جواب:
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے، جو اس نے اپنے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیینﷺ پر اپنے مقرب فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے نازل فرمائی۔ قرآن مجید کے نزول کی ابتدا 27 رمضان المبارک "لیلۃ القدر" میں ہوئی۔ یہ وہ کتابِ ہدایت ہے جس میں قیامت تک آنے والے تمام جن و انس کے لیے ہدایت و رہنمائی موجود ہے۔
جواب:
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری اور عالم گیر کتاب ہے۔ جس طرح حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیینﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپﷺ کی رسالت تمام جہانوں کے لیے ہے، اسی طرح آپﷺ پر نازل ہونے والی کتاب بھی کسی خاص قوم یا وقت کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
جواب:
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہدِ خلافت میں جب مختلف قراءتوں اور لہجوں میں قرآن مجید کی تلاوت پر اختلاف پیدا ہوا تو انھوں نے ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نسخے کی مختلف نقلیں تیار کر کے مختلف صوبوں کو بھجوا دیں اور اس طرح سب مسلمانوں کو ایک قرآت پر متحد کر دیا۔
جواب:
[معذرت، اس سوال کا جواب فراہم کردہ متن میں موجود نہیں ہے۔ یہ سوال حدیث سے متعلق ہے جبکہ موجودہ متن میں صرف قرآن مجید کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔]
جواب:
جواب:
قرآن مجید کا ایک بڑا معجزہ یہ ہے کہ اس کی تلاوت کرنے والا اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اسے ہر لمحہ نئی لذت اور سرور حاصل ہوتا ہے۔
جواب:
جواب:
جواب:
قرآن مجید قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ اسی عالمگیر ضرورت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے قیامت تک اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔
جواب:
قرآن مجید کی عالم گیریت کا مطلب ہے کہ یہ کتاب تمام دنیا کے سب انسانوں کے لیے ہمیشہ کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
جواب:
قرآن مجید کے دو معجزے درج ذیل ہیں:
جواب:
نبی کریم خاتم النبیینﷺ کے دور میں قرآن مجید عموماً درج ذیل چیزوں پر لکھا جاتا تھا:
جواب:
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ خاتم النبیینﷺ کے دور میں وحی کی کتابت کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ اس کے علاوہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن کے مشہور قاری اور فقیہ بھی تھے۔
جواب:
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہدِ خلافت میں جب قرأتوں اور لہجوں میں اختلاف پیدا ہوا تو انھوں نے ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے موجود **نسخہ جمع کیا**، اس کی مختلف نقلیں تیار کرائیں اور مختلف صوبوں کو بھجوا دیں تاکہ امت مسلمہ ایک قرآت (لغتِ قریش) پر متحد ہو جائے۔
جواب:
قرآنِ حکیم کو اللہ تعالیٰ نے تئیس (23) سال کے عرصے میں حالات و واقعات اور ضرورت کے مطابق آہستہ آہستہ نازل فرمایا۔ اس میں درج ذیل حکمتیں پوشیدہ تھیں:
جواب:
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی درج ذیل عظیم خدمات کے سبب آپ کو جامع القرآن کہا جاتا ہے:
جواب:
حدیث سے مراد نبی کریم خاتم النبیینﷺ کی گفت گو اور عمل ہے۔ اس کی تین اقسام ہیں:
جواب:
دورِ نبوی خاتم النبیینﷺ میں حفاظتِ حدیث کے دو اہم ذرائع درج ذیل تھے:
جواب:
