعلقات قائم کرنا اور ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھنا
2. اگر رشتہ دار مالی حوالے سے تنگ دست اور کمزور ہیں تو ان کی مدد کرنا اور ہر لحاظ سے ان کا خیال رکھنا
جواب:
صلہ رحمی کے فوائد:
1. صلہ رحمی سے افراد میں باہمی محبت پیدا ہوتی ہے اور خاندانی نظام استحکام پاتا ہے
2. معاشرتی امن کو فروغ ملتا ہے اور معاشرہ ترقی کی راہ پر چل پڑتا ہے
قطع رحمی کے نقصانات:
1. قطع رحمی سے افراد میں باہمی نفرت پروان چڑھتی ہے
2. قطع رحمی سے خاندانی استحکام تہہ و بالا ہو جاتا ہے
جواب:
صلہ رحمی سے افراد میں باہمی محبت پیدا ہوتی ہے جس سے خاندانی نظام استحکام پاتا ہے۔ رشتہ داروں کے درمیان تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور خاندان کے افراد ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں، جس سے خاندانی نظام مستحکم ہوتا ہے۔
جواب:
اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھے اور بہتر تعلقات قائم کرنا، رشتوں کو اچھی طرح نبھانا، ان کے حقوق پورے کرنا اور ہر لحاظ سے ان کا خیال رکھنا صلہ رحمی کہلاتا ہے۔
جواب:
قریبی رشتہ داروں کے حقوق ادا نہ کرنا اور ان کی خبر گیری سے غفلت برتنا قطع رحمی کہلاتا ہے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ نے صلہ رحمی اختیار کرنے والے شخص کو:
1. رزق میں کشادگی
2. عمر میں برکت
کی ضمانت عطا فرمائی ہے۔
جواب:
صلہ رحمی کے دو فوائد:
1. صلہ رحمی سے افراد میں باہمی محبت پیدا ہوتی ہے
2. معاشرتی امن کو فروغ ملتا ہے
جواب:
قطع رحمی کے دو نقصانات:
1. قطع رحمی سے افراد میں باہمی نفرت پروان چڑھتی ہے
2. معاشرہ مختلف مسائل کا شکار ہو جاتا ہے
No short questions available for this section.