جواب:
ملائکہ اللہ تعالیٰ کی نوری مخلوق ہے جو ہمیں نظر نہیں آتی۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں اور بشری صفات جیسے کھانا، پینا، سونا، جاگنا اور ہر طرح کی غلطی اور خطا وغیرہ سے پاک ہیں۔ فرشتے مختلف شکلیں اختیار کر سکتے ہیں۔ فرشتوں کی تخلیق کا مقصد عبادت و اطاعتِ الٰہی ہے۔
جواب:
حدیثِ جبرائیل کی روشنی میں تعلیم و تعلم کے دو آداب درج ذیل ہیں:
1. استاد کے سامنے ادب سے بیٹھنا۔
2. ایسا سوال کرنا جس سے طلبہ کو فائدہ ہو۔
جواب:
فرشتوں کی دو ذمہ داریاں درج ذیل ہیں:
1. ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور انسان کا نامہ اعمال لکھتے ہیں جیسے کراماً کاتبین۔
2. منکر نکیر وہ فرشتے ہیں جو قبر میں سوال کریں گے۔
جواب:
فرشتوں کی تخلیق کا مقصد عبادت و اطاعتِ الٰہی ہے۔
جواب:
کراماً کاتبین ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور انسان کا نامہ اعمال لکھتے ہیں۔
جواب:
منکر نکیر قبر میں سوال کریں گے۔
جواب:
آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسلام کلمہ شہادت، نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج ادا کرنا ہے۔
جواب:
آپ ﷺ نے فرمایا کہ احسان سے مراد اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرنا ہے کہ گویا بندہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے یا کم از کم یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔
جواب:
ہمیں چاہیے کہ فرشتوں کے بارے میں اپنے دل میں عظمت کا احساس رکھیں اور اس بات کا یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ امور کائنات چلانے میں فرشتوں کا محتاج نہیں۔
جواب:
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے:
1. کلمہ شہادت
2. نماز
3. روزہ
4. زکوٰۃ
5. حج
جواب:
فرشتے بشری صفات، کھانا، پینا، سونا، جاگنا اور ہر طرح کی غلطی اور خطا وغیرہ سے پاک ہیں۔
جواب:
حضرت اسرافیل (علیہ السلام): کی ذمہ داری قیامت کے لیے صور پھونکنا ہے۔
حضرت میکائیل (علیہ السلام): کی ذمہ داری مخلوق کے لیے رزق مہیا کرنا ہے۔
جواب:
فرشتوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ جو حکم انہیں دیتا ہے وہ فوراً اس کی تعمیل کرتے ہیں۔
جواب:
1. فرشتے انسان کے اعمال کو محفوظ کرتے ہیں جن کا اسے اللہ کے سامنے جواب دینا ہوگا۔ اس لیے انسان نیک عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
2. حضرت آدم علیہ السلام مسجودِ ملائک ہیں، یہ امر انسان میں عزت نفس کا احساس پیدا کرتا ہے۔
جواب:
1. فرشتوں پر ایمان لانے سے انسان یہ یقین کر لیتا ہے کہ فرشتے اس کے تمام اعمال کو محفوظ کر رہے ہیں اور ایک دن انسان نے اللہ تعالیٰ کے سامنے ان اعمال کا جواب دینا ہے، چناں چہ انسان نیک اعمال شروع کر دیتا ہے۔
2. فرشتوں پر ایمان لانے سے انسان میں عزت نفس کا احساس پیدا ہوتا ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کروایا تھا۔
جواب:
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کو دنیا میں مبعوث فرمایا۔ بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام پر آسمانی کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے۔ چار مشہور کتابوں کے علاوہ چھوٹی چھوٹی کتابیں نازل فرمائی گئیں، انھیں صحیفے یا صحائف کہتے ہیں۔
جواب:
تمام آسمانی کتابوں میں یہ تین عقائد موجود رہے ہیں:
1. عقیدہ توحید
2. عقیدہ رسالت
3. عقیدہ آخرت
سابقہ آسمانی کتابوں نے مذکورہ تینوں عقائد پر بہت زور دیا ہے۔
جواب:
اہلِ کتاب: وہ لوگ جو کسی ایسے مذہب کے پیروکار ہیں جس کی دعوت کسی نبی نے دی اور ان کی ہدایت کے لیے کتاب بھی بھیجی گئی تو ایسے لوگوں کو اہل کتاب کہا جاتا ہے، جیسے یہودی اور مسیحی۔
مشرکین: وہ لوگ جو کسی نبی کی تعلیمات پر ایمان نہیں لاتے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے، اور وہ لوگ مظاہر فطرت یا بتوں کی پوجا کرتے ہیں، تو اس طرح کے لوگوں کو مشرکین کہا جاتا ہے۔