احادیث کے چھ مستند ترین مجموعوں کو صحاحِ ستہ کہا جاتا ہے۔ صحاحِ ستہ میں سے دو کتابوں کے نام درج ذیل ہیں:
جواب:
حدیث عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لفظی معنی بات اور گفت گو کے ہیں۔
جواب:
شرعی اصطلاح میں وہ قول، عمل، یا تقریر جس کی نسبت نبی کریم خاتم النبیینﷺ کی طرف ہو، حدیث کہلاتا ہے۔ یعنی:
جواب:
حضور اکرم خاتم النبیینﷺ کی احادیث مبارکہ، دین کی تعلیمات کا سرچشمہ، قرآن کی تشریح و تفسیر اور ہدایت کا ذریعہ ہیں۔
جواب:
رسول اللہ خاتم النبیینﷺ کی بعثت کا اہم ترین مقصد قرآن مجید کی تشریح و تفسیر کرنا اور اس کا عملی نمونہ (اسوہ حسنہ) فراہم کرنا ہے۔
جواب:
ترجمہ: **"اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اللہ خاتم النبیینﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال ضائع مت کرو۔"** (سورۃ محمد: 33)
جواب:
رزق حلال کے متعلق حضور اکرم خاتم النبیینﷺ کا ارشاد ہے: **"اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے (اعتدال کے ساتھ) روزی طلب کرو، کیوں کہ کوئی انسان اپنا رزق پورا کیے بغیر نہیں مرے گا اگرچہ اس (رزق کے حصول) میں دیر ہو جائے، چناں چہ اللہ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے روزی طلب کرو۔ جو حلال ہے وہ لے لو اور جو حرام ہے، وہ چھوڑ دو۔"**
جواب:
حدیث کے مطابق صلہ رحمی (رشتہ داروں سے اچھا سلوک) کرنے کے دو فائدے یہ ہیں:
جواب:
رسول اللہ خاتم النبیینﷺ نے کبیرہ گناہوں کے بارے میں فرمایا:
جواب:
حدیث کی رو سے غلاموں کے ساتھ درج ذیل سلوک کرنا چاہیے:
جواب:
جواب:
ترجمہ: "ہر مسلمان پر (دوسرے) مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔"
جواب:
آپ خاتم النبیینﷺ نے فرمایا: "تمھارے غلام تمھارے بھائی ہیں۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے تمھارے ماتحت رکھا ہے۔ چناں چہ جس شخص کا بھائی اس کا ماتحت ہو، اسے چاہیے کہ اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے اور اسے وہی لباس پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور ان سے وہ کام نہ لو جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو اور اگر ایسے کام کی انھیں زحمت دو تو خود بھی ان کا ہاتھ بٹاؤ۔"
جواب:
دورِ رسالت میں حفاظتِ حدیث کے تین بڑے ذرائع تھے:
جواب:
حضور اکرم خاتم النبیینﷺ نے بے علم فتویٰ دینے کی سخت مذمت فرمائی ہے۔ آپﷺ کا فرمان مبارک ہے:
ترجمہ: "جس شخص کو کسی نے علم کے بغیر فتویٰ دیا تو عمل کرنے والے کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہوگا اور جس نے اپنے بھائی کو کوئی ایسا مشورہ دیا جب کہ اسے علم تھا کہ بھلائی اس کے علاوہ ہے تو اس نے اس سے خیانت کی۔"
جواب:
حدیث قولی سے مراد نبی کریم خاتم النبیینﷺ کا فرمان یا قول ہے۔
جواب:
حدیث فعلی نبی کریم خاتم النبیینﷺ کے عمل کو کہا جاتا ہے۔
جواب:
حدیث تقریری سے مراد ہے کہ نبی کریم خاتم النبیینﷺ کے سامنے کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمل کیا ہو اور آپ خاتم النبیینﷺ نے اس پر خاموشی اختیار فرمائی ہو (جس کا مطلب اس کی تائید کرنا ہے)۔
جواب:
جس حدیث میں مفہوم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور الفاظ نبی کریم خاتم النبیینﷺ کے ہوں تو اس کو حدیث قدسی کہا جاتا ہے۔
جواب:
حدیث قولی، نبی کریم خاتم النبیینﷺ کے فرمان مبارک کو کہتے ہیں، جب کہ حدیث فعلی آپ خاتم النبیینﷺ کے عمل کو کہا جاتا ہے۔
جواب:
عہدِ رسالت میں احادیث مبارکہ کی کتابت اور تحریر کی دو شہادتیں درج ذیل ہیں:
جواب:
احادیث مبارکہ **عبادات، معاملات اور احکامات میں بنیادی حیثیت** رکھتی ہیں اور قیامت تک ان سے رہ نمائی لی جاتی رہے گی۔ اسی لیے دورِ رسالت اور دورِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اس کی حفاظت پر بھر پور زور دیا گیا اور احادیث مبارکہ کو باقاعدہ مدون کر دیا گیا۔
جواب:
نبی کریم خاتم النبیینﷺ کی احادیث مبارکہ کی جمع و تدوین کا آغاز عہدِ رسالت ہی میں شروع ہو گیا تھا۔
جواب:
دورِ رسالت میں حفاظتِ حدیث کے تین بڑے ذرائع تھے:
جواب:
نبی کریم خاتم النبیینﷺ نے حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کا والی بنا کر بھیجا تو انھیں صدقہ اور وراثت کے متعلق احکامات لکھوا کر دیے۔
جواب:
تابعین کے دور میں احادیث مبارکہ کی جمع و تدوین نے ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کر لی تھی۔ تابعین نے اس دور میں کئی کتب احادیث مرتب کیں جیسے کہ: موطا امام مالک۔ (نوٹ: بخاری، مسلم، جامع ترمذی اور سنن ابی داؤد بعد کے ادوار میں مرتب ہوئیں، نہ کہ عہدِ تابعین میں۔)
جواب:
احادیث کے چھ مستند ترین مجموعوں کو صحاح ستہ کہا جاتا ہے، جن میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم سب سے زیادہ مستند ہیں۔
جواب:
ترجمہ: "اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اللہ خاتم النبیینﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال ضائع مت کرو۔" (سورۃ محمد: 33)
جواب:
جو کوئی اللہ و آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے یہ تین کام کرنے چاہئیں:
جواب:
ترجمہ: "کوئی بھی مسلمان ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے، پھر اس میں سے پرندہ یا انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے۔"
جواب:
عہدِ رسالت میں مرتب ہونے والے دو مجموعہ احادیث درج ذیل ہیں:
جواب:
حدیث کے مطابق اگر کسی ملک یا شہر میں طاعون پھیل جائے تو وہاں نہیں جانا چاہیے اور وہاں کے باشندوں کو وہاں سے نکل کر کسی دوسری جگہ نہیں جانا چاہیے۔
جواب:
حدیث مبارکہ میں دو کمزوروں یتیم اور عورت کی حق تلفی کرنے کو حرام ٹھہرایا گیا ہے۔
جواب:
حدیث مبارکہ کے مطابق رشوت دینے والے (راشی) اور رشوت لینے والے (مرتشی) پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔
جواب:
راشی سے مراد رشوت دینے والا ہے اور مرتشی سے مراد رشوت لینے والا ہے۔
جواب:
عربی متن: اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِیَارُهُمْ خِیَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ (مسند احمد: 9153)
ترجمہ: مومنوں میں سے کامل ترین ایمان والا وہ ہے جو اپنے اخلاق میں بہترین ہے، اور ان میں سب سے بہتر وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے بہتر ہیں۔
جواب:
عربی متن: مَنْ لَّمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَیَعْرِفْ حَقَّ کَبِیْرِنَا فَلَیْسَ مِنَّا۔ (سنن ابی داؤد: 4943)
ترجمہ: جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا، اور ہمارے بڑوں کا حق نہیں پہچانتا وہ ہم میں سے نہیں۔
جواب:
عربی متن: أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، فَإِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ رِزْقَهَا وَإِنْ أَبْطَأَ عَنْهَا فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، خُذُوا مَا حَلَّ، وَدَعُوا مَا حَرُمَ (سنن ابن ماجہ: 2144)
ترجمہ: اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے (اعتدال کے ساتھ) روزی طلب کرو، کیوں کہ کوئی انسان اپنا رزق پورا کیے بغیر نہیں مرے گا اگرچہ اس (رزق کے حصول) میں دیر ہو جائے، چناں چہ اللہ سے ڈرو اور اللہ سے اچھے طریقے سے روزی طلب کرو۔ **جو حلال ہے، وہ لے لو اور جو حرام ہے، وہ چھوڑ دو**۔
جواب:
عربی متن: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ (صحیح مسلم: 88)
ترجمہ: جو چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت کی جائے اور اس کی عمر لمبی ہو تو وہ صلہ رحمی (اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک) کرے۔
جواب:
عربی متن: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَبَائِرِ، قَالَ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَقَوْلُ الزُّورِ (صحیح مسلم: 88)
ترجمہ: رسول اللہ خاتم النبیینﷺ نے کبیرہ گناہوں کے بارے میں فرمایا:
جواب:
عربی متن: إِنَّ إِخْوَانَكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ، فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَأَعِينُوهُمْ (صحیح بخاری: 2545)
ترجمہ: تمھارے غلام تمھارے بھائی ہیں، انھیں اللہ تعالیٰ نے تمھارے ماتحت رکھا ہے، چناں چہ جس شخص کا بھائی اس کے ماتحت ہو، اسے چاہیے کہ اسے **وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے** اور اسے **وہی لباس پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے** اور ان سے وہ کام نہ لو جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو اور اگر ایسے کام کی انھیں زحمت دو تو **خود بھی ان کا ہاتھ بٹاؤ**۔
جواب:
عربی متن: مَنْ أَفْتَى بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ، وَمَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِأَمْرٍ يَعْلَمُ أَنَّ الرُّشْدَ فِي غَيْرِهِ فَقَدْ خَانَهُ (سنن ابی داؤد: 3657)
ترجمہ: جس شخص کو کسی نے **علم کے بغیر فتویٰ دیا** تو عمل کرنے والے کا گناہ **فتویٰ دینے والے پر** ہوگا اور جس نے اپنے بھائی کو کوئی ایسا مشورہ دیا جب کہ اسے علم تھا کہ بھلائی اس کے علاوہ ہے تو اس نے اس سے **خیانت** کی۔
جواب:
عربی متن: اَلْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ (صحیح مسلم: 37)
ترجمہ: حیا سے ہمیشہ بھلائی پیدا ہوتی ہے۔
جواب:
عربی متن: اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا۔ (سنن ابن ماجہ: 925)
ترجمہ: اے اللہ! بے شک میں تجھ سے فائدہ دینے والا علم، حلال روزی اور قبولیت والا عمل مانگتا ہوں۔
جواب:
عربی متن: كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ۔ (صحیح مسلم: 2564)
ترجمہ: ہر مسلمان پر (دوسرے) مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔
جواب:
عربی متن: بَقِيَّةُ رِجْزٍ، أَوْ عَذَابٍ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا وَإِذَا وَقَعَ تَلْهِطُوا عَلَيْهَا۔ (جامع ترمذی: 1025)
ترجمہ: یہ اس عذاب کا بچا ہوا حصہ ہے، جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا گیا تھا۔ جب کسی زمین (ملک یا شہر) میں طاعون ہو جہاں پر تم رہ رہے ہو تو وہاں سے نہ نکلو اور جب وہ کسی ایسی سرزمین میں پھیلا ہو جہاں تم نہ رہتے ہو تو وہاں نہ جاؤ۔
جواب:
عربی متن: فَيَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ، وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَيَكْرَهُ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ (صحیح مسلم: 1715)