جواب:
انبیائے کرام علیہم السلام نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کو ایک ماننے، صرف اسی کی عبادت کرنے کی دعوت دی، اچھے کام کرنے کا حکم دیا اور بُرے کاموں سے روکا۔
جواب:
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد جتنے بھی انبیاء تشریف لائے وہ سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ اس وجہ سے آپ کو جد الانبیاء یعنی انبیاء کا باپ کہا جاتا ہے۔
جواب:
حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل ہے اس لیے ان کی اولاد کو بنی اسرائیل کہتے ہیں۔
جواب:
حضرت داؤد علیہ السلام بنی اسرائیل کے پہلے شخص تھے جنھیں نبوت اور حکومت بیک وقت عطا کی گئی۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل میں نبوت اور حکومت کا سلسلہ الگ الگ خاندانوں میں تھا۔
جواب:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لقب مسیح، عبداللہ، روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہے۔
جواب:
آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کتابیں بھی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام پر نازل فرمائیں، وہ کتابیں برحق تھیں۔
جواب:
ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لائے اور ان کا احترام کرے۔
جواب:
حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل ہوئیں۔
جواب:
قرآن مجید: حضرت محمد ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب کا نام قرآن مجید ہے۔ یہ آخری آسمانی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر دین اسلام کی تعلیمات کو مکمل کر دیا اس لیے انسانوں کی کامیابی اور نجات کا واحد راستہ قرآن مجید پر عمل اور نبی ﷺ کی اطاعت ہے۔
تورات: حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب کا نام تورات ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سامنے حق کا پیغام پہنچایا اور اپنی قوم یعنی بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلا کر آزادی عطا کی۔
جواب:
تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام اور انجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئیں۔
جواب:
اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ و عشر کی فرضیت کی حکمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: "آپ ﷺ ان کے مال سے صدقہ لیجیے تا کہ آپ انھیں پاک کر دیں اور اس کے ذریعے سے ان کا تزکیہ کریں۔"
جواب:
زکوٰۃ: مال کا حق ہے، اس کی ادائیگی کے لیے مال پر سال کا گزرنا ضروری ہے۔
عشر: زمینی پیداوار کا حق ہے، اس میں سال گزرنا ضروری نہیں بلکہ اگر دو مرتبہ فصل ہوتی ہے تو ہر مرتبہ عشر ادا کرنا ضروری ہے۔
جواب:
اسلام کے معاشی نظام میں زکوٰۃ کو وہی حیثیت حاصل ہے جو انسانی جسم میں روح کو حاصل ہے۔ زکوٰۃ سے غربت و بے روزگاری کا خاتمہ ہوتا ہے اور فلاحی معاشرہ تشکیل پاتا ہے، دولت گردش میں رہتی ہے جس کی وجہ سے دولت کی تقسیم منصفانہ ہوتی ہے۔
جواب:
زکوٰۃ کا لغوی معنی پاک ہونا ہے۔ زکوٰۃ دو ہجری میں فرض ہوئی۔
جواب:
زکوٰۃ سے مراد وہ مخصوص مال ہے جو سال گزرنے کے بعد نصابِ زکوٰۃ میں مخصوص شرح کے ساتھ مصارفِ زکوٰۃ کو ادا کیا جاتا ہے۔
جواب:
زکوٰۃ کے لازم ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان عاقل، بالغ، مسلمان اور آزاد ہو اور پورے سال ایسے مال کا مالک ہو جو مالِ قرض اور ضروریاتِ زندگی مثلاً: گھر کے سامان، کھانے، پینے اور پہننے سے زائد ہو۔
جواب:
جانوروں پر زکوٰۃ کا نصاب:
• پانچ اونٹ
• 30 گائے اور بھینس
• 40 بکریاں
جن پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔
جواب:
تیس گائے بھینسوں پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔
جواب:
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"اللہ کی قسم! میں ضرور اس کے ساتھ جنگ کروں گا جس نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا، اللہ کی قسم! اگر انھوں نے مجھ سے بکری کا ایک بچہ بھی روک لیا جسے وہ رسول اللہ ﷺ کو ادا کیا کرتے تھے تو میں اس کے نہ دینے پر ضرور ان سے لڑوں گا۔" (صحیح بخاری: 1400)
جواب:
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جب لوگ زکوٰۃ ادا کرنا ترک کر دیتے ہیں تو آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے اور اگر جانور نہ ہوں تو کبھی بارش نہ ہو۔" (سنن ابن ماجہ: 4019)
جواب:
لغوی معنی: "دسواں حصہ"
اصطلاحی معنی: زمینی پیداوار کی زکوٰۃ ہے۔
جواب:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَاٰتُوا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ (سورۃ الانعام: 141)
ترجمہ: "اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو۔"
جواب:
1. زکوٰۃ سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوتا ہے۔
2. جرائم اور گداگری رک جاتی ہے۔
جواب:
سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 40 کا ترجمہ: "نہیں ہیں (حضرت) محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔"
جواب:
عالمگیر رسالت: نبی کریم ﷺ سے پہلے آنے والے انبیاء کرام علیہم السلام کسی خاص قوم یا قبیلے کی طرف مبعوث کیے گئے، لیکن آپ ﷺ کا امتیاز یہ ہے کہ آپ ﷺ کو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔
تکمیلی رسالت: آپ ﷺ کو یہ امتیاز اور خصوصیت عطا کی گئی کہ آپ ﷺ کی بعثت سے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی شریعتیں منسوخ ہو گئیں۔ اب صرف شریعت محمدی ﷺ ہی واجب الاطاعت ہے۔
جواب:
علم و حکمت: ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی صورت میں علم و حکمت سے نوازا جاتا ہے اور عام انسانوں میں ان کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
معصومیت: انبیائے کرام علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں اور ان سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا۔
جواب:
رسالت کے لغوی معنی پیغام رسانی یا پیغام پہنچانا کے ہیں۔ اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کا کسی منتخب بندے کو انسانوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجنا رسالت کہلاتا ہے۔
جواب:
لغوی معنی: رسول کے لغوی معنی پیغام پہنچانے والا کے ہیں۔
اصطلاحی معنی: جس منتخب ہستی کو اللہ تعالیٰ اپنے پیغام کی تبلیغ کے لیے لوگوں کی طرف بھیجتا ہے، اسے اصطلاح میں رسول کہا جاتا ہے۔
جواب:
انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کا مقصد انسانوں کے اخلاق کی اصلاح کرنا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی طرف نبی اور رسول بھیجے تاکہ وہ لوگوں کو ہدایت دے کر اللہ تعالیٰ کی بندگی کے طریقے سکھائیں۔
جواب:
خلق عظیم: "اور (اے نبی) بے شک آپ ﷺ اخلاق کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہیں۔" (القلم: 4)
رحمۃ للعالمین: "اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔" (الانبیاء: 107)
جواب:
اسلام کے عقائد میں توحید کے بعد عقیدہ رسالت کا درجہ ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام، اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان سفیر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے انسانوں کی ہدایت اور راہ نمائی کا انتظام فرمایا۔ یہ ہدایت اور راہ نمائی اللہ تعالیٰ کے انبیائے کرام علیہم السلام کے ذریعے مہیا کی گئی۔ تمام انبیائے علیہم السلام کی بعثت کا مقصد انسانوں کے اخلاق کی اصلاح اور انہیں اللہ تعالیٰ کی بندگی کے طریقے سکھانا تھا۔
جواب:
حضرت داؤد علیہ السلام سے پہلے بنی اسرائیل میں نبوت اور حکومت کا سلسلہ الگ الگ خاندانوں میں تھا۔ آپ بنی اسرائیل کے پہلے شخص تھے جنہیں نبوت کے ساتھ ایک زبردست اور وسیع سلطنت عطا کی گئی۔
جواب:
1. انبیائے کرام علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں اور ان سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا۔
2. انبیائے کرام علیہم السلام کی نبوت وہبی ہوتی ہے۔
3. تمام انبیائے علیہم السلام کی اطاعت واجب ہے۔
جواب:
عالمگیر رسالت: آنحضور ﷺ کو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔
تکمیلی شریعت: سابقہ شریعتیں منسوخ ہو گئی ہیں، اب صرف شریعت محمدی ﷺ پر عمل ہوگا۔
جواب:
سابقہ آسمانی کتابوں کی تعلیمات مٹ چکی یا مسخ ہو چکی ہیں لیکن قرآن مجید آج بھی اپنی اصل شکل میں محفوظ ہے۔
جواب:
سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 3 کا ترجمہ: "آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام بطور دین پسند کر لیا۔"
جواب:
ختم نبوت کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اب قیامت تک کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ اس لیے آپ ﷺ کی شریعت پر عمل کرنا ضروری ہے۔
جواب:
سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 40 کا ترجمہ: "نہیں ہیں (حضرت) محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔"
جواب:
آنحضور ﷺ کا فرمان ہے: "میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔" (جامع ترمذی)
جواب:
روزے کے لیے قرآن و حدیث میں لفظ "صوم" یا "صیام" استعمال ہوا ہے۔ جس کے لغوی معنی رُک جانے یا بچ جانے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں وہ عبادت جس میں ایک مسلمان طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور اپنی جائز نفسانی خواہشات سے رُک جاتا ہے، اسے "صوم" یعنی روزہ کہا جاتا ہے۔
جواب:
رمضان المبارک کے دو مسنون اعمال درج ذیل ہیں:
1. سحری
2. اعتکاف
جواب:
1. روزے کی برکات حاصل کرنے کے لیے لوگ زکوٰۃ و صدقات ادا کرتے ہیں، جس سے غربا، مساکین اور دیگر ضرورت مندوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔
2. روزے کی حالت میں دوسروں کی بھوک پیاس کا اندازہ ہوتا ہے اور ان کے ساتھ ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
جواب:
لغوی معنی: رک جانے یا بچ جانے کے ہیں۔
اصطلاحی معنی: "صوم" وہ عبادت ہے جس میں ایک مسلمان طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور اپنی جائز نفسانی خواہشات سے رک جاتا ہے۔
جواب:
ترجمہ: "اے ایمان والو! تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم (نافرمانی سے) بچ سکو۔"
جواب:
1. ایسا مریض جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو
2. مسافر جو سفر کی مشکلات سے دوچار ہو
جواب:
رمضان المبارک میں ازواجِ مطہرات نبی کریم ﷺ کے ساتھ روزے رکھتیں اور اعتکاف بھی کیا کرتی تھیں۔
جواب:
روزے سے روحانی طہارت، روحانی تسکین، تقویٰ، اطمینانِ قلب اور صبر و شکر جیسے روحانی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
جواب:
1. کم کھانے کی وجہ سے معدے کو پورا مہینا آرام ملتا ہے
2. انسان مختلف قسم کی بیماریوں سے محفوظ ہو جاتا ہے
جواب:
ہمیں چاہیے کہ غریب و نادار افراد کی مدد کے لیے کثرت سے صدقات و خیرات کا اہتمام کریں۔ پرخلوص عبادت سے اپنی بخشش کا سامان کریں اور رمضان المبارک کے معمولات کو سال بھر جاری رکھیں۔
جواب:
1. روزے سے تقویٰ و پرہیزگاری اور ایثار و ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں
2. کم کھانے کی وجہ سے انسان مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے
جواب:
رمضان المبارک میں کی جانے والی عبادات درج ذیل ہیں:
• روزہ رکھنا
• نماز تراویح پڑھنا
• روزے دار کا روزہ افطار کروانا
• قرآن مجید پڑھنا
• نفل نماز پڑھنا
• اعتکاف بیٹھنا
• آخری عشرے کی طاق راتوں میں عبادت کرنا
جواب:
1. کم کھانے کی وجہ سے معدے کو پورا مہینا آرام ملتا ہے
2. انسان مختلف قسم کی بیماریوں سے محفوظ ہو جاتا ہے
جواب:
شرک کا لفظی معنی حصہ دار اور ساجھی ٹھہرانا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں ربوبیت، الوہیت اور اس کے اسماء و صفات میں کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک اور حصہ دار بنانا شرک کہلاتا ہے۔ جو شخص عقیدہ توحید پر ایمان نہیں رکھتا، وہ شرک کا ارتکاب کرتا ہے۔ عقیدہ توحید کا انکار شرک ہے۔
جواب:
ذات میں شرک: اس سے مراد یہ ہے کہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر اور برابر سمجھنا یا اللہ تعالیٰ کو کسی کی اولاد سمجھنا، یا کسی کو اللہ تعالیٰ کی اولاد سمجھنا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی اور کو ماننا یا کسی کو اللہ تعالیٰ کی بیٹی یا بیٹا ماننا، ذات میں شرک کہلاتا ہے۔
صفات میں شرک: اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی ذات اور شخصیت میں اللہ تعالیٰ جیسی صفات ماننا اور اعتقاد رکھنا صفات میں شرک کہلاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جیسی صفات، اس جیسا علم اور قدرت کسی دوسرے کے لیے سمجھنا اللہ تعالیٰ کی صفات میں شرک ہے۔
جواب:
پُر امید اور پُر سکون زندگی: عقیدہ توحید پر ایمان رکھنے والا انسان پُر امید ہوتا ہے اور پُر سکون اور اطمینان بخش زندگی گزارتا ہے۔
وسیع النظری: عقیدہ توحید پر ایمان رکھنے والا شخص تنگ نظر نہیں ہوتا۔ اس کا اس بات پر ایمان ہوتا ہے کہ کائنات کا خالق اور سب کو پالنے والا اللہ تعالیٰ ہے، اسی وجہ سے ساری مخلوق کی بھلائی اور بہتری چاہتا ہے۔
جواب:
توحید کے لغوی معنی ایک ماننا اور یکتا جاننا کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات اور کمالات میں یکتا اور بے مثل ماننا اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنا توحید کہلاتا ہے۔
جواب:
شریعت کی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات اور کمالات میں یکتا اور بے مثل ماننا اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنا توحید کہلاتا ہے۔
جواب:
دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے اولین اور بنیادی شرط اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار یعنی عقیدہ توحید ہے۔
جواب:
اللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات میں یکتا و بے مثل ہے۔ تمام کائنات اسی کی مخلوق اور اسی کے حکم کے مطابق چل رہی ہے۔ کائنات میں اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ تمام عیبوں سے پاک اور تمام کمالات کا مالک ہے۔ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں وَحدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ ہے۔
جواب:
توحید کی تین اقسام ہیں:
1. توحیدِ ربوبیت
2. توحیدِ الوہیت
3. توحیدِ اسماء و صفات
جواب:
عقیدہ توحید کے دو اثرات درج ذیل ہیں:
1. انسان تنگ نظری اور بزدلی سے بچ جاتا ہے۔
2. اس میں عجز و انکسار پیدا ہوتا ہے۔
3. وہ غیرت مند اور بہادر بن جاتا ہے۔
جواب:
توحیدِ ربوبیت یہ ہے کہ انسان اس بات پر ایمان لائے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق و مالک اور رازق ہے۔ اس میں کوئی اور اس کا شریک نہیں ہے۔
جواب:
توحیدِ الوہیت سے مراد یہ ہے کہ اس بات پر ایمان لایا جائے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور اس کی عبادت میں کوئی اس کا شریک نہیں۔
جواب:
اللہ تعالیٰ کو اس کے اسماء و صفات میں یکتا اور تنہا ماننا توحید اسماء و صفات ہے، یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے واحد، اکیلا اور یکتا ہے، اسی طرح وہ اپنے اسماء و صفات اور افعال میں بھی واحد و یکتا ہے۔
جواب:
شرک کے لفظی معنی حصہ دار اور ساجھی ٹھہرانا ہیں۔ شرک کی دو اقسام درج ذیل ہیں:
1. ذات میں شرک
2. صفات میں شرک
جواب:
اصطلاح میں ربوبیت، الوہیت اور اسماء و صفات میں کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک اور حصہ دار بنانا شرک کہلاتا ہے۔
جواب:
شرک کی تین اقسام ہیں:
1. ذات میں شرک
2. الوہیت میں شرک
3. صفات میں شرک
جواب:
کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر اور برابر سمجھنا، اللہ تعالیٰ کو کسی کی اولاد سمجھنا، کسی کو اللہ تعالیٰ کی اولاد سمجھنا یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو ماننا یا کسی کو اللہ تعالیٰ کی بیٹی، بیٹا ماننا اللہ تعالیٰ کی ذات میں شرک ہے۔
جواب:
اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی کو عبادت کے لائق سمجھنا یا کسی کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شریک کرنا الوہیت میں شرک ہے۔
جواب:
اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی ذات اور شخصیت میں اللہ تعالیٰ جیسی صفات ماننا، صفات میں شرک کہلاتا ہے۔
جواب:
عقیدہ توحید سے انسان کی زندگی پر نہایت خوش گوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وہ ہر قسم کے شرک سے بچ جاتا ہے اور اس کی زندگی اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بن جاتی ہے۔
جواب:
عقیدہ توحید سے انسان پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں:
1. وہ غیرت مند اور بہادر بن جاتا ہے۔
2. اس میں عجز و انکسار پیدا ہوتا ہے۔
3. تنگ نظری اور بزدلی سے بچ جاتا ہے۔
جواب:
مقامِ محمود سے مراد شفاعتِ کبریٰ ہے جو نبی کریم ﷺ کی خصوصیت ہے۔ اس شفاعت کا فائدہ پوری انسانیت کو ہوگا کیوں کہ حساب کے انتظار کی سختی ختم ہو جائے گی اور حساب شروع ہو جائے گا۔ اسی شفاعت کو مقامِ محمود کہتے ہیں۔
جواب:
کوثر جنت کے اس حوض کا نام ہے جو نبی کریم ﷺ کو روزِ قیامت عطا کیا جائے گا۔ قیامت کے دن جو اس حوض سے پانی پی لیں گے وہ خوش بخت ہوں گے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"کوثر جنت میں ایک نہر ہے۔ اس کے کنارے سونے کے ہیں۔ یہ موتیوں اور یاقوت کی نالیوں میں بہتی ہے، اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا، دودھ سے زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور کستوری کی خوش بو سے زیادہ مہک والا ہے۔"
جواب:
فرمانبرداروں کے لیے: آخرت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والوں کے لیے جنت تیار کی گئی ہے۔ جنت کی خوب صورتی کے بارے میں حدیثِ قدسی ہے: آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال تک گزرا ہے۔ (صحیح بخاری: 3244)
نافرمانوں کے لیے: اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کا آخرت میں ٹھکانا دوزخ ہوگا۔ مجرموں کو زنجیروں میں جکڑا جائے گا، آگ میں جلا دیا جائے گا، لوہے کے کوڑے برسائے جائیں گے، ان کا کھانا پینا بھی اذیت ناک اور ناقابلِ برداشت ہوگا۔ اس عذاب کے ڈر سے وہ موت کی خواہش کریں گے لیکن ان کو موت نہیں آئے گی۔
جواب:
اسلام نے اپنے ماننے والوں کو مرنے کے بعد ایک نئی زندگی کا تصور اور عقیدہ دیا ہے، اس کو آخرت کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
جواب:
ترجمہ: "اور آخرت پر وہ یقین رکھتے ہیں۔" (سورۃ البقرہ: 4)
جواب:
موت کے بعد اور دوبارہ زندہ کیے جانے سے پہلے کے درمیانی دور کو عالمِ برزخ کہتے ہیں۔
جواب:
وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ o (سورۃ مومنون: 100)
ترجمہ: "اور ان کے آگے ایک پردہ ہے اس دن تک کے لیے جب لوگ اٹھائے جائیں گے۔"
جواب:
نشر کا معنی موت کے بعد زندہ کرنا جب کہ حشر کا معنی حساب کے میدان اور پھر جنت دوزخ کی طرف لے جانا ہے۔
جواب:
شفاعت کا معنی ہے "سفارش"۔
جواب:
شفاعت کی دو اقسام ہیں:
شفاعتِ کبریٰ: یہ نبی کریم ﷺ کی خصوصیت ہے۔ اس شفاعت کا فائدہ پوری انسانیت کو ہوگا۔
شفاعتِ صغریٰ: تمام انبیائے کرام علیہم السلام، ملائکہ، علماء شہداء، صالحین، قرآن مجید اور عبادات وغیرہ اللہ تعالیٰ کے حضور انسانوں کی شفاعت کریں گے۔
جواب:
نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا مقام محمود کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا مقام محمود شفاعت ہی ہے۔ شفاعتِ کبریٰ کو مقام محمود کہتے ہیں۔
جواب:
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جنت کے بارے میں فرمایا ہے:
ترجمہ: "اور اس میں تمھارے لیے ہر وہ چیز ہے جو تم مانگو گے۔" (حم سجدہ: 31)
جواب:
1. دوزخیوں کو آگ میں جلایا جائے گا۔
2. لوہے کے کوڑے برسائے جائیں گے۔
جواب:
عقیدہ آخرت ہم سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم زندگی میں آخرت کی فکر کریں، زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کریں، گناہوں سے بچیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھیں، دوسروں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیں تاکہ جنت کے مستحق بن سکیں۔
جواب:
میزان ترازو کو کہتے ہیں۔ لوگوں کے اعمال کا وزن کرنے کے لیے قیامت کے دن میزان نصب کی جائے گی۔ میزان پر جن کے اعمال وزنی ہوں گے وہ کامیاب ہوں گے اور جن کے اعمال کا وزن ہلکا ہوگا وہ خسارے میں رہیں گے۔
جواب:
آخرت کا معنی بعد کی زندگی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی زندگی کے بعد بھی ایک اور زندگی ہے، جو موت کے بعد شروع ہوگی۔ یہ ہمیشہ کی زندگی ہے جو کبھی ختم نہ ہوگی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام انسانوں سے ان کے اعمال کا حساب لے گا۔ نیکوکاروں کو جنت میں بھیج دیا جائے گا اور برے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔
جواب:
ترجمہ: "بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت پر فرض ہے۔" (سورۃ النساء: 103)
جواب:
1. نماز کے لیے وضو کرنا شرط ہے۔ جب انسان وضو کرتا ہے تو ہاتھ دھونا، دانت صاف کرنا، ناک میں پانی چڑھانا، منہ دھونا، سر کا مسح کرنا اور پاؤں دھونا ظاہری طور پر انسان کو طہارت و پاکیزگی بخشتے ہیں۔
2. نماز کے لیے قبلہ رو ہونا شرط ہے۔
جواب:
1. مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے سے انسان محلے داروں اور دیگر نمازیوں سے ملاقات کی وجہ سے ان کے حالات سے باخبر، دکھ درد سے آگاہ اور خوشی و غمی کا احساس کر کے ان کے ساتھ شریک ہوتا ہے۔ انہی امور کا خیال رکھنے سے انسانی معاشرہ ترقی پاتا ہے۔
2. نماز ہمدردی، ایثار، اخوت و محبت اور رواداری جیسے جذبات پیدا کرتی ہے۔
جواب:
1. نماز دین کا ستون اور جنت کی کنجی ہے۔ نماز مومن کی معراج اور قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔
2. نماز اللہ تعالیٰ کی رضا کا باعث اور پریشانیوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ نماز کافر اور مومن میں فرق کرتی ہے۔
جواب:
1. نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات دلاتی ہے۔
2. نماز سے انسان بے حیائی اور برائی سے بچ جاتا ہے۔
جواب:
ترجمہ: "بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت پر فرض ہے۔"
جواب:
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "پانچ نمازوں کی مثال نہر کی طرح ہے۔ جس کا پانی صاف ستھرا اور گہرا ہو، جو تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے سے گزرتی ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، کیا تم خیال کرو گے کہ اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہے گی؟" صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: نہیں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "پانچ نمازیں گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتی ہیں جیسے پانی میل کو ختم کر دیتا ہے۔" (صحیح مسلم)
جواب:
نماز میں تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے آدمی نماز میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد قیام، قرآت، رکوع و سجود، قعدہ و جلسہ اور سلام ترتیب کے ساتھ لازم ہیں۔
جواب:
باجماعت نماز ادا کرنے کی بہت فضیلت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "باجماعت نماز اکیلے نماز سے ستائیس (27) درجے افضل ہے۔" (صحیح بخاری)