ترجمہ: وہ (اللہ) تمھارے لیے پسند کرتا ہے کہ تم
جواب:
عربی متن: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ (صحیح بخاری: 2320)
ترجمہ: کوئی بھی مسلمان جو ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے، پھر اس میں سے پرندہ یا انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں وہ **اس کی طرف سے صدقہ** ہے۔
جواب:
عربی متن: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ (صحیح بخاری: 6018)
ترجمہ: جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ:
جواب:
عربی متن: الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ (صحیح مسلم: 2564)
ترجمہ: مسلمان (دوسرے) مسلمان کا بھائی ہے،
جواب:
عربی متن: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ: الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ۔ (سنن ابن ماجہ: 3678)
ترجمہ: اے اللہ! میں (لوگوں کو) دو کمزوروں یتیم اور عورت کی حق تلفی کرنا (تاکید کے ساتھ) حرام ٹھہراتا ہوں۔
جواب:
عربی متن: مَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَخُذُوهُ وَ مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا۔ (سنن ابن ماجہ: 01)
ترجمہ: جس کام کا میں تمھیں حکم دوں، اس پر عمل کرو اور جس سے منع کروں، اس سے باز رہو۔
جواب:
عربی متن: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ (صحیح مسلم: 2563)
ترجمہ: بدگمانی سے دور رہو کیوں کہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔
جواب:
عربی متن: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي (سنن ابن ماجہ: 2313)
ترجمہ: رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔
جواب:
عربی متن: إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ (صحیح مسلم: 817)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ **اس کتاب (قرآن مجید) کے ذریعے سے بہت سے لوگوں کو اونچا کرتا ہے** اور **بہتوں کو اس کے ذریعے سے نیچے گراتا ہے**۔
جواب:
الْمُغْنِيُّ: بے نیاز کر دینے والا۔ الْمُقْسِطُ: عدل و انصاف کرنے والا۔
جواب:
الضَّارُّ: نقصان کا مالک (نقصان پہنچانے والا)۔ الْبَدِيعُ: بے مثال موجد (نئے سرے سے پیدا کرنے والا)۔
جواب:
الْمُبْدِئُ: پہلی بار پیدا کرنے والا (آغاز کرنے والا)۔ الرَّشِيدُ: نیکی اور راستی کی طرف رہنمائی کرنے والا۔
جواب:
الْخَالِقُ: پیدا کرنے والا، خالق۔
جواب:
مَالِكُ الْمُلْكِ: سب سلطنت اور حکمرانی کا مالک۔
جواب:
الْقُدُّوسُ: پاک اور ہر عیب سے بے عیب۔
جواب:
الرَّشِيدُ: نیکی اور راستی کی طرف رہنمائی کرنے والا۔
جواب:
ترجمہ: "حیا سے ہمیشہ بھلائی پیدا ہوتی ہے۔"
جواب:
الْبَصِيرُ: سب کچھ دیکھنے والا۔ الْحَكِيمُ: حکمت و تدبر والا۔
جواب:
الْمَلِكُ: بادشاہ (حقیقی حاکم)۔ الْقُدُّوسُ: ہر عیب سے پاک۔
جواب:
النَّافِعُ: نفع کا مالک، نفع عطا کرنے والا۔
جواب:
الْمُقْسِطُ: عدل و انصاف کرنے والا۔
جواب:
الْعَزِيزُ: عزت اور غلبے والا۔
جواب:
الرَّحْمٰنُ: بہت مہربان، بڑا رحم کرنے والا۔
جواب:
الْغَنِيُّ: بے پرواہ و بے نیاز۔
جواب:
الْوَهَّابُ: بہت عطا فرمانے والا۔
جواب:
الصَّبُورُ: بہت زیادہ صبر کرنے والا، بہت زیادہ مہلت دینے والا۔
جواب:
السَّمِيعُ: بہت زیادہ سننے والا۔
جواب:
ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ: عظمت اور بزرگی والا۔
جواب:
الْقَابِضُ: روزی تنگ کرنے والا (روزی کو روکنے والا)۔