جواب:
فجر اور عشا کی باجماعت نمازوں کی بہت فضیلت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص نماز عشا باجماعت ادا کرتا ہے تو اسے آدھی رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے اور جو فجر جماعت کے ساتھ ادا کرتا ہے اس کو بقیہ آدھی رات کا ثواب مل جاتا ہے۔"
جواب:
قربانی کے متعلق احکام درج ذیل ہیں:
1. عید کی نماز سے پہلے قربانی نہیں کی جا سکتی۔
2. اپنے ہاتھ سے قربانی کرنا افضل ہے۔
جواب:
حج و عمرہ کے موقع پر حاجی خانہ کعبہ کی زیارت کرتا ہے، مسجد نبوی ﷺ کی زیارت کا شرف پاتا ہے، روضۂ رسول اللہ ﷺ پر حاضر ہو کر درود و سلام پیش کرتا ہے۔ حجاج کرام کو مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور طائف میں ایسے بہت سے مقامات کی زیارت کا موقع ملتا ہے جن کا سیرت سے گہرا تعلق ہے۔
جواب:
حج بیت اللہ ملتِ اسلامیہ کے اتحاد و یگانگت کا مظہر ہے۔ حجاج کرام جب حج کے لیے جمع ہوتے ہیں تو ان کا لباس، اعمال یہاں تک کہ زبان پر بھی ایک جیسے کلمات جاری ہوتے ہیں۔ ان سب کے مناسک بھی یکساں ہوتے ہیں اور وہ مل کر ایک ہی کعبہ کے گرد طواف کرتے ہیں۔ حج کے موقع پر لڑائی جھگڑے اور فساد سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے۔ جس سے ایک دوسرے کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
جواب:
حج کے مناسک میں سے دو:
1. وقوفِ عرفات
2. طوافِ زیارت
جواب:
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "حج مبرور (مقبول حج) کی جزا جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔" (صحیح بخاری: 1773)
جواب:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جس شخص کو قربانی کی وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔" (سنن ابن ماجہ: 3132)
جواب:
وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا ط (آلِ عمران: 97)
ترجمہ: "اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر (بیت اللہ) کا حج کرنا (فرض) ہے جو کوئی بھی اس کی طرف جانے کی استطاعت رکھتا ہو۔"
جواب:
حج کے چار مناسک:
1. احرام باندھنا
2. وقوفِ عرفات
3. طوافِ زیارت
4. سعی بین الصفا والمروہ
جواب:
قربانی کے مسائل:
• عید کی نماز سے پہلے قربانی نہیں کی جا سکتی
• اپنے ہاتھ سے قربانی کرنا افضل ہے
• اگر خود جانور ذبح نہ کر سکتا ہو تو کوئی دوسرا مسلمان اس کی جگہ جانور ذبح کر سکتا ہے، مگر اجازت ضروری ہے
جواب:
قربانی کا فلسفہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی خواہشات کو قربان کر دیا جائے اور اس بات کا عہد کرنا کہ اگر ہمیں اس کی راہ میں اپنی جان بھی قربان کرنا پڑے تو ہم دریغ نہیں کریں گے۔
جواب:
حج کے موقع پر حجاج کرام کا لباس، اعمال، زبان پر جاری کلمات، حج کے مناسک اور خانہ کعبہ ایک ہوتے ہیں۔ تمام حجاج حج کے سارے مناسک، فرائض وغیرہ یکساں طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ اس لیے یہ ملتِ اسلامیہ کے اتحاد و یگانگت کا مظہر ہے۔
جواب:
حج مبرور سے مراد "مقبول حج" ہے۔
جواب:
حج اور عمرے کے لیے اکٹھے احرام باندھنے کو "حجِ قران" کہتے ہیں۔
جواب:
عمرہ کا مفہوم: عمرہ کے لغوی معنی "زیارت" کے ہیں۔ شریعت کے اصطلاح میں میقاتِ کامل سے احرام باندھ کر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کو عمرہ کہتے ہیں۔
حج کا مفہوم: حج کے لغوی معنی عظیم چیز کا ارادہ کرنے کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں "خاص طریقے سے خاص وقت میں خاص شرائط کے ساتھ بیت اللہ کا ارادہ کرنے کو" حج کہتے ہیں۔
جواب:
حج کے انسانی زندگی پر دو اثرات:
1. حج سے ایک دوسرے کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
2. انسان کی روحانیت اور اسلامی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔
No short questions available for this section.